فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 9

٭ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سود کھانے والے پر ؛ کھلانے والے پر ؛ اس کی تحریر لکھنے والے پر اور اس کے لیے گواہ بننے والے پر لعنت کرے ۔‘‘[البخاری ۷؍ ۱۶۹ ؛ کتاب اللباس ؛ من لعن المصور؛ مسلم۳؍۱۲۱۹؛ کتاب المساقاۃ ؛ باب لعن آکل الرباء و موکلہ ؛ سنن أبي داؤد ۲؍۳۰۷؛ کتاب البیوع ؛ باب لعن آکل الربا و موکلہ؛ سنن الترمذي ۲؍۲۹۴ ؛ کتاب البیوع باب ماجاء في آکل الربا۔ سنن ابن ماجۃ ۲؍۷۶۴۔]

٭ نیزفرمایا:’’ حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے ان پر اللہ کی لعنت ہو۔‘‘[سنن أبي داؤد ۳؍۴۴۵؛ کتاب النکاح ؛ باب في التحلیل ؛ سنن الترمذي ۲؍ ۲۹۴ ؛ کتاب النکاح ؛ باب جاء في المحلل و المحلل لہ ۔ سنن ابن ماجۃ ۱؍ ۶۲۲ ؛ کتاب النکاح ؛ باب المحلل....۔ ]

٭ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ’’شراب پر ؛شراب بنانے والے پر ؛جس کے لیے بنائی جائے اس پر ؛ جو اٹھا کر لے جائے ؛ جس کیلئے اٹھا کر لے جائے؛ شراب پینے اور پلانے والے پر اور اسکی قیمت کھانے والے پر اللہ لعنت کی ہو ۔‘‘[سنن أبي داؤد۳؍۴۴۵؛ کتاب الأشربۃ باب العنب یعصر للخمر۔ صحیح؍ الألباني۔]

[متعین فاسق پر لعنت کا مسئلہ :]

متعین فاسق پر لعنت کے بارے میں لوگوں کے مابین اختلاف ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ: ایسا کرنا جائز ہے۔ جیسا کہ ا ہل علم میں سے امام أحمد بن حنبل رحمہ اللہ کی ساتھیوں کی ایک جماعت کا کہنا ہے۔ جیسے ابو الفرج بن الجوزی وغیرہ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ: ایسا کرنا جائز نہیں ۔ جیسا کہ امام أحمد بن حنبل رحمہ اللہ کے ساتھیوں کی دوسری جماعت ابو بکر بن عبدالعزیز وغیرہ کا خیال ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ کا معروف قول متعین شخص پر لعنت کرنے سے احتراز ہے؛ جیسے حجاج بن یوسف اور اس کے امثال ۔ یہ کہ انسان کو اس فرمان الٰہی کے مطابق کہنا چاہیے:

﴿ اَ لَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ﴾ (ھود:۱۸)

’’آگاہ ہو جاؤ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘

یہ بھی صحیح بخاری کی حدیث میں ثابت ہے کہ عبد اللہ بن الحمار نامی ایک شخص مے نوش تھا؛ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جاتا ؛ اور اس پر کئی بار شراب کی حد قائم کی۔ایک بار آپ کے پاس لایا گیا؛ تو ایک آدمی نے کہا : اس پر لعنت ہو؛ کتنی بار اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیاہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اس پر لعنت نہ کرو؛بیشک یہ اللہ و رسول سے محبت رکھتا ہے۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الحدود، ح: ۶۷۸۰]

تو یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس متعین شخص پر لعنت کرنے سے منع فرمایا؛ جو کہ کثرت کے ساتھ شراب پیتا تھا ؛ اور آپ نے اس کی علت یہ بتائی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق طور پر شراب پینے والے پر لعنت کی ہے۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مطلق پر تو لعنت کرنا جائز ہے؛ مگر اس متعین پر لعنت کرنا جائز نہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہو۔

یہ بات تو معلوم شدہ ہے کہ ہر مؤمن لازمی طور پر اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ لیکن اسلام کا اظہار کرنے والوں میں منافق بھی تھے ۔ وہ لعنتی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں کرتے تھے۔اور جب ان میں سے کسی ایک کے حال کا علم ہوجائے تو اس پر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے؛ فرمان الٰہی ہے :

﴿ وَ لَا تُصَلِّ عَلٰٓی اَحَدٍمِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ ﴾ (التوبۃ ۸۳)

’’ اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس کا کبھی جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا ۔‘‘

اہل سنت و الجماعت میں سے جن لوگوں نے متعین فاسق پر لعنت کو جائز کہا ہے؛ ان کا کہنا ہے کہ یہ جائز ہے کہ ہم اس پر نماز جنازہ بھی پڑھیں ؛اور اس پر لعنت بھی کریں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ثواب کا بھی مستحق ہے؛ اور سزا کا بھی مستحق بھی ۔ اس پر نماز جنازہ اس کے ثواب کے مستحق ہونے کی وجہ سے پڑھی جائے گی؛ اور اس پر لعنت اس کے عقاب کے مستحق ہونے کی وجہ سے ہوگی۔ لعنت کا مطلب ہوتا ہے رحمت سے دوری؛ اس پر نماز جنازہ پڑھنا رحمت کا سبب ہے؛ پس ایک وجہ سے اس پر رحمت ہوگی؛ اور دوسری وجہ سے اسے رحمت سے دوری حاصل ہوگی۔

یہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ اور تمام اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے۔اور ان کے ساتھ کچھ کرامیہ ؛ مرجئہ اور شیعہ بھی شامل ہیں ۔ اور بہت سارے شیعہ امامیہ اور دیگر کا بھی مذہب ہے؛ جو کہتے ہیں : فاسق ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔ اور جو لوگ کہتے ہیں کہ: وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا؛ جیسے خوارج اور معتزلہ اور بعض شیعہ ؛ تو ان کے نزدیک ایک ہی شخص کے حق میں ثواب اور عقاب جمع نہیں ہوسکتے۔

اس بابت سنن نبویہ مشہور ہیں کہ کچھ لوگوں کو شفاعت کی بنا پر جہنم کی آگ سے نکالا جائے گا۔ اور وہ آدمی بھی نکالا جائے گا جس کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا۔ پس اس اصول کی بنیاد پرجو لوگ یزید اور اس کے امثال پر لعنت کو جائز کہتے ہیں ؛انہیں دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے: اول: یہ کہ وہ آدمی ان فاسق اور ظالموں میں سے تھا جن پر لعنت کرنا مباح ہے؛ اور وہ اسی پرمصر مرا ہے۔ دوم : یہ ان میں سے کسی ایک متعین پر لعنت کرنا جائز ہے۔ ان کے ساتھ اختلاف رکھنے والا ان دونوں مقدمات پر طعن کرتے ہیں ۔خصوصاً پہلے مقدمہ پر۔

جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان گرامی کا تعلق ہے :

﴿ اَ لَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ﴾ (ھود:۱۸)

’’آگاہ ہو جاؤ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘

یہ وعید کی طرح ایک عام آیت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے:

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْبَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہِمْ نَارًا وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًاo﴾ [النساء۱۰]

’’ بے شک جو لوگ یتیموں کے اموال ظلم سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں کھاتے اور وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘

صفحہ 2 از 9