فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 26

وہ کہے: بیشک حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے خروج کیا ‘ اورسابقہ خلفاء راشدین کی طرح مدینہ میں مقیم نہ رہے۔اسی وجہ سے آپ پر امت کا اجماع نہ ہوسکا۔ [توشیعہ کا جواب ہوگاکہ ] : حضرت علی رضی اللہ عنہ مجتہد تھے۔اگر کوئی علی رضی اللہ عنہ سے کم مرتبہ کا بھی ہوتو مجتہد ہونے کی بناپر وعید اسے لاحق نہیں ہوسکتی۔ تو علی رضی اللہ عنہ اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ یہ وعید ان پر صادق نہ آئے۔ پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خروج کا بھی یہی جواب ہے کہ یہ مبنی بر اجتہاد تھا اور اجتہادی غلطی ازروئے کتاب وسنت معاف ہے۔

[چوتھا اعتراض]: شیعہ مضمون نگار کا یہ کہنا کہ ’’ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لڑنے کے لیے نکلی تھیں حالانکہ آپ بے قصور تھے۔‘‘

[جواب] : یہ سیدہ رضی اللہ عنہا پر عظیم افتراء ہے۔ آپ جنگ کی نیت سے نہیں نکلی تھیں ‘ اور نہ ہی حضرات طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہما حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کے خواہاں تھے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ دونوں گروہ لڑنے کے لیے نکلے تھے تو یہ وہی قتال تھا جس کا ذکر مذکورہ ذیل آیت میں کیا گیا ہے اور اس خطا کو معاف کردیا گیا ہے:

﴿وَاِِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا فَاِِنْ بَغَتْ اِِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی حَتّٰی تَفِیئَ اِِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ فَاِِنْ فَائَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوا اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ o اِِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُم﴾ (الحجرات:۹۔۱۰)

’’اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دیا کرو پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔(یاد رکھو)سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو۔‘‘

اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ مومن باہم لڑنے جھگڑنے کے باوصف مومن ہی رہتے ہیں ۔یہ حکم جب ان لوگوں کے بارے میں ثابت ہے جو ان حضرات صحابہ کرام سے [علم و عمل وایمان میں ] کم تر تھے ‘تو پھر آپ اس حکم کے زیادہ حقدار ہیں ۔

[قتل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اجماع کا دعوی اور اس پر رد]:

[پانچواں اعتراض]:شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’ قتل عثمان رضی اللہ عنہ پر سب مسلمانوں کا اجماع قائم ہو گیا تھا۔‘‘

[جواب] :اس کے جواب میں کئی نکات ہیں :

پہلی وجہ :....یہ بڑا گھناؤنا جھوٹ ہے۔ اس لیے کہ جمہور نے نہ ہی قتل کا حکم دیا؛ نہ ہی اس قتل میں شریک ہوئے او نہ ہی وہ اس پر راضی تھے۔ علاوہ ازیں اکثر مسلمان مدینہ میں اقامت گزیں نہ تھے۔ بلکہ مختلف دیار و امصار مکہ ؛ شام ؛ یمن ؛ کوفہ ؛ بصرہ ؛ مصر اور بلاد مغرب سے لے کر خراسان تک آباد تھے۔اہل مدینہ ان مسلمانوں کا ایک حصہ تھے۔

دوسری وجہ:....یہ کہ چند شریراور فتنہ پروراور اوباش؛ زمین میں فساد پھیلانے والے آدمی اس فعلِ شنیع کے مرتکب ہوئے تھے، صلحائے امت نہ اس میں شریک تھے؛ اورنہ ہی ان میں سے کسی ایک نے آپ کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ حلف اٹھایا کر فرمایا کرتے تھے:

’’ اللہ کی قسم ! میں نے نہ ہی عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور نہ ہی ان کے قتل کی کوئی سازش کی ۔‘‘ آپ قاتلین عثمان پر بددعا کیا کرتے اور فرمایا کرتے تھے:

صفحہ 6 از 26