فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 26

[جواب ]:آپ جاہلیت کی سی بے پردگی کرتے ہوئے نہیں نکلیں ۔نیز یہ کہ کسی مامور بہا مصلحت کے لیے گھر سے نکلنا استقرار فی البیوت کے منافی نہیں ۔ مثلاً حج و عمرہ کے لیے جانا یا اپنے خاوند کی معیت میں سفر پر روانہ ہونا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ سالار رسل صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور آپ اس کے نزول کے بعد ازواج مطہرات کیساتھ حجۃ الوداع کے سفر پر روانہ ہوئے۔ اس سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دیگر امہات المومنین بھی شریک تھیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا۔ آپ ان کے پیچھے ایک ہی اونٹ پر سوار تھیں ۔ عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے مقام تنعیم سے آپ کو عمرہ کرایا۔[صحیح بخاری، کتاب العمرۃ، باب عمرۃ التنعیم، (حدیث:۱۷۸۴،۱۷۸۵)،صحیح مسلم۔ کتاب الحج۔ باب بیان وجوہ الاحرام (حدیث:۱۲۱۲، ۱۲۱۳)]

٭ حجۃ الوداع کا واقعہ اس آیت کے نزول کے بعد اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین ماہ سے بھی کم عرصہ پہلے وقوع پذیر ہوا۔ خلافت ِ فاروقی میں بھی ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے جایا کرتی تھیں ۔ حضرت فاروق رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بھیجا کرتے تھے۔ جب امہات المومنین کو کسی مصلحت کی بنا پر سفر کی اجازت تھی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا واقعہ جمل کے لیے اپنے خروج کو بھی مصلحت ِ عامہ پر محمول کرتی تھیں ۔

اس کی مثال یہ ہے کہ مندرجہ ذیل آیات و احادیث میں باہمی جنگ وجدال سے منع کیا گیا ہے، لہٰذا معترض کہہ سکتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان میں وارد شدہ وعید کے مستحق ہیں کیوں کہ آپ مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما ہوئے اور آپ نے ان کو مباح الدم قرار دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ (النساء:۲۹)

’’ ایمان والو! اپنا مال آپس میں ناروا طریقے سے نہ کھاؤ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿وَ لَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ﴾ (النساء: ۲۹)

’’آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔‘‘اس آیت میں مؤمنین کوباہم جنگ و قتال کرنے سے روکاگیا ہے۔

اورجیسا کہ اللہ تعالیٰ کایہ فرمان ہے: ﴿وَ لَا تَلْمِزُوْا اَنْفُسَکُمْ﴾ (الحجرات:۱۱)

’’ایک دوسرے کو طعن نہ دو۔‘‘

اللہ تعالیٰ کایہ فرمان ہے:

﴿لَوْ لَا إِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًا﴾ (النور:۱۲)

’’ جب تم نے یہ (واقعہ) سنا تو مومن مردوں اور عورتوں نے اپنے متعلق کیوں نہ نیک گمان کیا۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری آبرو تم پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ میں اور اس شہر میں ۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب العلم، باب قول النبی صلی اﷲعلیہ وسلم ’’ رب مبلغ اوعی من سامع‘‘(ح:۶۷)، صحیح مسلم، کتاب القسامۃ، باب القسامۃ (حدیث: ۱۶۷۹)۔ ]

آپ ارشاد فرماتے ہیں :’’ جب قاتل و مقتول تلواریں لے کر لڑنے لگیں تو وہ دونوں جہنمی ہیں ۔‘‘ دریافت کیا گیا کہ یارسول اللہ! قاتل تو جہنمی ہوا مقتول کیوں کہ دوزخ میں جائے گا؟ فرمایا :’’وہ بھی تواپنے حریف کو قتل کرنا چاہتا تھا۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الایمان باب ﴿ وَ إِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ (حدیث:۳۱) صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب اذا تواجہ المسلمان بسیفھما، ( حدیث:۲۸۸۸)۔]

ان آیا ت واحادیث کی روشنی میں ایک معترض کہہ سکتا ہے کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے اپنی تلواروں سے مسلمانوں کا استقبال کیا‘ اور ان کے خون کو مباح قرار دیا‘پس آپ اس فعل پر بیان شدہ وعید کے مصداق ہیں ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ تاویل کرنے والا مجتہد اس وعید کا مصداق نہیں ٹھہرے گا؛ اگرچہ اس سے غلطی ہی کیوں نہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کی دعا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

﴿رَبَّنَا لَا تُوَاخِذْنَا اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا﴾ (البقرۃ:۲۸۶)

’’اے ہمارے رب! اگر ہم سے بھول یا چوک ہو جائے تو ہم پر مواخذہ نہ کر۔‘‘[اللہ فرماتے ہیں ]میں نے ایساکردیا۔

اللہ تعالیٰ نے مومنین کے نسیان و خطاء کو معاف کردیا ہے، خطا کار مجتہد کی خطا بھی معاف ہے۔ جب مومنین سے برسرپیکار ہونے کے بارے میں ان کی خطا معاف ہے تو اجتہاد کی بنا پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مدینہ سے خروج بالاولیٰ مغفرت کا مستحق ہوگا۔ اگرکوئی معترض بذیل احادیث کو پیش کر ے کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

۱۔ ’’مدینہ طیبہ گندی اور خبیث چیزوں کو دور کرتا ہے اور پاک و ناپاک کو چھانٹ دیتا ہے۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب فضائل المدینۃ۔ باب المدینۃ تنفی الخبث (حدیث: ۱۸۸۳)، صحیح مسلم۔ کتاب الحج۔ باب المدینۃ تنفی خبثھا (حدیث:۱۳۸۳، ۱۳۸۲)۔ ]

۲۔ ’’جو شخص بے اعتنائی سے مدینہ منورہ کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے، اللہتعالیٰ اس کے عوض اس سے بہتر آدمی کو مدینہ میں آباد ہونے کی سعادت عطاکرتے ہیں ۔‘‘[صحیح مسلم، کتاب الحج، باب المدینۃ تنفی خبثھا (حدیث:۱۳۸۱) مطولاً عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ، موطا امام مالک(۲؍۸۸۷)، کتاب الجامع(ح:۶) عن عروۃ مرسلاً۔ ]

موطأامام مالک اور صحیحین حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ بیشک مدینہ پاکیزہ ہے۔یہ گندے لوگوں کو ایسے دور کرتا ہے جیسے آگ لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے ۔‘‘[البخارِیِ:۳؍۲۲؛ کتاب فضائِلِ المدِینۃِ، باب المدِینۃ تنفِی الخبث؛ ولفظہ:’’ إِنہا تنفِی الرِجال کما تنفِی النار خبث الحدِیدِ۔‘‘]

صفحہ 5 از 26