فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 26

تیسری وجہ :....رافضی انتہائی سخت جھوٹے اور بہت بڑے تناقض کا شکارہیں ۔یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ اجماع حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل پر نہیں بلکہ آپ کی بیعت وخلافت پر منعقد ہوا تھا۔[رواہ البخاري ۳؍۱۸۶۔ یہ تخریج گزرچکی ہے۔] تمام ملک کے رہنے والے آپ کی بیعت پر یک زبان تھے ۔ اگر ظاہری اجماع سے دلیل لینا جائز ہے تو پھر واجب ہوتا ہے کہ آپ کی بیعت بھی حق ہو ‘ اس لیے کہ آپ کی بیعت پر تمام لوگوں کا اجماع ہوگیا تھا۔ اگر اس سے استدلال لینا جائز نہیں تو پھر آپ کے قتل پر اجماع کا کہنا کھلم کھلا ایک باطل بات ہے۔ خصوصاً جب کہ آپ کو قتل کرنے والے چند ایک فسادی لوگ تھے۔ پھر اس پر مزیدار بات تو یہ ہے کہ شیعہ آپ کی بیعت خلافت پر اجماع کے منکر ہیں ‘اور کہتے ہیں : اہل حق نے زبردستی اور خوف کے مارے آپ کی بیعت کی۔[ مگر قتل پر اجماع ثابت کرنے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں ]۔ اس کے بجائے اگر یوں کہتے کہ :’’ اہل حق آپ کے قتل پر متفق تھے: اور اہل حق کو زبردستی آپ کے قتل میں شریک کیا گیا اوروہ اس پر اپنی کمزوری کی وجہ سے خاموش رہے۔ تو پھر بھی ہم کہہ سکتے تھے کہ یہ بات کسی حد تک ممکن ہے۔ اس لیے کہ لوگ یہ بات جانتے ہیں جو کوئی حکومت سے ٹکرا کر تختہ الٹنا چاہتا ہو‘ عام لوگ اس کی مخالفت کرنے سے ڈرتے ہیں ۔بخلاف اس کے جو کوئی حاکم کی بیعت کرنا چاہتا ہو۔اس لیے کہ اسے کسی مخالف سے نہیں ڈرایا جا سکتا۔ جیسے کہ اس انسان سے ڈرایا جاسکتا ہے جو کسی کو قتل کرنا چاہتا ہو۔ کیونکہ قتل کا ارادہ رکھنے والے کا شر زیادہ تیز ہوتا ہے ‘ اور وہ خون بہانے میں دریغ نہیں کرتا ؛ لوگ اس سے ڈرتے رہتے ہیں ۔ 

[فرض محال شیعہ کی بات تسلیم کرتے ہیں ] کہ تمام لوگوں کا آپ کے قتل پر اجماع ہوگیا تھا؛ توپھر اس کا کیا جواب دو گے کہ جمہور صحابہ کرام آپ کے قتل کا انکار کرتے تھے۔اور جن لوگوں نے آپ کے گھر میں رہتے ہوئے آپ کا دفاع کیاجیسے حضرت حسن و حسین حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم وغیرہ؛ یہ علیحدہ داستان ہے۔

مزید برآں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر جو اجماع منعقد ہوا ایسا اتفاق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت وخلافت اور قتل عثمان رضی اللہ عنہ پر اور دوسرے کسی معاملہ میں نہیں ہوا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت خلافت سے صرف چند اشخاص پیچھے رہے تھے۔ جن میں سے ایک حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے رہ جانے کا سبب معلوم ہے۔ (واللہ یغفرلہٗ ویرضی عنہ) ۔ آپ سابقین اولین انصار میں سے ایک نیک فرد تھے جنہیں جنت کی بشارت سنائی گئی تھی۔ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ افک والی روایت میں ہے آپ فرماتی ہیں : ’’ آپ منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی کا دفاع کرنے لگے۔ اس سے قبل آپ ایک نیک انسان تھے ؛ مگر قبائلی حمیت کی وجہ سے ان سے اس حرکت کاارتکاب ہوگیا ۔‘‘

ہم قبل ازیں بیان کر چکے ہیں کہ جس آدمی کے لیے جنت کی شہادت دی گئی ہو وہ بعض اوقات گناہ کا مرتکب بھی ہوتا ہے[ اس لیے کہ وہ معصوم نہیں ]۔مگر پھر وہ ان سے توبہ کرلیتاہے؛ یا اس گناہ کو اس کی نیکیاں مٹا دیتی ہیں ۔ یا مصائب و آلام اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں ؛ یا کوئی دوسرا سبب ایسا پیدا ہوجاتا ہے۔ [گناہ کی سزا سے بچنے کے اسباب ]

جب کوئی انسان گناہ کرلیتا ہے تو اس کے لیے اس گناہ کی سزا بچنے کے دس اسباب ہوتے ہیں ۔ تین سبب اس کی ذات سے ؛ تین سبب لوگوں کی طرف سے ؛ اور چار اسباب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ۔ توبہ و استغفار ؛ گناہ مٹانے والی نیکیاں ؛ اس کے لیے مؤمنین کی دعا؛ نیک اعمال کا ہدیہ ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت؛ دنیا میں کفارہ بننے والے مصائب ؛ برزخ اور میدان محشر میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل اور اس کی جانب سے بخشش ۔

یہاں پر اس بیان سے مقصود یہ ہے کہ : یہ کہ مسئلہ اجماع ظاہر ہے اور اسے سبھی جانتے ہیں ۔ توپھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل جیسے مسئلہ پر کیسے اجماع کا دعوی کیا جاسکتا ہے؟ بلکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں جو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر قتال کرنے سے پیچھے رہ گئے تھے وہ تعداد میں ان لوگوں سے کئی گنابڑھ کر تھے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں شریک ہوئے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ تین گروہوں میں بٹ گئے تھے : ایک گروہ جنہوں نے آپ کے ساتھ مل کر قتال کیا؛ ایک گروہ جو آپ سے برسر پیکار رہا؛ اور تیسرا گروہ جو نہ آپ کے ساتھ تھے اور نہ ہی آپ کے خلاف ۔ سابقین اولین کی اکثریت اسی گروہ سے تعلق رکھتی تھی ۔ اگراور کچھ بھی نہ ہوتا صرف وہی لوگ آپ کی بیعت سے پیچھے رہ گئے ہوتے جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؛ کیونکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمنواؤں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی تھی۔ وہ تعداد میں ان لوگوں سے کئی گناہ بڑھ کر ہیں جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا۔ نیز جو لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کاانکار کررہے تھے وہ بھی ان لوگوں سے تعداد میں کئی گنا بڑھ کر تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔ [تو پھر اگر] یہ کہنا باطل ہے کہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ پر متفق ہوگئے تھے ؛ پھر یہ کہنا بھی سب سے بڑا باطل ہے کہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل پر متفق ہوگئے تھے۔

اگر یہ کہنا جائز ہے کہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل پر جمع ہوگئے تھے؛ کیونکہ یہ واقع پیش آیا اور آپ کا دفاع نہیں کیا جاسکا۔ تو پھر معترض کا یہ قول بھی بجا ہے کہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے پراور آپ کی بیعت سے پیچھے رہنے پر متفق ہوگئے تھے ؛ بلکہ اس قول کا جواز سب سے بڑھ کر ہے۔ اس لیے کہ یہ واقعہ بھی پیش آیا ؛ مگر اس کا دفاع نہیں کیا گیا۔

صفحہ 8 از 26