فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 9

یزید نے جو کچھ اہل حرّہ[یزید بن معاویہ کے ایام خلافت ۶۳ ہجری میں حرہ واقم میں یہ مشہور واقعہ پیش آیا تھا] کے ساتھ کیا اس کا اصل واقعہ یہ ہے کہ جب اہل مدینہ نے اس کی بیعت توڑ دی اور اس کے نائبین کو مدینہ سے نکال کر ان کے اہل خانہ کو گھیر لیا۔ تو یزید نے اہل مدینہ کو پیہم پیغامات بھیج کر اطاعت کا مطالبہ کیا۔ مگر انھوں نے کچھ پروا نہ کی۔[قاری اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے متعدد داعی مدینہ میں موجود تھے، ان کے سرخیل عبداﷲ بن مطیع العدوی تھے۔ یہ داعی یزید پر طرح طرح کے بہتان لگا کر لوگوں کو اس کے خلاف بھڑکاتے رہتے تھے۔ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ابن مطیع کو راہ راست پر لانے کی بہت کوشش کی اور اسے سمجھایا کہ یزید کی بیعت توڑنا کوئی اچھا کام نہیں ہے بلکہ یہ عظیم غدر اور بے وفائی ہے۔ (البخاری کتاب الفتن۔ باب اذا قال عند قوم شیئاً ثم و خرج(ح:۷۱۱۱)، صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین (ح:۱۸۵۱) شہادت حق اور بندوں کی خیر خواہی کے اعتبار سے امام ابن الحنفیہ کا موقف بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے نقطۂ نظر سے کم نہیں ہے، جنھوں نے شیعی اکاذیب کی تردید کرتے ہوئے یہ سچی شہادت دی کہ آپ یزید کے ہاں اقامت گزیں رہ کر اچھی طرح اس کی سیرت و اخلاق کا بچشم خود ملاحظہ کر چکے ہیں ۔ آپ اس بات کے چشم دید گواہ ہیں کہ یزید پابند نماز، اعمال خیر کا حریص، متبع سنت (]چنانچہ یزید نے مسلم بن عقبہ مری کو مدینہ بھیجا اور اسے اہل مدینہ کو ڈرانے دھمکانے کا حکم دیا یہ بھی کہاکہ اگر وہ باز نہ آئیں تو ان سے جنگ آزما ہو؛ اورتین دن تک مدینہ کو پامال کرے۔ یہی وہ بات ہے جس پر لوگوں نے یزیدکے اس فعل کا انکار کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیاکہ : کیا یزید سے حدیث روایت کی جاسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ‘ اس کی کوئی کرامت نہیں ‘ یا یہ فرمایا : کیا یزید وہی نہیں ہے جس نے اہل مدینہ کے ساتھ کیا نہیں کیا ؟‘‘

[اور فقیہ تھا۔(البدایہ والنہایۃ:۸؍۲۳۳) مگر عبد اﷲ بن عمر اور امام ابن الحنفیہ کی شہادت حق فتنہ پردازی کے شور وشغب میں دب کر رہ گئی۔ مدینہ کی فضا اشاعت و دعایت کے شوروغل سے مسموم ہو گئی اور وہاں کے حکماء و علماء اور صلحاء جاہل اور شر پسند عوام کے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ اہل ہوی کا مقصد وحید فتنہ پردازی اور شرپسندی تھا۔ اندریں حالات یزید نے سخت غلطی یہ کی کہ امراء مدینہ کو یکے بعد دیگرے معزول کرتا چلا گیا ۔ چنانچہ عمر بن سعید بن العاص کو معزول کرکے اس کی جگہ ولید بن عتبہ کو مقرر کیا۔ پھر عبد اﷲ بن زبیر کی تدبیر سے متاثر ہو کر ولید کو معزول کرکے عثمان بن محمد بن ابی سفیان کو والی مدینہ مقرر کیا حالانکہ وہ اس منصب کے لیے موزوں نہ تھا۔ اسی دوران نعمان بن بشیر انصاری جو خود صحابی اور صحابی زادہ تھے ملک شام سے مدینہ پہنچے یہ اوّلین نومودلود تھے جو اسلام کے بعد انصار کے ہاں پیدا ہوئے، یہ دمشق کے قاضی اور بہترین خطیب تھے۔ مدینہ پہنچ کر انھوں نے انصار کو اطاعت امیر اور لزوم جماعت کی تلقین کی اور فتنہ بازی سے یہ کہہ کر ڈرایا کہ تم اہل شام کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ یزید نے ان کو فتنہ کے فرو کرنے کے لیے شام سے روانہ کیا تھا۔ عبد اﷲ بن مطیع نے نعمان بن بشیر کو مخاطب کرکے کہا :’’ نعمان! تم کس لیے ہماری شیرازہ بندی کو منتشر کرکے ہم میں فساد پیدا کر رہے ہو؟‘‘ یہ عجیب بات ہے کہ فتنہ پردازوں نے فتنہ کا نام اصلاح اور اس سے روکنے کا نام فساد مقرر کر رکھا تھا۔ یہ سن کر نعمان نے ابن مطیع کو جواباً کہا:’’ جس بات کی طرف آپ دعوت دے رہے ہیں اگر وہ پوری ہو گئی تو آپ دیکھیں گے کہ مدینہ میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہونگی اور لوگ شمشیر بکف بے دریغ ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتا ررہے ہونگے؛ آپ خچر پر سوار ہو کر عازم مکہ ہوں گے اور یہ انصار غریب شہر کی گلیوں ، مسجدوں اور اپنے گھروں کے دروازہ پر مقتول پڑے ہوں گے۔(تاریخ طبری:۷؍۴،۵، مطبع حسینیہ)۔شیعہ کا مشہور راوی اور مؤرخ ابو مخنف لوط بن یحییٰ کہتا ہے :’’ لوگوں نے نعمان کی بات نہ مانی ؛تو پھر جس طرح انھوں نے کہا تھا اسی طرح ہوا۔‘‘ نعمان بن بشیر کے نصائح کو ٹھکرانے کے بعد اہل مدینہ نے والی مدینہ عثمان بن محمد بن ابو سفیان کو نکال دیا۔ا علانیہ یزید کی بیعت توڑ ڈالی اور مدینہ میں جس قدر بنو امیہ اور ان کے ہم خیال قریش موجود تھے سب کا محاصرہ کرلیا۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی اور یہ سب مروان کے گھر میں جمع ہو گئے تھے، بنو امیہ نے یزید کے نام ایک خط لکھا۔ عبد الملک بن مروان یہ خط لے کر نکلا۔ حبیب بن کرہ بھی اس کے ہمراہ تھا۔ حبیب کا بیان ہے کہ عبد الملک نے یہ خط دے کر اسے کہا: میں تجھے چوبیس دن کی مہلت دیتا ہوں ، بارہ دن جانے کیلئے اور بارہ دن واپسی کے لیے چوبیس رات میں اسی جگہ بیٹھ کر تمہارا انتظار کروں گا۔‘‘ حبیب کا بیان ہے کہ وہ یزید کے یہاں آیا۔ یزید ایک بیماری کی وجہ سے اپنے پاؤں پانی سے لبریز ایک طشتری میں رکھے ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ یزید نقرس کے مرض میں مبتلا تھا۔ میں نے خط پیش کیا یزید نے خط پڑھ کر استشہاد کے طور پر یہ شعر پڑھا: لَقَدْ بَدَّلُوا الْحِلْمَ الَّذِیْ مِنْ سَجِیَّتِیْ فَبَدَّلْتُ قَوْمِیْ غِلْظَۃً بِلَیَانٖ ’’ علم و تحمل جو میری فطرت میں داخل تھا۔ لوگوں نے اسے بدل دیا اور میں نے اپنی قوم کے لیے اپنی نرمی کو سختی میں تبدیل کردیا۔‘‘ یزید نے اپنے ایک فوجی سپہ سالار مسلم بن عقبہ المری کو بلایا۔ مسلم بن عقبہ بڑا معمر، کمزور اور بیمار تھا، یزید نے اسے مدینہ جانے کا حکم دیا اور کہا تین شب و روز اہل مدینہ کو صلح کی دعوت دو،اگر وہ قبول کرلیں تو بہتر ورنہ ان سے جنگ کیجیے۔ جب اہل مدینہ پر غلبہ حاصل (]

صفحہ 4 از 9