ملکی سرحدوں کی حفاظت کا اہتمام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ملکی سرحدوں کی حفاظت کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

اسی طرح سیدنا عمرؓ کے قائدین جنگوں کے مواقع پر غازیوں کے لیے اموال غنیمت تقسیم کرتے وقت ان سرحدی مسلح فوجی دستوں کے لیے معرکوں میں شریک ہونے والے مجاہدین کی طرح حصہ لگاتے تھے، اس لیے کہ جب مجاہدین اپنی مہموں پر روانہ ہو جاتے تھے تو یہی لوگ مسلمانوں کے محافظ ہوتے تھے، کہ مبادا کسی طرف سے دشمن ان پر حملہ کر دے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 134۔ الإدارۃ العسکریہ: جلد 2 صفحہ 465)

چنانچہ سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے جانشین کے لیے یہ وصیت کی:

’’میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو فوجی محکمہ سے منسلک افراد کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اس لیے کہ وہ اسلام کے پاسبان، مال کو درآمد کرنے والے اور دشمن کو چڑانے و مرعوب کرنے والے ہیں۔ ان سے ان کی ضروریات سے زائد چیزیں ہی لی جائیں اور ان کی خوشی سے ہی لی جائیں۔‘‘

(مناقب أمیرالمومنین: ابن الجوزی: صفحہ 220، 219 )


صفحہ 4 از 4