ملکی سرحدوں کی حفاظت کا اہتمام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ملکی سرحدوں کی حفاظت کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسلمانوں پر دشمن کے حملوں کے خوف، اسلامی سلطنت کی حدود میں وسعت ہو جانے کی وجہ سے دشمن کی در اندازی کے اندیشے اور رومیوں سے لڑنے سے طبعی گریز کی وجہ سے جب رومیوں سے معرکہ آرائی کا ذکر چھڑتا تو کہتے: اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ ہمارے اور ان (رومیوں) کے درمیان آگ کے انگاروں کی سرحد قائم ہو جائے اور اس پار جو کچھ ہے وہ ہمارا اور اس پار جو کچھ ہے وہ ان کا ہو جائے۔

(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 155) 

سلطنت فارس سے ملنے والی اسلامی سرحد کے بارے میں بھی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایسی ہی خواہش کا اظہار کیا، آپ نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ فارس اور سواد عراق کے درمیان ایسی سرحدی دیوار قائم ہو جائے کہ وہ ہم تک نہ آسکیں اور نہ ہم ان تک جا سکیں۔ ہمیں عراق کے دیہاتوں کی سرسبز زرعی زمینیں کافی ہیں، میں مالِ غنیمت ملنے کے مقابلے میں مسلمانوں کی حفاظت کو ترجیح دیتا ہوں۔

( تاریخ الطبری بحوالۃ الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 352)

چنانچہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سلطنت اسلامیہ کے لیے فوجی اڈے قائم کرنے کا حکم دیا، انہیں مخصوص ذمہ داریاں اور فرائض سونپے گئے، جن میں سے چند ایک کا ذکر پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے۔ اسلامی سلطنت اور مفتوحہ ممالک کی سرحدوں پر جو مقامات اہمیت کی حامل تھے وہاں دشمن کے خارجی حملوں اور در اندازیوں کے دفاع کی خاطر ان فوجی اڈوں کو صدر فوجی مقامات (ہیڈ کوارٹر) کے کام میں لایا جاتا۔ نیز انہیں فوجی اجتماعات کے مرکز اور اشاعت اسلام کے ادارہ کے طور پر استعمال کیا جاتا۔ جن بڑے شہروں میں یہ فوجی اڈے قائم تھے ان میں بصرہ اور کوفہ سرفہرست ہیں، ان کی سرحدیں فارسی مملکت سے ملتی تھیں، اسی طرح مصر کے شہر فسطاط میں بھی فوجی اڈا قائم تھا۔

(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 452)

شام اور مصر کے ساحلی علاقوں میں رومیوں کے بحری حملے کے دفاع کی خاطر فوجی چھاؤنیاں بنائی گئی تھیں۔ ان کے علاوہ بھی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے چار بڑی فوجی چھاؤنیاں قائم کیں جنہیں جند حمص، جند دمشق، جند اردن اور جند فلسطین کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا، کیونکہ فوج کا یہی رہائشی مرکز ہوتا تھا اور ان مقامات کی چھاؤنیوں سے ان کا اتنا گہرا ربط ہوگیا کہ یہی نسبت نسب اور قبیلے پر مستزاد ان کے تعارف کی ایک علامت بن گئی۔ فوجی مہمات میں کسی کارروائی کو منظم کرتے وقت یا ان کے ذاتی حالات و ضروریات کی رعایت (مثلاً تنخواہ تقسیم کرنے) کے وقت ان کے امراء انہیں انہی جگہوں کی طرف منسوب کر کے بلاتے تھے۔

(فتوح البلدان: جلد 1 صفحہ 156)

سرحدی حفاظت کے یہ انتظامات صرف فوجی اڈوں پر اور چھاؤنیوں تک محدود نہ تھے، بلکہ دشمن کے ملک سے متصل سرحدوں پر سرحدی پولیس چوکیوں کے ساتھ وہ مضبوط قلعے بھی حفاظتی انتظامات کے کام میں لائے جاتے تھے جو دشمنوں سے چھن کر مسلمانوں کے قبضے میں آئے تھے۔ مسلمانوں نے ایسے قلعوں کو فوجی اڈا بنا لیا اور اسلامی سلطنت کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اس میں اپنی افواج ٹھہرائیں۔

(تاریخ التمدن: جرجی زیدان: جلد 1 صفحہ 179 )

اس طرح جیسے جیسے مسلمان کسی ملک کو فتح کر کے آگے بڑھتے مفتوحہ ملک کی آخری سرحد متعین کرتے اور کسی باصلاحیت فوجی قائد کی نگرانی میں وہاں مستقل حفاظتی فوج مقرر کر دیتے جو ہمہ وقت چاق و چوبند رہتی اور پہرے داری کرتی۔

(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 453)

عراق اور مشرق (بلاد عجم) میں سیدنا عمر فاروقؓ نے سرحدی حفاظت سے متعلق سب سے اہم کارروائی یہ کی کہ فارس سے متصل اسلامی سلطنت کی سرحد پر مسلح فوجی دستے پھیلا دیے، چنانچہ جب حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں کو خبر ملی کہ فارسی لوگ یزدگرد کی حکومت پر متفق ہو چکے ہیں اور اب وہ ہمارے خلاف جنگی تیاری میں مشغول ہیں تو انہوں نے سیدنا عمر فاروقؓ کو اس بات کی اطلاع دی۔ سیدنا عمرؓ نے خط کا جواب اس طرح دیا:

’’حمد وصلاۃ کے بعد! عجمیوں کے بیچ سے نکل جاؤ اور عراق کی سرحدوں پر پہنچ کر عجمیوں (ایرانیوں) کے قریبی ساحل پر پھیل جاؤ۔‘‘

حضرت مثنی رضی اللہ عنہ نے آپ کے حکم کی تعمیل کی۔

(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 453 )

اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے معرکہ قادسیہ سے قبل سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو نصیحت کی تھی:

’’جب تم قادسیہ پہنچو تو وہاں کے تمام چھوٹے بڑے راستوں پر اپنے مسلح دستوں کو پھیلا دو۔‘‘

(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 453)

معرکہ جلولاء میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نام لکھا کہ اگر اللہ تعالیٰ مہران اور انطاق کی دونوں افواج کو شکست سے دوچار کرتا ہے تو مسلمانوں کی ایک فوج حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کے سپرد کر کے انہیں حلوان کی سرحد پر بھیج دو تاکہ اس علاقہ کو داخلی و خارجی فتنوں سے محفوظ رکھیں اور وہاں جو غازی مسلمان ابھی موجود ہیں یا جو خود جہاد میں جا چکے ہیں اور ان کے اہل و عیال موجود ہیں ان کی طرف سے دفاع کریں۔

(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 453 )

چنانچہ یہی وجہ تھی کہ عراقی محاذ کے کمانڈر جنرل سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ اپنی فوج کو جنگ پر ابھارتے، فارسیوں سے زبردست ٹکر لینے کی انہیں ترغیب دلاتے اور کہتے رہے کہ: تم پیش قدمی کرو، ہماری ملکی سرحدیں بالکل محفوظ ہیں، تمہاری پشت سے تم پر دشمن کے حملہ آور ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے، فاتح دوراں مجاہدین اسلام تمہارے لیے کافی ہیں، ہم نے اپنی سرحدوں کو دشمن سے محفوظ کر دیا ہے اور اسی میں اپنی زندگیاں کھپا دی ہیں۔

(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 454)

صفحہ 1 از 4