ملکی سرحدوں کی حفاظت کا اہتمام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ملکی سرحدوں کی حفاظت کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

سرحدی حفاظت کی اس فاروقی سیاست پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمرؓ کے زمانہ میں مسلح فوجی مراکز اس وقت تک قائم نہیں کیے جاتے تھے جب تک کہ فوج کی اعلیٰ قیادت (ہائی کمان) سے اس کی اجازت نہ مل جائے، چنانچہ ان مسلح فوجی مراکز کے قائدین کے نام سیدنا عمر فاروقؓ نے جو حکم نامہ جاری کیا تھا اس میں یہ چیز نمایاں طور سے دیکھی جا سکتی ہے۔ سیدنا عمرؓ کا حکم تھا کہ فارسیوں کو اپنے بھائیوں کی طرف آنے سے مشغول رکھو، اس کے ذریعہ سے مسلمانوں اور اپنے ملک کی حفاظت کرو، فارس اور اہواز کی سرحد پر مسلح دستوں کو پھیلا دو اور جب تک میرا حکم نہ آجائے وہیں ڈٹے رہو۔

(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 454 )

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں صرف کوفہ کی سرحدیں چار بڑی سرحدوں پر مشتمل تھیں: 

حلوان کی سرحد: اس کی حفاظت و نگرانی کے اعلیٰ ذمہ دار اعلیٰ اور سرحدی فوج کے قائد حضرت قعقاع بن عمرو تمیمی رضی اللہ عنہ تھے۔

 ماسبذان کی سرحد: اس کے ذمہ دار و قائد ضرار بن خطاب فہری تھے۔ 

قرقیسیا (مالک بن طوق کے قریب دریائے خابور پر ایک شہر کا نام ہے جہاں دریائے خابور فرات سے جا ملتا ہے۔) کی سرحد: یہاں کے قائد و ذمہ دار عمر بن مالک زہری تھے۔ 

اور چوتھی موصل کی سرحد تھی جس کے قائد و ذمہ دار عبداللہ بن معتم عبسی تھے۔

 ان قائدین میں سے اگر کوئی کسی مہم پر چلا جاتا تو دوسرا اس کی نیابت کرتا اور سرحدی امور انجام دیتا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلمانوں کے یہ فوجی لشکر جب بھی سرحدی علاقوں میں حفاظتی قلعے بناتے یا کوئی شہر بساتے تو سب سے پہلے وہاں مسجد تعمیر کرتے، اس لیے کہ مسلم معاشرے میں اس کا اپنا منفرد دعوتی، تربیتی اور جہادی کردار ہے۔ 

(الإدارۃ العسکریۃ:جلد 1 صفحہ 455 )

جہاں تک سیدنا فاروق اعظمؓ کے دور میں شامی محاذ پر رومیوں اور مسلمانوں کے درمیان سرحدی حدود کی حفاظت کا تعلق ہے تو اس کی طرف آپؓ نے اسی وقت سے اپنی توجہ مرکوز کر دی تھی جب سے شامی ممالک اسلامی فتوحات کے دائرہ میں داخل ہو رہے تھے، چنانچہ آپؓ نے سرحدی علاقوں کی حفاظت کے لیے مختلف و متعدد دفاعی اقدامات کیے، مثلاً سرحد نگراں چوکیاں قائم کیں، پہرے دار متعین کیے، جگہ جگہ مسلح فوجی چھاؤنیاں اور مراکز بنائے، ساحلی علاقوں کی حفاظت کا انتظام کیا، فوجی رباط قائم کیے، مزید برآں جو قلعے وہاں پہلے سے موجود تھے، سب کو باقی رکھا، دشمن سے چھینے ہوئے ان قلعوں کو برباد نہ کیا، بلکہ اس میں قیام کرنے والی افواج کو منظم کیا، یعنی کون سی جماعت جنگی محاذ پر ہوگی اور کون جائے گی، کون آئے گی، اس طرح شام کے پورے ساحلی علاقوں کو ایک متحدہ فوجی ادارے سے جوڑ دیا۔ جس سال سیدنا عمرؓ نے باشندگان بیت المقدس سے صلح مصالحت کرنے کے لیے بلاد شام کا دورہ کیا تو شام کی بعض سرحدوں کا جائزہ لیا، پھر وہاں محافظوں اور مسلح افواج کو تیار کیا اور امراء و قائدین کو منظم کیا، اس طرح سیدنا عمرؓ نے سرحد کو دشمن کی در اندازیوں سے بالکل محفوظ کر دیا، خود سرحدوں کا دورہ کیا تاکہ ان کی دفاعی ضروریات کا اندازہ کر سکیں۔

(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 457)

پھر سیدنا عمر فاروقؓ مدینہ لوٹ آئے، البتہ لوٹنے سے پہلے لوگوں میں یہ خطبہ دیا: ’’میں تمہارا حاکم بنایا گیا ہوں، تمہارے جن معاملات کو اللہ نے میرے ذمہ کیا ہے میں اسے پورا کر رہا ہوں۔ ان شاء اللہ۔ ہم نے تمہارے درمیان تمہارے اموال غنیمت، اقامت اور غزوہ پر نکلنے والی جماعت کو عدل و انصاف سے برابر برابر تقسیم کر دیا ہے، ہم نے تمہارے لیے اسلامی فوج مہیا کر دی ہے، سرحدوں کو محفوظ کر دیا ہے اور تمہیں وہاں ٹھہرا دیا ہے۔ شامی محاذ پر جنگ کے ذریعہ سے تم نے جو کچھ مال غنیمت حاصل کیا اسے تمہیں زیادہ سے زیادہ دے دیا ہے۔ تمہاری تنخواہیں مقرر کر دی ہیں اور تمہیں عطیات و وظائف، خوراک اور اموال غنیمت دینے کا حکم دے دیا ہے۔ اگر کسی کو نظم ونسق کی اس سے بہتر کوئی معلومات ہوں جو قابل عمل ہو، تو وہ ہمیں ضرور بتا دے، ہم ان شاء اللہ اسے ضرور بالضرور روبہ عمل لائیں گے۔ اللہ ہی کی قوت و توفیق پر مکمل اعتماد ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 40)

اسی طرح جب حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے شام کی شمالی حدود سے متصل انطاکیہ کی سرحد کو فتح کر لیا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کے نام خط لکھا: ’’صالح اور مخلص مسلمانوں کی ایک جماعت کو سرحد کی حفاظت پر مامور کر دو اور ان کے وظائف اور عطیات بند نہ کرو۔‘‘

(فتوح البلدان: جلد 1 صفحہ 175)

چنانچہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حمص اور بعلبک کے مخلص و نیکوکار افراد پر مشتمل ایک جماعت تیار کی اور دشمن کے خارجی حملوں کے دفاع کے لیے اسے سرحد کی حفاظت پر مامور کر دیا اور حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کو ان کا ذمہ دارِ اعلیٰ بنا دیا۔ پھر انہوں نے اسلامی سلطنت کے حدود کے ماورائی علاقوں میں فوجی کارروائی کے لیے انطاکیہ کی سرحد پر ایک فوجی اڈا قائم کیا، جہاں سے رومی محاذ کی سرحدی پٹی پر لڑنے والی اسلامی افواج کے لیے مدد بھیجی جاتی تھی، یہیں سے جرجومہ(یہاں کے باشندوں کو جراجمہ کہا جاتا ہے، شامی سرحد پر ’’لگام‘‘ کے کہوستانی علاقہ میں یہ شہر آباد ہے) پر چڑھائی ہوئی اور وہاں کے لوگوں نے اس بات پر صلح کر لی کہ وہ مسلمانوں کے مددگار ہوں گے، ان کے لیے مخبری کریں گے اور ’’لکام‘‘ کے کوہستانی علاقے میں رومیوں کے خلاف ہمیشہ مسلح رہیں گے۔

(معجم البلدان: جلد 2 صفحہ 123 )

اسی طرح جب ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ’’بالس‘‘(حلب اور رقہ کے درمیان شام کا ایک شہر ہے۔) کی سرحد پر گئے تو وہاں بھی جنگجوؤں کی ایک جماعت بنائی اور وہاں شام کے ان نو مسلم عربوں کو ٹھہرایا جو رومی حملوں سے سرحدی علاقوں کی حفاظت کی خاطر آئے ہوئے مسلمانوں کی دعوت پر مسلمان ہوئے تھے۔

(فتوح البلدان، بلاذری: جلد 1 صفحہ 224)

صفحہ 2 از 4