فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 9

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’ تیری قوم کے لوگوں نے بیت اللہ کی بنیادوں کو کم کو دیا ہے اور اگر تیری قوم کے لوگوں نے شرک کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا تو جتنا انہوں نے اس میں سے چھوڑ دیا ہے میں اسے دوبارہ بنا دیتا ۔تو اگر میرے بعد تیری قوم اسے دوبارہ بنانے کا ارادہ کرے تو آؤ میں تمہیں دکھاؤں کہ انہوں نے اس کی تعمیر میں سے کیا چھوڑا ہے۔‘‘

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہ جگہ دکھائی جو کہ تقربیا سات ہاتھ تھی۔‘‘

یہ عبداللہ بن عبید کی حدیث ہے۔[صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر ۷۵۳]

اور اس پر ولید بن عطا نے یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:’’ میں بیت اللہ میں دو دروازے زمین کے ساتھ بنا دیتا ایک مشرق کی طرف اور ایک مغرب کی طرف۔ اور کیا تم جانتی ہو کہ تمہاری قوم کے لوگوں نے اس کے دروازے کو بلند کیوں کردیا تھا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’ تکبر اور غرور کی وجہ سے کہ بیت اللہ میں کوئی داخل نہ ہو سوائے ان لوگوں کے کہ جن کے لئے یہ چاہیں ۔ تو جب کوئی آدمی بیت اللہ میں داخل ہونے کو ارادہ کرتا تو وہ اسے بلاتے اور جب وہ داخل ہونے کے قرین ہوتا تو وہ اسے دھکا دیتے اور وہ گر پڑتا۔ عبدالملک نے حارث سے کہا :’’کیا تم نے یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ راوی کہتے ہیں کہ:’’ عبدالملک کچھ دیر اپنی لاٹھی سے زمین کریدتا رہا اور کہنے لگا کہ کاش کہ میں نے اس کی تعمیر کو اسی حال پر چھوڑ دیا ہوتا۔‘‘[صحیح مسلم:ج۲ : ح ۷۵۳] 

بخاری کی روایت میں ہے؛ یزید بن رومان کہتے ہیں :

’’ میں ابن زبیر کے پاس موجود تھا، جس وقت انہوں نے اس کو گرا کر بنایا اور حجر اسود کو اس میں داخل کیا۔ اور میں نے بنیاد ابراہیمی کے پتھر دیکھے، جو اونٹوں کی کوہان کی طرح تھے۔اور بیان کیا ہے کہ میں نے اندازہ کیا حجر اسود سے چھ گز یا اس کے قریب قریب تھا۔‘‘

میں کہتا ہوں : ابن عباس اور دوسری ایک کی رائے یہی تھی کہ اسے اسی طرح باقی رہنے دیا جائے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسے ہی باقی چھوڑا تھا۔ پھر جب حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ شہید کردیے گئے ؛ تو عبدالملک کی رائے یہ ہوئی کہ اسے دوبارہ اپنی پرانی ہئیت پر تعمیر کیا جائے۔ کیونکہ اس کا اعتقاد یہ تھا کہ جو کچھ ابن زبیر نے کیا ہے؛ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ لیکن جب اسے یہ حدیث پہنچی تو اس نے تمنا کی تہی کہ کاش اگروہ اسے اسی حالت پر چھوڑ دیتا۔ پھر جب رشید کی خلافت کا زمانہ تھا تو اس نے حضرت مالک بن انس رحمہما اللہ سے مشورہ لیا کہ ایسے ہی کیا جائے جیسے ابن زبیر نے کیا تھا؟ تو آپ نے مشورہ دیا کہ : ایسے نہ کیا جائے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے فعل کو ترجیح دیتے تھے۔

وہ تمام علماء اور حکمران جن کی جو بھی رائے تھی؛ وہ سبھی کعبہ مشرفہ کی تعظیم کرتے تھے۔ ان سب کا مقصد وہ کام تھا جو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک محبوب اور افضل ہو۔ ان میں سے کسی ایک کا بھی مقصد خانہ کعبہ کی اہانت کرنا نہیں تھا۔ اور جس کسی نے یہ کہا ہے کہ: اللہ کی مخلوق میں سے کسی ایک نے خانہ کعبہ پر منجنیق سے حملہ کیا ؛ یا وہاں پر گند پھینکی تو اس نے یقیناً جھوٹ بولا۔ ایسا تو نہ ہی عہد جاہلیت میں ہوا ہے؛ اور نہ ہی اسلام میں ۔ اور جو لوگ کفار تھے خانہ کعبہ کا احترام نہیں کرتے تھے؛ جیسے اصحاب الفیل اور قرامطہ [شیعہ] ؛وہ بھی ایسی کوئی حرکت نہیں کرسکے۔ تو پھر مسلمان کیسے کرسکتے ہیں جو کعبہ کی تعظیم اور احترام کرنے والے لوگ ہیں ۔

مزید برآں اگریہ تصور کر لیا جائے کہ۔ العیاذ باللہ ۔ کوئی خانہ کعبہ کی اہانت کا قصد رکھتا تھا؛ اوروہ ایسا کرنے پر قادر بھی تھا؛ تو پھر بھی اسے منجنیق سے پتھر برسانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ بلکہ اس کے بغیر بھی تخریب کاری کرنا اس کے لیے ممکن تھا۔ جیساکہ آخری زمانہ میں جب اللہ تعالیٰ کا ارادہ قیامت قائم کرنے کا ہوگا تو اس کے گھر کو تباہ کر دیا جائے گا۔

اورزمین سے اللہ تعالیٰ کے کلام کو اٹھالیا جائے گا۔ پس مصاحف اور دلوں میں قرآن باقی نہیں رہے گا۔اور ایک پاکیزہ ہوا چلے گی؛ جو ہر ایمان والے مرد اور عورت کی روح قبض کرلے گی؛ اس کے بعد زمین پر کوئی خیر اوربھلائی باقی نہیں رہے گی۔ جیسے صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ حبشہ سے ذو السویقین خانہ کعبہ کو تباہ کردے گا۔‘‘[البخاری ۲؍۱۴۸ ؛ کتاب الحج ؛ باب قول اللّٰہ تعالیٰ جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیاماً للناس ؛ باب ہدم الکعبۃ ؛ مسلم ۴؍ ۲۲۳۲ ؛ کتاب الفتن و أشراط الساعۃ ؛ باب لا تقوم الساعۃ حتی یمر الرجل بقبر الرجل....‘‘۔ ]

بخاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ؛ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’ گویا میں اس سیاہ آدمی کو دیکھ رہا ہوں جو کعبہ کے ایک ایک پتھر کو اکھاڑ پھینکے گا۔‘‘[البخاری ۲؍۱۴۹ ؛ کتاب الحج ؛ باب ھدم الکعبۃ ؛ المسند ۳؍ ۳۱۵ ۔]

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَ الْہَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ

(المائدۃ ۹۷) 

’’اللہ نے کعبہ کو، جو حرمت والا گھر ہے، لوگوں کے قیام کا باعث بنایا ہے اور حرمت والے مہینے کو اور قربانی کے جانوروں کو اور پٹوں (والے جانوروں ) کو۔‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اگر لوگ ایک سال بھی بیت اللہ کا حج ترک کردیں تو انہیں کبھی کوئی مہلت نہ دی جائے ۔‘‘اور فرمایا: ’’اگر تمام لوگ اس بات پر جمع ہو جائیں کہ بیت اللہ کا حج نہ کیا جائے تو آسمان زمین پر گر پڑے۔‘‘اور امام احمد رحمہ اللہ نے ’’المناسک ‘‘ میں بھی یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ اسی لیے امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد کے اصحاب میں سے بہت سارے فقہاء نے کہا ہے: ’’ہر سال حج کرنا فرض کفایہ ہے ۔‘‘

صفحہ 7 از 9