واجب الاتباع مذہب کے بیان میں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واجب الاتباع مذہب کے بیان میں

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

’’یہودوہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا۔ اور عیسائی گمراہ ہیں ۔ یہود نے حق کو پہچانا مگر اس کی اتباع نہ کی ۔‘‘[سننِ التِرمِذِیِ 4؍271، ؛ کتاب تفسِیرِ القرآنِ، باب: ومِن سورِۃ فاتِحۃِ الکِتابِ؛ فِی المسندِ ط. الحلبِی 4؍378 ؛ وذکرہ الطبرِی فِی تفسِیرِ قولِہِ تعالی: غیرِ المغضوبِ علیہِم ولا الضالِین؛ وذکر رِوایات أخری، وقد خرجہا الشیخ أحمد شاکِر رحِمہ اللہ؛ وصحح ثرہا۔]

ترک اتباع کا سبب حسد و کبر؛ غلو اور خواہشات نفس کی پیروی تھی؛ اس لئے وہ مورد غضب الٰہی ہوئے۔ نصاریٰ حق کی معرفت حاصل نہ کر سکے ۔ وہ جو کچھ اخلاقیات ‘عبادات اور زہد کرتے ہیں ‘ اس کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں ۔بلکہ ان میں جہالت ؛ غلو‘ بدعات؛ اور شرک پایاجاتا ہے۔ اس لیے وہ جادہ مستقیم سے بھٹک گئے۔اگرچہ ان دونوں امتوں میں سرکشی اور بغاوت کا عنصر پایا جاتا ہے ؛ تاہم یہود میں یہ عنصر زیادہ غالب ہے۔ اورگمراہی نصاری پر غالب ہے ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی صفات میں سے حسد و تکبر ؛ اتباع ہوی ؛ سرکشی؛ فساد اور زمین پر غلبہ حاصل کرنے کی کوششوں کو شمار کیا ہے ۔ فرمایا:

﴿اَفَکُلَّمَا جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَہْوٰٓی اَنْفُسُکُمْ اسْتَکْبَرْتُمْ فَفَرِیْقًا کَذَّبْتُمْ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ

’’لیکن جب کبھی تمہارے پاس رسول وہ چیز لائے جو تمہاری طبیعتوں کے خلاف تھی، تم نے جھٹ سے تکبر کیا، پس بعض کو تو جھٹلا دیا اور بعض کو قتل بھی کر ڈالا۔‘‘[بقرہ ۸۷]

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ﴾ [النساء۵۴]

’’یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالی نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے۔‘‘

مزید اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اِنْ یَّرَوْا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِہَا وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا وَّ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا﴾ [الأعراف۱۴۶]

’’میں ایسے لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گا جو دنیا میں تکبر کرتے ہیں ، جس کا ان کو کوئی حق نہیں اور اگر تمام نشانیاں دیکھ لیں تب بھی وہ ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستے دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ بنالیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ وَ قَضَیْنَآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا﴾[الإسراء۴]

’’ہم نے بنو اسرائیل کے لئے ان کی کتاب میں صاف فیصلہ کر دیا تھا کہ تم زمین میں دو بار فساد برپا کرو گے اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کرو گے۔‘‘

جب کہ اللہ تعالیٰ نے نصاری کوگمراہی؛ شرک ؛ غلو اور بدعات سے موصوف کیا ہے ۔ ارشاد فرمایا:

﴿اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ مَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰھًا وَّاحِدًا لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ﴾ [التوبۃ۳۱]

’’ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایااور مریم کے بیٹے مسیح کو؛ حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :

﴿وَ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ مِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖٓ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ﴾ [المائدۃ ۷]

’’تم پر اللہ کی جونعمتیں نازل ہوئی ہیں انہیں یاد رکھو اور اس کے اس عہد کو بھی جس کا تم سے معاہدہ ہوا ہے جبکہ تم نے کہا: ہم نے سنا اور مانا اور اللہ تعالی سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ تعالی دلوں کی باتوں کو جاننے والا ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَّرَہْبَانِیَّۃً ابْتَدَعُوْہَامَا کَتَبْنَاہَا عَلَیْہِمْ اِِلَّا ابْتِغَائَ رِضْوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ﴾ [الحدید]

’’ ہاں رہبانیت (ترک دنیا)تو ان لوگوں نے از خود ایجاد کر لی تھی ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا مگر اللہ کی رضا جوئی کے۔سوا انہوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی۔‘‘

یہ موضوع کئی ایک مقامات پر تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گمراہی و سرکشی سے مبرا ومنزہ قرار دیا ہے ۔ ارشاد فرمایا:

﴿وَالنجم اِِذَا ہَوٰی oمَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی oوَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی

[النجم۱۔۳]

’’قسم ہے ستا رے کی جب وہ گرے ! کہ تمھارا ساتھی (رسول) نہ راہ بھولا ہے اور نہ غلط راستے پر چلا ہے۔ اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔‘‘

گمراہ وہ ہوتا ہے جو حق کو نہ پہچانتا ہو۔اور غاوی وہ ہوتا ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرے۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَاذْکُرْ عِبَادَنَا اِبْرَاہِیْمَ وَاِِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ اُوْلِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ ﴾ [ص ۴۵]

’’ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہم السلام کا بھی لوگوں سے ذکر کرو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے۔‘‘

یہاں پر ہاتھوں سے مراداللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قوت ہے‘اور ابصار سے مراد دین میں بصیرت ہے ۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَالْعَصْرِ oاِِنَّ الْاِِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ o اِِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ﴾ [العصر]

’’زمانے کی قسم! بے شک انسان یقینی گھاٹے میں ہے۔ مگر وہ لوگ نہیں جو ایمان لائے اورنیک اعمال کیے اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔‘‘

صفحہ 2 از 3