فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 9

فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ

[اشکالات ]:شیعہ مصنف رقم طراز ہے:’’ اہل سنت کی ایک جماعت یزید کو خلیفہ نہ ماننے کے باوجود اس پر لعنت نہیں بھیجتی ؛ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یزید ظالم تھا؛ اس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا؛ اور آپ کے اہل خانہ کو گرفتار کیا۔حالانکہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:﴿ اَ لَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ﴾ (ھود:۱۸)

’’آگاہ ہو جاؤ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے ۔‘‘

حنابلہ کے شیوخ میں سے ابو الفرج ابن جوزی رحمہ اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ‘آپ فرماتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی : میں نے یحی بن زکریا رحمہم اللہ کے بدلہ میں ستر ہزار کو قتل کیا ۔ اور میں آپ کے نواسے کے بدلے میں انچاس کروڑ لوگوں کو قتل کروں گا۔ اور اہل سنت کے فضلاء میں سے سدّی رحمہ اللہ نے حکایت نقل کی ہے کہ : جب میں کربلا میں اترا تو میرے پاس تجارت کے لیے غلہ وغیرہ تھا۔ ہم نے ایک آدمی کے پاس پڑاؤ ڈالا اور اس کے ہاں شام کا کھانا کھایا ۔ہم قتل حسین رضی اللہ عنہ کے واقعہ کو یاد کرنے لگے ۔ ہم نے کہا: قتل حسین رضی اللہ عنہ میں جو کوئی بھی شریک ہوا تھاوہ انتہائی بری موت مرا ہے۔تو وہ آدمی کہنے لگا : تم سے بڑھ کر جھوٹا کوئی نہیں ۔ میں آپ کے قتل میں شریک تھا۔اور ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے آپ کو قتل کیا ؛ مجھے تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ آپ کہتے ہیں : جب رات کا آخری حصہ تھا تو ایک چیخنے والے نے چیخ لگائی ۔ ہم نے پوچھا : کیا ہوا؟ کہنے لگے : گھر والا آدمی چراغ کو ٹھیک کرنے کے لیے اٹھا تھا تو اس کی انگلی جل گئی ؛ پھر آگ اس کے جسم پر پھیل گئی اور وہ جل گیا۔سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں :اللہ کی قسم ! میں نے اسے دیکھا کہ وہ جل کر کوئلہ بن گیا تھا۔

مُہَنَّا بن یحی نامی ایک شخص نے حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے جب یزید کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: ’’ یزید نے جو کرنا تھا کیا۔‘‘میں نے کہا : اس نے کیا کیا ؟ آپ نے فرمایا: اس نے مدینہ کو پامال کیا۔ امام موصوف کے بیٹے صالح نے آپ سے دریافت کیا کہ بعض لوگ ہمیں یزید کی دوستی سے متہم کرتے ہیں ۔‘‘

امام احمد رحمہ اللہ نے جواباً فرمایا:’’ بیٹا جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ یزید کا دوست کب ہو سکتا ہے؟‘‘صالح نے کہا: ’’ تو پھر آپ یزید پر لعنت کیوں نہیں کرتے۔‘‘

امام احمد نے فرمایا:’’ جس پر اللہ نے لعنت کی ہے میں اس پر لعنت کیوں نہ بھیجوں ؟‘‘اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا اَرْحَامَکُمْ٭اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمْ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمْ وَاَعْمَی اَبْصَارَہُمْ ﴾ (محمد:۲۲۔۲۳)

’’بہت ممکن ہے اگر تم برسر اقتدار ہوئے تو زمین میں فساد برپا کرو گے اور باہمی تعلقات توڑ دو گے یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت بھیجی اور انھیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے۔‘‘

٭ اس سے بڑا فساد اور کیا ہو گا کہ یزید نے تین دن تک مدینہ کے شہر کو لوٹا۔ وہاں کے رہنے والوں کو قید کیا۔ سات سو قریش و انصاراور مہاجرین کے بڑے بڑے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ اورعام خواتین اور مردوں میں سے دس ہزار ایسے آدمیوں کو قتل کیاجن کے بارے میں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ آزاد تھے یا غلام ۔حتی کہ لوگ خون میں ڈوب گئے۔ یہاں تک کہ روضۂ رسول اور مسجد خون سے بھر گئے۔ پھر کعبہ پر منجنیق سے پتھر پھینک کر اسے منہدم کیا اور آگ لگا دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :’’ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل آگ کے ایک صندوق میں ہوگا اور اسے تمام اہل جہنم سے آدھا عذاب ہو رہا ہوگا۔اس کے ہاتھ اور پاؤں آگ کی زنجیروں سے باندھ دیے گئے ہوں گے۔ یہاں تک کہ اسے جہنم کے ایسے انتہائی گہرے گڑھے میں ڈال دیا جائے گاکہ اس کے عذاب اور بدبو سے جہنمی بھی اپنے رب سے پناہ مانگ رہے ہوں گے۔وہ ہمیشہ ہمیشہ اس دردناک عذاب میں مبتلا رہے گا۔جب بھی اس کی چمڑی جل کر ختم ہوجائے گی اللہ تعالیٰ اسے ایک دوسری چمڑی سے بدل دیں گے۔ تاکہ اسے خوب عذاب دیاجائے۔ اس عذاب سے اسے ایک پل کے لیے بھی نجات نہیں ملے گی۔ اور اسے جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔ اور اس کے لیے ہلاکت ہو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دردناک عذاب کی۔ آپ نے یہ بھی فرمایا:’’ میرا اور اللہ تعالیٰ کا شدید غضب اس شخص پر ہو گا جس نے میرے اہل کا خون بہایا اور میرے اہل بیت میں مجھے ستایا۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جوابات]: اس کا جواب یہ ہے کہ: یزید پر لعنت بھیجنے کے بارے میں شرعی حکم وہی ہے جو اس کے نظائر و امثال خلفاء و ملوک کے بارے میں ہے۔ بلکہ یزید مقابلتاً ان سے بہتر ہے۔ مثلاً یزید مختاربن ابو عبیدثقفی امیر عراق سے افضل ہے۔ جس نے قاتلین حسین رضی اللہ عنہ سے انتقام لیاتھا۔ مختار کا دعویٰ تھا کہ اس پر جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتا ہے۔ اسی طرح یزید حجاج کے مقابلہ میں بھی بہتر ہے۔حجاج کے یزید سے بڑے ظالم اور فاسق ہونے پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے۔ 

تاہم یزید اور اس کے امثال کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ فاسق تھے۔ اور کسی مخصوص فاسق پر لعنت کرنا شرعاً مامور نہیں ہے۔ البتہ سنت نبوی میں مختلف گروہوں پر لعنت کرنے کی اجازت ملتی ہے، مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

’’اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے ؛ وہ ایک انڈہ چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتاہے ۔

‘‘[البخاری ۸؍۱۵۹ ؛ کتاب الحدود باب لعن السارق إذا لم یسم ؛ ومسلم ۳؍۱۳۱۴ ؛ کتاب الحدود ؛ باب حد السرقۃ و نصابہا۔ سنن النسائی ۸؍ ۵۸ ؛ کتاب قطع السارق ؛ باب تعظیم السرقۃ۔]

ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا :

’’ جو انسان [دین میں] کوئی نئی چیز ایجاد کرے ؛ یا کسی بدعتی کو پناہ دے ‘اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔‘‘ [مسلم۳؍۱۳۱۴؛ کتاب الأضاحي ؛ باب تحریم الذبح لغیر اللہ تعالیٰ و لعن فاعلہ ؛ سنن النسائی ۷؍ ۲۰۴ ؛ کتاب الضحایا باب من ذبح لغیر اللّٰہ عزوجل۔]

صفحہ 1 از 9