قرآنی آیات سے مدح صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین - ردِ…

قرآنی آیات سے مدح صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 6

’’ بہترین زمانہ وہ ہے جس میں میں مبعوث کیا گیا ہوں ۔پھر اس کے بعد آنے والے ‘ پھر ان کے بعد آنے والے ۔‘‘[متفق علیہ ؛ البخاری ۳؍۱۷۱؛ مسلم ۴؍۱۹۶۲۔ یہ حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی تعداد سے روایت کی گئی ہے؛ ان میں سے حضرت ابو ہریرہ؛حضرت عبد اللہِ بن مسعود ؛ حضرت عمران بن حصین ؛ حضرت عائشہ ؛ حضرت النعمان بن بشِیر ؛ حضرت بریدۃ اسلمی رضِی اللہ عنہم شامل ہیں . انظرِ: البخارِی: 3؍171 ؛ ِکتاب الشہاداتِ، باب لا یشہد علی شہادۃِ جور ِإذا شہِد ؛ مسلِم 4؍1962 ؛ کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضلِ الصحابۃِ ثم الذِین یلونہم؛ سننِ النسائِیِ [بِشرحِ السیوطِی]7؍17 کتاب الإیمانِ والنذورِ، باب الوفائِ بِالنذرِ؛ سننِ التِرمِذِیِ [بِتحقِیقِ عبدِ الرحمنِ محمد عثمان] 3؍339 ؛ کِتاب الفِتنِ، باب ما جاء فِی القرنِ الثالِث، سننِ أبِی داود 4؍297 ؛ ِکتاب السنۃِ، باب فِی فضلِ أصحابِ رسولِ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ سنن ابن ماجہ 2؍791؛ کتاب الحکامِ، باب کراہِیِ الشہادۃِ لِمن لم یستشہِد؛ ترتِیب مسندِ أبِی داود الطیالِسِیِ، تحقِیق الشیخِ أحمد عبد الرحمن البنا؛ ط. المنِیرِیۃِ بِالزاہریہِ، 1353؍1934 2؍198 199 ؛ کتاب الفضائِلِ، باب ما جاء فِی فضلِ القرونِ الأول؛ . المعارِف5؍209،]

محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی وہ چنے ہوئے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے منتخب کرلیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں ارشادفرماتے ہیں :

﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُودِ ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِِنْجِیلِ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوقِہٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَوَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا ﴾[الفتح ۲۹]۔

’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ؛ اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں کافروں پر بہت سخت ہیں ، آپس میں نہایت رحم دل ہیں ، تو انھیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں ، سجدے کرنے والے ہیں ، اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں ، ان کی شناخت ان کے چہروں میں (موجود) ہے، سجدے کرنے کے اثر سے۔ یہ ان کا وصف تورات میں ہے اور انجیل میں ان کا وصف اس کھیتی کی طرح ہے جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی، کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعے کافروں کو غصہ دلائے، اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے بڑی بخشش اور بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُم فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِیْ ارْتَضَی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا یَّعْبُدُوْنَنِی لَا یُشْرِکُوْنَ بِی شَیْئًا وَّمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْنَ ﴾ [النور ۵۵] 

’’تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالی وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا اوران کے خوف کو وہ امن امان سے بدل دے گا وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقیناً فاسق ہیں ۔‘‘

مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے نیکوکار اہل ایمان سے زمین میں خلافت عطا کیے جانے کا وعدہ فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ کبھی بھی اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ پس یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ایسے ہی خلافت عطا فرمائی جیسے ان سے پہلے لوگوں کو عطا فرمائی تھی۔ اور ان کے لیے دین اسلام کومضبوط و محکم کردیا؛ یہی وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے چن لیا تھا۔جیساکہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ﴾ [المائدہ ۳]

’’ اور میں نے تمہارے لیے دین اسلام کو پسندکر لیاہے ۔‘‘

[مذکورہ بالا آیت میں دیگر جن امور پر روشنی ڈالی گئی ہے‘وہ یہ ہیں ]:

۱۔ان کے لیے خوف کو امن سے بدل دیا ۔ ۲۔ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔

اس میں دیگر دو استدلال بھی ہیں : ۱۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے خلافت عطا کی ؛ وہ اہل ایمان اورنیک عمل کرنے والے تھے ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ان ہی لوگوں سے ہے کسی دوسرے سے نہیں ۔

۲۔ نیز یہ کہ ان تمام لوگوں کے گناہوں کی مغفرت کردی گئی ہے۔ اور ان کے لیے بہت بڑا اجر عظیم تیار کررکھا ہے ‘ اس لیے کہ یہ لوگ صحیح معنوں میں ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کیے ہیں ۔ یہ دونوں آیات صحابہ کرام کو شامل ہیں ۔

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ یہ صفات حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ادوار کے صحابہ پر منطبق ہوتی ہیں ۔ جنہوں نے آپ کی بیعت کی؛ وہ ان صفات سے بہرہ ور تھے۔ وہ امارت وخلافت سے بہرہ ور ہوئے، قوت و شوکت نے ان کے قدم چومے؛ خطرات کا ازالہ کر کے ملک میں امن و امان قائم کیا۔ فارس و روم کو زیر نگیں کیا، ان کی فتوحات کا سلسلہ شام و عراق مصر و مغرب و خراسان و آذر بائیجان اور افریقہ تک پہنچ گیا۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تواس کے بعد فتنہ پر دازی کا آغاز ہوا۔بلاد کفار میں فتوحات کا سلسلہ رک گیا اور رومی اور دوسرے لوگ اسلامی بلا دو امصار کو حریصانہ نگاہوں سے دیکھنے لگے۔حالانکہ اس سے قبل یہ لوگ ڈر کر رہتے تھے۔

صفحہ 2 از 6