فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 9

اس سے پہلے بات یہ ہوئی کہ ایک عورت کے ہاتھ سے ایک چنگاڑی اڑ کر کعبہ کے پردوں پر جا گری جس سے کعبہ کا غلاف جل گیااور کچھ پتھر بھی پھٹ گئے۔پھر اس کے بعد عبد الملک نے حجاج بن یوسف کو حکم دیا کہ کعبہ کو دوبارہ اسی طرح تعمیر کیا جائے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا۔ سوائے اس کی بلندی کے ؛ اس کی بلندی کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے۔ اس وقت سے لیکر آج تک کعبۃ اللہ ویسے ہی ہے ۔

یہ مسئلہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔ابن زبیر اور ان کے موافقین سلف صالحین کی رائے تھی کہ خانہ کعبہ کو دوبارہ اس طرح سے تعمیر کیا جائے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اظہار کیا تھا؛ آپ نے فرمایا:

’’اگر تمہاری قوم سے جاہلیت کا زمانہ قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو منہدم کردیتا اور اسے ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر کرتا۔بیشک جب تعمیر کعبہ کے وقت قریش کے پاس خرچہ کم پڑ گیا تو انہوں نے اسے کم کردیا اور اس کی پچھلی جانب بھی ایک دروازہ بنا دیتا۔‘‘[ صحیح بخاری:ج۱:ح:۱۵۲۲]

اور ایک دوسری روایت میں آپ فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اگر تیری قوم کے لوگوں نے کفر نیا نیا چھوڑا نہ ہوتا تو میں کعبہ کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا؛ اور اس کا دروازہ زمین سے ملا دیتا ؛ اور حطیم کو اس میں شامل کردیتا ۔‘‘[البخاری ۲؍۱۴۶ ؛ کتاب الحج چباب فضل مکۃ و بنیانہا ؛ و مسلم ۲؍۹۶۸؛ کتاب الحج باب نقض الکعبۃ و بنائہا۔ و سنن النسائی ۵؍۱۶۹ ؛ کتاب مناسک الحج باب بناء الکعبۃ ۔]

اور امام مسلم رحمہ اللہ اپنی صحیح میں حضرت عطا سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ :

’’ یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جس وقت کہ شام والوں نے مکہ والوں سے جنگ کی اور بیت اللہ جل گیا اور اس کے نتیجے میں جو ہونا تھا وہ ہوگیا؛ تو حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کو اسی حال میں چھوڑ دیا تاکہ حج کے موسم میں لوگ آئیں حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ وہ ان لوگوں کو شام والوں کے خلاف ابھاریں اور انہیں برانگیختہ کریں ۔ جب وہ لوگ واپس ہونے لگے تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اے لوگو! مجھے کعبۃ اللہ کے بارے میں مشورہ دو میں اسے توڑ کر دوبارہ بناؤں یا اس کی مرمت وغیرہ کروا دوں ۔‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ میری یہ رائے ہے کہ اس کا جو حصہ خراب ہوگیا اس کو درست کروا لیا جائے باقی بیت اللہ کو اسی طرح رہنے دیا جائے جس طرح کہ لوگوں کے زمانہ میں تھا۔ اور انہی پتھروں کو باقی رہنے دو کہ جن پر لوگ اسلام لائے اور جن پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ: ’’ اگر تم میں سے کسی کا گھر جل جائے تو وہ خوش نہیں ہوگا جب تک کہ اسے نیا نہ بنالے تو اپنے رب کے گھر کو کیوں نہ بنایا جائے؟ میں تین مرتبہ استخارہ کروں گا۔ پھر اس کام پر پختہ عزم کروں گا جب انہوں نے تین مرتبہ استخارہ کرلیا ۔تو انہوں نے اسے توڑنے کا ارادہ کیا تو لوگوں کو خطرہ پیدا ہوا کہ جو آدمی سب سے پہلے بیت اللہ کو توڑنے کے لئے اس پر چڑھے گا تو اس پر آسمان سے کوئی چیز بلا نازل نہ ہوجائے تو ایک آدمی اس پر چڑھا اور اس نے اس میں سے ایک پتھر گرایا تو جب لوگوں نے اس پر دیکھا کہ کوئی تکلیف نہیں پہنچی تو سب لوگوں نے اسے مل کو توڑ ڈالا؛ یہاں تک کہ اسے زمین کے برابر کردیا۔ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے چند ستون کھڑے کر کے اس پر پر دے ڈال دئیے یہاں تک کہ اس کی دیواریں بلند ہوگئیں ۔

اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’ اگر لوگوں نے کفر کو نیا نیا چھوڑا نہ ہوتا اور میرے پاس اس کی تعمیر کا خرچہ بھی نہیں ہے اگر میں دوبارہ بناتا تو حطیم میں سے پانچ ہاتھ جگہ بیت اللہ میں داخل کر دیتا اور اس میں ایک دروازہ ایسا بناتا کہ جس سے لوگ باہر نکلیں ۔‘‘

حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آج میرے پاس اس کا خرچہ بھی موجود ہے اور مجھے لوگوں کا ڈر بھی نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر نے حطیم میں سے پانچ ہاتھ جگہ بیت اللہ میں زیادہ کر دی یہاں تک کہ اس جگہ سے اس کی بنیاد ظاہر ہوئی حضرت ابراہیم علیہ السلام والی بنیاد؛ جسے لوگوں نے دیکھا۔ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس بنیاد پر دیوار کی تعمیر شروع کرادی اس طرح بیت اللہ لمبائی میں اٹھارہ ہاتھ ہوگیا۔ جب اس میں زیادتی کی تو اس کا طول کم معلوم ہونے لگا پھر اس کے طول میں دس ہاتھ زیادتی کی اور اس کے دو دروازے بنائے کہ ایک دروازہ سے داخل ہوں اور دوسرے دروازے سے باہر نکلا جائے۔ تو جب حضرت زبیر رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے تو حجاج نے جواباً عبدالملک بن مروان کو اس کی خبر دی اور لکھا کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کعبہ کی جو تعمیر کی ہے وہ ان بنیادوں کے مطابق ہے جنہیں مکہ کے باعتماد لوگوں نے دیکھا ہے۔ تو عبدالملک نے جواباً حجاج کو لکھا کہ ہمیں حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے رد وبدل سے کوئی غرض نہیں انہوں نے طول میں جو اضافہ کیا ہے اسے رہنے دو؛ اور حطیم سے جو زائد جگہ بیت اللہ میں داخل کی ہے اسے واپس نکال دو اور اسے پہلی طرح دوبارہ بنا دو اور جو دروازہ انہوں نے کھولا ہے اسے بھی بند کر دو پھر حجاج نے بیت اللہ کو گرا کر دوبارہ پہلے کی طرح اسے بنا دیا۔‘‘[ صحیح مسلم: ج ۲:ح۷۵۲]

عبداللہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :’’حارث بن عبداللہ عبدالملک بن مروان کے دور خلافت میں ان کے پاس وفد لے کر گئے تو عبدالملک کہنے لگے کہ میرا خیال ہے کہ ابوخبیب یعنی ابن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنے بغیر روایت کرتے ہیں حارث کہنے لگے کہ نہیں بلکہ میں نے خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث سنی ہے عبدالملک کہنے لگا کہ تم نے جو سنا ہے اسے بیان کرو۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :

صفحہ 6 از 9