فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 9

’’ اے لوگو! تم سے پہلے کئی قومیں ہلاک ہوئیں ، جب کوئی شریف چوری کرتا تو وہ لوگ اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو وہ لوگ اس پر حد جاری کرتے اور قسم ہے اللہ کی! اگر فاطمہ رضی اللہ عنہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی چوری کرتی تومیں ان کا ہاتھ بھی کاٹ ڈالتا۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الحدود ، باب اقامۃ الحدود علی الشریف والوضیع (حدیث: ۶۷۸۷، ۶۷۸۸)، صحیح مسلم، کتاب الحدود۔ باب قطع السارق الشریف وغیرہ، (حدیث:۱۶۸۸)۔ ]

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کے عزیز ترین فرد(سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ) کے بارے میں بیان فرمایاکہ اگر وہ بھی ایسا کام کرے جس کی وجہ سے حد واجب ہو جائے تو اس پر حد نافذ کی جائے گی۔[اسلام میں مسئلہ حدود میں ادنیٰ و اعلیٰ کے مابین کوئی امتیاز سرے سے موجود ہی نہیں ]۔ یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ اگر ایک شادی شدہ ہاشمی زنا کا مرتکب ہو گا تو اسے سنگسار کیا جائے گایہاں تک کہ وہ مرجائے ۔ اس پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے۔ اور اگر کسی کوظلم اور سرکشی کرتے ہوئے قتل کرے گا تو قصاص میں اسے بھی قتل کیا جائے گا؛ بھلے مقتول کا تعلق حبشہ سے ہو یا روم سے یا ترک سے یا دیلم سے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ سب مسلمانوں کا خون مساوی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘[سنن ابی داؤد۔ کتاب الجہاد، باب فی السریۃ ترد علی اھل العسکر (حدیث: ۲۷۵۱)۔]

پس ہاشمی اور غیر ہاشمی کا خون اس وقت برابر ہے جب وہ دونوں آزاد ہوں اور دونوں مسلمان ہوں ۔ اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے ۔ حق بجانب ہوتے ہوئے کسی ہاشمی یا غیر ہاشمی کے خون کے درمیان کو ئی فرق نہیں ۔تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے اپنے اہل خانہ کو خاص کرسکتے ہیں کہ جو ان کا خون بہائے گا اس پر اللہ تعالیٰ کا بہت سخت غضب ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے کسی بھی انسان کا ناحق خون بہانے سے منع کیا ہے؛ جب کسی کو حق کے ساتھ قتل کیا گیا ہو تو پھر اس کے قتل کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کا غضب کیونکر سخت ہوسکتا ہے؟ خواہ قتل ہونے والا ہاشمی ہو یا غیر ہاشمی ۔ اگر کسی کو ناحق قتل کیا جائے ؛ تو پھر جو کوئی بھی کسی مؤمن کو جان بوجھ قتل کردے ؛ تو بدلے میں اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا؛ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا؛ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا اور لعنت ہوئی ؛ اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کررکھا ہے۔خون کی حفاظت کرنے والا اسے مباح سمجھنے والا اس میں ہاشمی اور غیر ہاشمی برابر ہیں ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسا کلام منسوب کرنے والا یا تو منافق ہوسکتا ہے جو آپ کی ذات پر قدح کرنا چاہتا ہو یا پھر کوئی جاہل ہوسکتا ہے جو اس عدل کو نہ جانتا ہو جو عدل دیکر اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا تھا۔

[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے اہل بیت میں تکلیف دینا]

ایسے ہی رافضی کا قول : ’’ جس نے مجھے میرے اہل بیت میں تکلیف دی ۔‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے اہل بیت یا حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم یا آپ کی سنت میں سے کسی کی توہین کرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینا کبیرہ گناہ ہے۔


صفحہ 9 از 9