فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 9

منجنیق تو وہاں پر استعمال کی جاتی ہے؛ جہاں اس کے بغیر کام نہ ہوسکتا ہو۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف پر منجنیق سے سنگ باری کی تھی۔ یہ اس وقت ہوا جب وہ لوگ قلعہ میں داخل ہوکر قلعہ بند ہوگئے تھے۔ اور جن لوگوں نے ابن زبیر کا محاصرہ کیا تھا؛اور آپ نے اپنے ساتھیوں سمیت مسجد الحرام میں پناہ لے لی تھی؛ تو انہوں نے ان حضرات پر منجنیق استعمال کی تھی؛ کیونکہ وہ اس کے بغیر ان حضرات پر قابو نہیں پاسکتے تھے۔ پھر جب حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ شہید کردیے گئے تو یہ لوگ مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ بیت اللہ کا طواف کیا ۔ اس سال حجاج بن یوسف نے لوگوں کے ساتھ [بطور امیر حج] حج کیا ۔ اسے عبد الملک نے حکم دیا تھا کہ حج کے معاملات میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مخالفت نہ کرے۔

اگر ان لوگوں کاارادہ کعبۃ اللہ کے ساتھ برائی کا ہوتا تو جب انہیں قدرت حاصل ہوگئی تھی تو پھر وہ ایسا کر گزرتے ۔ جیسے ابن زبیر رضی اللہ عنہما پر قابو پاکر انہیں قتل کردیا گیا ۔

[قاتلین حسین رضی اللہ عنہ اور اہل سنت کا موقف]:

[اشکال ]:شیعہ مصنف کی پیش کردہ حدیث کہ ’’ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل آگ کے ایک صندوق میں ہوگا اور اسے تمام اہل جہنم سے آدھا عذاب ہو رہا ہوگا۔اور اس کے ہاتھ اور پاؤں آگ کی زنجیروں سے باندھ دیے گئے ہوں گے؛ یہاں تک کہ اسے جہنم کے ایسے انتہائی گہرے گڑھے میں ڈال دیا جائے گا اس کے عذاب اور بدبو سے جہنمی میں بھی اپنے رب سے پناہ مانگ رہے ہوں گے۔وہ ہمیشہ ہمیشہ اس دردناک عذاب میں مبتلا رہے گا....الخ۔‘‘[انتہی کلام الرافضی] 

[جواب]:یہ ایسے شخص کا بیان کردہ جھوٹ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دروغ گوئی سے شرماتا نہ ہو۔ پھر اس پر یہ اضافہ کہ قاتل حسین رضی اللہ عنہ کو سب اہل جہنم سے آدھا عذاب دیا جائے گا۔کیا جہنم کے عذاب کے آدھا ہونے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ؟ اب سوال یہ ہے کہ پھر آل فرعون؛ آل مائدہ ؛ اور باقی سارے منافقین اور کفار کے لیے کیا باقی رہا؟ اور قاتلین انبیاء علیہم السلام سابقین اولین کے قاتلین کے لیے کیا باقی رہا؟ خصوصاً جب کہ حضرت عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنہم کا قاتل حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قاتل سے بھی بڑے مجرم ہیں ۔[مشہورشیعہ علی بن مظاہر واسطی نے شیخ الشیعہ احمد بن اسحاق بن عبد اﷲ بن سعد القمّی الاحوص سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن عید اکبر کا دن ہے اور شیعہ اس دن کو یوم المفاخرہ و یوم البرکۃ و یوم الزکوٰۃ و یوم التسلیۃ اور یوم مسرت کے ناموں سے یاد کرتے ہیں ۔ احمد بن اسحاق مذکور نے اس عید کا اختراع کیا تھا۔ شیعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قاتل ابو لؤلؤ مجوسی کو ’’ بابا شجاع الدین‘‘ کے لقب سے ملقب کرتے ہیں اور آپ کے یوم شہادت کو ’’ عید بابا شجاع الدین‘‘ سے موسوم کرتے ہیں ۔(تحفہ اثنا عشریہ شاہ عبد العزیز دہلوی،ص:۲۰۸۔۲۰۹) ]

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قاتل حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قاتل سے بڑا گہنگار ہے۔ روافض کا یہ غلو نواصب کے اس قول سے بڑی حد تک ملتا جلتا ہے جن کا عقیدہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ خوارج میں سے تھے اور انھوں نے ملت کے شیرازہ کو منتشر کرنا چاہا۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ ذیل حدیث کی بنا پروہ مباح الدم تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :’’ جو شخص آکر تم میں تفریق پیدا کرنا چاہے؛ اورتمہارا معاملہ ایک انسان کے ہاتھ میں ہو تو اسے قتل کردو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔‘‘[صحیح مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب حکم من فرق امر المسلمین و ھو مجتمع (ح:۱۸۵۲)۔]

اہل سنت والجماعت ان دونوں گروہوں کے غلو کو رد کرتے ہیں ۔ اہل سنت کہتے ہیں کہ: حضرت حسین رضی اللہ عنہ بحالت مظلومی شہید ہوئے اور آپ کے قاتل ستم ران اور ظالم ہیں ۔

وہ احادیث مبارکہ جن میں جماعت سے علیحدہ کرنے والے سے قتال کا حکم ہے؛ حضرت حسین رضی اللہ عنہ ان احادیث کا مصداق نہیں ہو سکتے اس لیے کہ آپ نے امت میں انتشار پیدا نہیں کیا تھا۔ آپ کو اس وقت شہید کیا گیاتھا، جب آپ واپس مدینہ جانے کے خواہاں تھے یا محاذ جنگ پر جانا چاہتے تھے ؛ یا پھر یزید کے ہاں تشریف لانا چاہتے تھے۔ آپ جماعت میں داخل تھے ۔ اور کسی طرح بھی امت میں تفریق نہیں پیدا کرناچاہتے تھے ۔ ایسا مطالبہ اگر کسی ادنی انسان کا بھی ہو تو اسے پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے؛ تو پھر حسین رضی اللہ عنہ جیسے انسان کی بات کیوں نہ مانی جاتی ؟ اور اگر حکومت کا طلب گار کوئی ادنی انسان بھی ہو تو پھر بھی اسے محبوس کرنا یا قید کرنا جائز نہ تھا؛ چہ جائے کہ آپ کو گرفتار کیا جاتا اورپھر قتل کردیا گیا۔

[اہل بیت کے خون سے متعلق روایت کی حقیقت ]

[اشکال ]: رافضی مصنف کا قول ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:’’ میرا اور اللہتعالیٰ کا شدید غضب اس شخص پر ہو گا جس نے میرے اہل کا خون بہایا اور میرے اہل بیت میں مجھے ستایا۔‘‘

[جواب]: ذکر کردہ حدیث صحیح نہیں ۔ایک جاہل انسان ہی ایسی روایت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کرنے کی جسارت کر سکتا ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے خون کی ایمان و تقویٰ کی بنا پر حفاظت وعصمت؛ صرف قرابت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بل بوتے سے بہت بڑھ کر ہے ۔اس لیے کہ اگربالفرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کوئی ایسا کام کرے جس کی وجہ سے اسے قتل کرنا یا اس کا ہاتھ کاٹنا جائز ہو تو باتفاق مسلمین ایسا کرنا جائز ہوگا۔ جیسے صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

صفحہ 8 از 9