فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 9

اس آیت کریمہ کا تقاضا ہے کہ یہ گناہ لعنت اور عذاب کا سبب ہے۔لیکن کبھی یہ سبب اس سے ٹکرانے والے راجح سبب کی وجہ سے ختم ہوسکتا ہے؛ جیسے توبہ ؛ گناہ مٹانے والی نیکیاں ؛ کفارہ بننے والی مصیبتیں وغیرہ۔ تو کسی انسان کو یہ علم کیسے حاصل ہوگا کہ یزید یا کسی دوسرے ظالم نے اس گناہ سے توبہ نہیں کی؟ یا پھر اس کی کوئی ایسی نیکیاں نہیں تھیں جو اس ظلم کے گناہ کو مٹا دیں ؟ یا اس پر ایسے مصائب نہیں آئے جو اس کے گناہوں کا کفارہ بن سکیں ۔ یا پھر اللہ تعالیٰ اس کا یہ گناہ معاف نہیں کریں گے؛ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے:

﴿اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ﴾ (النساء۳۸)

’’بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور وہ بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا ۔‘‘

صحیح بخاری میں ثابت ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’جو پہلا لشکر قسطنطنیہ پر حملہ کرے گا؛ وہ بخشا ہوا ہے ۔‘‘[في البخاري ۴؍۴۲ ؛ کتاب الجہاد والسیر ؛ باب ما قیل في قتال الروم ؛ونص الحدیث : أول جیش من أمتي یغزون البحر۔]

وہ پہلا لشکر جس نے یہ غزوہ کیا؛ اس کا امیر یزید تھا۔ لشکر کا لفظ ایک متعین عدد پر بولا جاتا ہے؛ مطلق نہیں ہوتا۔ اور اس لشکر میں موجود کسی ایک فرد کو مغفرت کا شامل ہونا اس میں موجود ہر ایک ظالم کولعنت کے شامل ہونے سے زیادہ قوی ہے۔ کیونکہ یہ ایک خاص معاملہ ہے۔ جبکہ جیش یعنی لشکر کے لوگ متعین ہیں ۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یزید نے غزوہ قسطنطنیہ اسی حدیث کی وجہ سے کیا تھا۔ اور ہم یہ بات جانتے ہیں کہ اکثر مسلمان کسی نہ کسی طرح ظالم ہوتے ہی ہیں ۔ اگر یہ دروازہ کھول دیا جائے تو اکثر مسلمان مردوں پر لعنت کرنے کی راہیں وا ہو جائیں گی ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مردوں کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا ہے؛ ان پر لعنت کرنے کا حکم نہیں دیا ۔‘‘

پھر مردوں پر لعنت کرنے کا مسئلہ ؛ زندوں پر لعنت کی نسبت بہت ہی زیادہ خطرناک ہے۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی ممانعت ثابت ہے؛ آپ نے ارشاد فرمایا:’’ مردوں کو برا بھلا نہ کہو؛ بیشک وہ اپنے اعمال تک پہنچ چکے ہیں ۔‘‘[البخاری ۲؍۱۰۴؛ کتاب الجنائز ؛ باب ما ینہی عن سب الأموات ؛ سنن النسائی ۴؍ ۴۳ ؛ کتاب الجنائز ؛ باب نہی عن سب الأموات ؛ سنن الدارمي ۲؍۲۳۹ ؛ کتاب السیر؛ باب النہی عن سب الأموات ۔]

دوسرے پر یزید کے ظلم سے بڑے ظلم کئے ہیں ۔

اگریہ کہا جائے کہ :اس کے موجب بنی ہاشم میں سے علوی اور عباسی اور دیگر ان اہل ایمان لوگوں پر لعنت کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مراد ہیں [تو یہ ایک علیحدہ معاملہ ہے] ۔

جہاں تک ابو الفرج ابن جوزی کا تعلق ہے کہ اس نے اپنی کتاب میں یزید پر لعنت کو مباح کہا ہے؛ تو اس پر شیخ عبد المغیث الحربی نے رد کیا ہے؛ اور کہا کہ: بلاشبہ آپ ایسا کرنے سے منع کیا کرتے تھے۔ اور یہ بھی کیا گیا ہے کہ جب خلیفہ ناصر کو اطلاع ملی کہ شیخ عبدالمغیث ایسا کرنے سے منع کرتے ہیں ؛ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا؛ اور اس بارے میں سوال کیا؛ تو شیخ کو پتہ چل گیا کہ یہ سوال کرنے والا خلیفہ ہے؛ لیکن اس نے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ انہیں اس کے خلیفہ ہونے کا علم ہوگیا ہے۔ تو انہوں نے کہا: ’’اے انسان ! میرا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی زبانوں کو مسلمان خلفاء اور حکمرانوں پر لعنت کرنے سے روکا جائے۔ اگرایسا نہ کریں ؛ اور یہ دروازہ کھول دیں تو ہمارے وقت کا خلیفہ لعنت کا زیادہ حق دار ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایسے ایسے برے کام کرتا ہے جو یزید کی برائی سے زیادہ قبیح ہیں ۔ حتی کہ خلیفہ نے کہا: شیخ محترم ! میرے لیے دعا کرنا؛ اور خود چلا گیا۔[یہ واقعہ ابن رجب حنبلی نے ’’الذیل فی طبقات الحنابلہ ۱؍۳۵۶ میں عبدالمغیث الحربی کے سوانح میں ذکر کیا ہے ۔ اور جس کتاب کی طرف ابن تیمیہ نے اشارہ کیا ہے ؛جو ابن جوزی نے عبدالمغیث کے رد میں لکھی ہے؛ اس کا نام ہے:’’ الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید۔‘‘مزید دیکھیں : شذرات الذہب ۴؍۲۷۵ ؛ البدایہ و النہایہ ۱۲؍ ۳۲۸۔ امام ابن کثیر لکھتے ہیں : ’’اس کی ایک کتاب یزید کے فضائل کے بارے میں ہے؛ جس میں اس نے بڑی عجیب و غریب باتیں لکھی ہیں ۔ ]

یزید اور اہل حرہ کا واقعہ :

صفحہ 3 از 9