فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 9

یہ بات غلط ہے کہ یزید نے تمام اشراف مدینہ کو قتل کروا دیا تھا۔ مقتولوں کی جو تعداد دس ہزار بتائی جاتی ہے یہ بھی درست نہیں ۔ اس بات میں بھی صداقت کا کوئی عنصر شامل نہیں کہ خون مسجد نبوی[روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ] تک پہنچ گیا تھا۔ خون ریزی شہر سے باہر ہوئی تھی، مسجد میں نہیں مگر اس کا کیا علاج کہ شیعہ دروغ گوئی کے خوگر ہیں اور اگر کوئی بات سچی بھی ہو تو وہ اس میں جھوٹ کی آمیزش کر لیتے ہیں ۔کعبہ کو اللہ تعالیٰ نے شرف و عظمت بخشی ہے ۔اور اسے حرم قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسلام سے پہلے یا اسلام کے بعد کسی ایک کو بھی کعبہ کی بے حرمتی کرنے کی توفیق و قدرت نہیں دی۔ بلکہ جب ہاتھی والوں نے برائی کے ساتھ کعبہ کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ سزا دی جو کہ مشہور و معروف ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحَٰبِ الْفِیْلِ oاَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَہُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍo وَّ اَرْسَلَ عَلَیْہِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَ oتَرْمِیْہِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ oفَجَعَلَہُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُولٍ ﴾ [ الفیل]

’’کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ ۔کیا ان کے مکر کو بیکار نہیں کر دیا اور ان پر پرندوں کے جھنڈ پر جھنڈ بھیج دیئے۔ جو ان کو مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے۔پس انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰہُ لِلنَّاسِ سَوَآئَ نِ الْعَاکِفُ فِیْہِ وَ الْبَادِوَ مَنْ یُّرِدْ فِیْہِ بِاِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ﴾ [الحج ۲۵]

’’جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکنے لگے اور اس حرمت والی مسجد سے بھی جسے ہم نے تمام لوگوں کے لئے مساوی کر دیا ہے وہیں کے رہنے والے ہوں یا باہر کے ہوں جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں دین حق سے پھر جانے کا ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے ۔‘‘

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ اگر عدن کے آخری کونے پر کوئی انسان حرم میں الحاد کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔‘‘[ہو جائے تو تین شب و روز تک مدینہ کو اپنے لیے مباح سمجھو۔ اس میں جو مال ، اسلحہ یا خوراک ہو اس کا مالک لشکر ہوگا، تین شب و روز گزرنے کے بعد اس سے رک جاؤ، علی بن حسین زین العابدین کا ہرطرح خیال رکھو اور انھیں کوئی تکلیف نہ دو۔ انھوں نے بغاوت میں حصہ نہیں لیا۔ ان کا خط میرے پاس آچکا ہے۔‘‘ مسلم بن عقبہ بارہ ہزار جنگجو اشخاص کی معیت میں مدینہ پہنچا۔ یہ واقعہ حَرّہ واقم میں پیش آیا۔ مسلم نے ظلم و تعدی کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ اسی لیے اہل مدینہ اسے مُسرِف بن عقبہ کہا کرتے تھے۔ یہ ہے واقعہ حرہ کا پس منظر! جس کی تفصیل ہم نے دانستہ ایک شیعہ مورخ کی زبانی بیان کی ہے، یہ راوی و مورخ ابو مخنف ہے جو عبد الملک بن نوفل سے روایت کرتا ہے اور وہ بنو امیہ کے قاصد حبیب بن کرّہ سے نقل کرتا ہے۔(تاریخ طبری:۷؍۵۔۷) رواہ احمد في مسندہ مرفوعاً وموقوفاً]مسند أحمد طبع المعارف ۶؍۶۵ ؛ رقم۴۰۷۱ ؛ وقال الشیخ أحمد شاکر : إسنادہ صحیح ؛ والحدیث في مجمع الزوائد ۷؍۷۰ ؛ وقال : رواہ أحمد و أبو یعلی والبزار ۔ ورجال أحمد رجال الصحیح۔ ونقلہ ابن کثیر في التفسیر ۵؍۷۱۔]

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ لوگوں میں سب سے بڑے کافر قرامطی باطنی ہیں ۔ جنہوں نے حجاج کرام کو قتل کیا۔اور انہیں قتل کرکے بئر زمزم میں پھینک دیا ۔اور حجر اسود نکال کر لے گئے ۔ جو ایک عرصہ تک ان کے پاس رہا ۔ پھر واپس کردیا گیا۔[یہ واقعہ تین سو سولہ ہجری میں پیش آیا ۔عین حج کے دنوں میں قرامطی شیعہ نے بیت اللہ پر اس وقت حملہ کردیا جب لوگ حج کا طواف کرر ہے تھے ۔ تاریخ میں ہے کہ انہوں نے بیت اللہ میں دس ہزار حجاج کرام کو قتل کیا ؛ اور حجر اسود نکال کر لے گئے ۔ جو کہ بائیس سال تک ان کے پاس رہا ۔ آخرکار تین سو اڑتیس ہجری میں ایک معاہدہ کے تحت حجرہ اسود واپس کیا ‘ مگر اسے توڑ دیا گیا تھا۔موجود حجر اسودمیں اس کوجوڑنے کے نشانات کا بغور دیکھنے سے مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ۔ شیعہ کی جانب سے قتل حجاج اور پامالی حرمت کعبہ و حرم کا یہ پہلا واقعہ نہیں ؛ بلکہ اس قسم کے بیسوویں واقعات پیش آچکے ہیں ۔ اس کی تفصیل کتاب ’’ الحاد الخمینی في بلاد الحرمین ‘‘کے ترجمہ میں آرہی ہے۔ [دراوی جی ]]

اس طرح کے کچھ عبرت انگیز واقعات پیش آئے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے حجرہ اسود کو واپس کیا؛ حالانکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے بڑے کافر تھے۔ مگر اس کے باوجود ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ پر مسلط نہیں کیا ؛ بلکہ کعبہ ہمیشہ ہی قابل عزت اور عظمت والا رہا ہے ۔

جبکہ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے مسلمان بادشاہ اور ان کے نوابین میں سے کسی ایک نے بھی کبھی بھی کعبہ کی اہانت کا ارادہ نہیں کیا۔ اور نہ ہی یزید کے نائب نے ایسا کیا ہے۔اور نہ ہی عبد الملک کے نائب حجاج بن یوسف نے ایسا کیااور نہ ہی کسی اور نے ۔ بلکہ تمام مسلمان کعبہ کا احترام و تعظیم بجالاتے تھے۔ ان لوگوں کا مقصود حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کرنا تھا۔ اور منجنیق سے پتھر ان پر برسائے گئے تھے بیت اللہ پر نہیں ۔یزید نے کعبہ منہدم نہیں کیا؛اور اسے جلانے کا قصد بھی نہیں کیا تھا۔اورنہ ہی یزید کایہ کام تھا اور نہ ہی اس کے کسی نواب کا۔اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کعبہ کو منہدم کرکے اسے از سر نو پہلے سے بہتر تعمیر کیا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا۔[صحیح بخاری،کتاب الحج۔ باب فضل مکۃ و بنیانھا(حدیث:۱۵۸۶)، صحیح مسلم، کتاب الحج۔ باب نقض الکعبۃ و بنیانھا (حدیث:۴۰۲؍۱۳۳۳)۔]

صفحہ 5 از 9