ملکی سرحدوں کی حفاظت کا اہتمام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ملکی سرحدوں کی حفاظت کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے آخری اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی ایام حکومت میں شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بھی شام کی ساحلی سرحدوں کی حفاظت کے لیے دفاعی وسائل استعمال کیے۔ سرحدی علاقوں میں اطرسوس، (شام کے سمندری ساحل کا ایک شہر ہے۔)مرقیہ، (حمص کے ساحلی علاقوں میں ایک مضبوط قلعہ ہے) بلنیاس،(حمص کے سمندری ساحل پر ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔)اور بیت سلیمہ کے نام سے متعدد حفاظتی قلعے تعمیر کرائے۔ مزید برآں سواحل شام کے جن قلعوں کو اسلامی افواج نے فتح کیا تھا انہیں جدید ترقی دی اور پھر وہاں مقاتل افواج کو کافی تعداد میں ٹھہرایا، سرحد پر نگران چوکیاں بنا کر ان کی نگرانی کا دائرہ وسیع کر دیا، پہرے دار متعین کیے جو ہمہ وقت اس چیز پر نگاہ رکھتے کہ دشمن سرحد کے قریب نہ آنے پائے، اگر دشمن کہیں سے حملہ آور ہوتے یا در اندازی کی کوشش کرتے تو وہاں کی نگران چوکی آگ جلا کر اپنے قریب کی چوکی والوں کو اور وہ اپنے قریب والوں کو دشمن کی حرکتوں سے آگاہ کر دیتے اور مختصر سی مدت میں یہ خبر فوجی اڈوں، مسلح دستوں اور شہروں میں عام ہو جاتی۔ پھر سارے لوگ دشمن کی دراندازی روکنے اور اسے دور بھگانے کے لیے بیک وقت سرحدی محاذ پر روانہ ہو جاتے۔

(فتوح البلدان: جلد 1 صفحہ 150 تا 158)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دوسری اسلامی سرحدوں کی طرح روم اور مصر کی سرحدی حدود کی حفاظت پر بھی خاص توجہ دی۔ چنانچہ اس علاقہ میں اسلامی افواج کو ٹھہرانے کے لیے سیدنا عمرؓ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ پہلی فوجی چھاؤنی کے طور پر شہر فسطاط آباد کریں تاکہ اس علاقے میں اسلامی افواج کو رکھا جائے۔ ہر فوجی قبیلہ پر ایک پہرے دار اور عریف مقرر کر دیا اور یہیں سے شمالی افریقہ میں اسلامی فتوحات کے لیے فوجی کارواں روانہ ہونے لگا۔ مزید برآں یہی مصری سرحد کا اہم دفاعی اڈہ تھا اور دوسری کئی ملکی و فوجی ضروریات کی تکمیل بھی اسی سے ہوتی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیگر فوجی اڈوں کے محل وقوع کے لیے جو شرائط رکھیں یہاں بھی وہی شرط رکھی گئی، یعنی اس کے اور مدینہ کی اعلیٰ مرکزی فوجی قیادت (جس کی باگ ڈور خلیفہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے) کے درمیان کوئی سمندری راستہ حائل نہ ہو تاکہ دونوں کے درمیان رابطے کا سلسلہ آسان اور برابر باقی رہے۔

(فتوح مصر: ابن عبدالحکم، الإدارۃ العسکری: جلد 1 صفحہ 462)

سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی افواج کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے تھے کہ آپ لوگوں کا مصر میں قیام کرنا سرحدی حفاظت کے لیے رباط ہے۔ فرماتے ہیں: جان لو کہ تم لوگ قیامت تک کے لیے اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ہو (اس کا ثواب تمہیں ہمیشہ ملتا رہے گا) اس لیے کہ تمہارے ہر چہار جانب دشمنوں کی کثرت ہے، وہ تمہیں اور تمہارے وطن کی طرف، جہاں اموال، زمینی پیداوار اور روز افزوں خیر و برکت کا خزانہ ہے، للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔

مصری فتوحات کے جس مرحلے میں اسلامی فوج نے قدیم مصری سرحد کے حفاظتی قلعوں اور اسلحہ خانوں پر قبضہ کیا تھا انہیں ترمیم و تجدید کے بعد اس لائق بنا دیا کہ اس میں اسلامی افواج مستقل طور پر قیام کر سکیں اور پھر اس میں اسلامی افواج ٹھہرائی گئیں۔ چنانچہ مصر کے سرحدی شہر ’’عریش‘‘ میں سب سے پہلے مسلح فوجی چوکی قائم کی گئی

 (فتوح مصر، ابن عبدالحکم، الإدارۃ العسکری: جلد 1 صفحہ 462)

اور پھر مصر کے تمام ساحلی حدود پر اس طرح کی کئی مسلح فوجی چوکیاں قائم کی گئیں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 103)

اسی طرح جب سیدنا عمرو بن عاصؓ نے اسکندریہ کی سرحد پر قبضہ کیا تو اپنے ایک ہزار مسلح ساتھیوں کو اس کی حفاظت و نگرانی پر مامور کیا، لیکن یہ تعداد ضرورت کے لیے ناکافی ٹھہری اور بحری راستے سے رومی افواج نے دوبارہ حملہ کر کے کچھ لوگوں کو قتل کر دیا اور کچھ لوگ سرحد چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ سیدنا عمرو بن عاصؓ نے ان پر قابو پانے کے لیے دوبارہ سخت حملہ کیا اور سرحد پر قبضہ کر لیا اور اس کی حفاظت و نگرانی کے لیے اپنی ایک چوتھائی فوج لگا دی اور دوسری چوتھائی فوج کو ساحلی علاقوں کی نگرانی پر مامور کر دیا، جب کہ بقیہ نصف فوج لے کر خود فسطاط میں مقیم رہے۔

(البحریۃ فی مصر الإسلامیۃ وآثارہا الباقیۃ: سعاد ماہر: صفحہ 77 )

سیدنا عمر فاروقؓ بھی اسکندریہ کی سرحد کی اہمیت کے پیش نظر ہر سال مدینۃ النبیﷺ سے مجاہدین کی ایک جماعت اس کی حفاظت و نگرانی کے لیے بھیجتے تھے اور گورنروں کو خط لکھتے رہتے تھے کہ اس سے غافل نہ رہیں اور کثیر تعداد میں مسلح گشتی دستوں کو وہاں مامور رکھیں۔

(فتوح مصر: صفحہ 192، الخطط: مقریزی: جلد 1 صفحہ 167)

اس طرح سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عراقی، شامی اور مصری تینوں محاذوں پر سلطنت اسلامیہ کی بری حدود کو مکمل طور پر محفوظ کر کے اپنی دور اندیشی اور بالغ نظری کا مکمل ثبوت دیا۔

الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 464)

سلطنت اسلامیہ کی ملکی حدود کی حفاظت کے لیے سیدنا عمرؓ نے نہ صرف انہیں دفاعی وسائل پر اکتفا کیا بلکہ موسم کے لحاظ سے سرما و گرما کے لیے مستقل فوجی نظام بھی قائم کیا، جو گشتی دستوں کی شکل میں منظم تیاری کے ساتھ ہر سال موسم سرما و گرما میں سرحدوں کی حفاظت کے لیے روانہ کی جاتی تھیں۔ یہ افواج صرف شامی حدود کے لیے نہیں بلکہ سلطنت اسلامیہ کی مکمل سرحدی حدود پر انہیں اپنی مہم پر روانہ کیا جاتا تھا اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح، معاویہ بن ابی سفیان اور نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہم جیسے بہت سارے عظیم قائدین ان کی قیادت کرتے تھے۔

(فتوح البلدان، بلاذری: جلد 1 صفحہ 194، 195) 

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سرحد پر جانے والی افواج کی تنخواہ اور ضروریات و خوراک میں اس وقت تک کے لیے اضافہ کر دیتے تھے جب تک کہ وہ سرحد کی نگرانی پر مامور ہوتی تھیں۔

(الفن الحربی فی صدر الإسلامی، عبدالرؤف عون: صفحہ 201۔ الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 465)

صفحہ 3 از 4