فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 24 از 26

[جواب]:ہم کہتے ہیں : واضح رہے کہ یہ دلیل شیعہ کے حق میں مفید ہونے کے بجائے انکے سخت خلاف ہے [ اور ان پر ایک بڑی حجت ہے]۔ کوئی سلیم العقل آدمی اس بات میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں سمجھتا کہ مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے تھے ؛ اسی لیے آپ کی بھی تعظیم کرتے تھے اور آپ کے قبیلہ اوربیٹی کی بھی تعظیم کرتے تھے ۔ آپ کے اقارب خصوصاً آپ کی دختر نیک اختر کا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سب سے زیادہ احترام کرتے تھے؛اگر آپ رسول نہ بھی ہوتے۔ توپھر اس وقت کیا عالم ہوگا جب آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ‘اور لوگوں کو اپنی جان و مال آل و اولاد سے بڑھ کر محبوب ہیں ۔ 

یہ امر بھی کسی بھی عاقل کے لیے شک و شبہ سے بالا ہے کہ عرب جاہلیت و اسلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلہ بنی عبد مناف کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قبیلہ بنی تیم اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبیلہ بنی عدی سے زیادہ مطیع فرمان تھے اور ان کی تعظیم کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت صدیق رضی اللہ عنہ منصب خلافت پر فائز ہوئے تو ان کے والد ابوقحافہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا۔ تو اس نے کہا : بہت بڑا حادثہ پیش آگیا۔ آپ کے بعد کون خلیفہ بنا؟ لوگوں نے کہا : ابو بکر رضی اللہ عنہ ۔تو ابو قحافہ نے پوچھا: کیا بنو مخزوم اور بنو عبد شمس رضا مند ہیں ؟‘‘ لوگوں نے کہا: ہاں ! ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے کہا:’’یہ خاص عنایت ایزدی ہے۔‘‘ [طبقات ابن سعد(۳؍۱۸۳)]

یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت خلافت ہوئی تو ابوسفیان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے اور کہا: ’’ تمھیں یہ بات پسند ہے کہ خلا فت بنو تیم میں ہو؟‘‘

تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا: ’’ ابوسفیان! اسلام کا معاملہ جاہلیت سے مختلف ہے ۔‘‘

[سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا مظلوم نہ تھیں ]:

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام مسلمانوں میں سے کسی ایک بھی مسلمان نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو مظلوم نہیں سمجھا ۔ اور نہ ہی کسی نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ کہا کہ: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ان کے پاس کوئی حق ہے ‘اور نہ ہی ان دونوں حضرات کو ظالم تصور کیا تھا۔کسی مسلمان نے اس بابت ایک لفظ تک زبان پر نہیں لایا۔ بفرض محال اگر مسلمان سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی امداد سے قاصر تھے تو آخر بات کرنے میں کیا حرج تھا؟ تو یہ اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ لوگ جانتے تھے کہ آپ پر ظلم نہیں ڈھایا گیا تھا۔اس لیے کہ اگر لوگوں کو علم ہوتا کہ آپ مظلوم ہیں تو آپ کی نصرت کاترک کرنا دو میں سے کسی ایک سبب کے بنا پر ہوتا:

۱۔ یا تو لوگ آپ کی نصرت سے عاجز آگئے ہوتے۔

۲۔ یا پھر سستی کی وجہ سے آپ کا حق ضائع کردیا گیا ہوتا ۔

۳۔ یا پھر بغض کی وجہ سے لوگوں نے ایسا نہیں کیا ہوگا ؟ [یہ سب فرضی احتمالات ہیں ]۔

اس لیے کہ انسان اگر کوئی کام نہ بھی کرسکتا ہو ؛ پھر بھی جب پختہ ارادہ کرلیتا ہے تو اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر چھوڑتا ہے۔ اور جب ایسا نہیں کرنا چاہتا ؛ حالانکہ اس چیز کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ کام کیا جائے ؛ تو پھر اس کا سبب یاتو اس کام [کی اہمیت ] سے جہالت ہے یا پھر کوئی ایسی رکاوٹ موجود ہے جس کی وجہ سے وہ اپنا ارادہ پورانہیں کرسکتا۔ اگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے شرف ‘ اپنے قبیلہ اور والد محترم کے شرف و احترام کے باوجود مظلوم ہوتیں ؛ حالانکہ آپ کے والد محترم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مخلوق میں سب سے افضل ترین انسان اور امت کو سب سے بڑھ کر محبوب ہستی ہیں ۔ اور لوگوں کو یہ علم ہو کہ آپ مظلوم ہیں ؛ اورپھر بھی لوگ آپ کی نصرت سے رُکے رہیں ؛ تو اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یا تو لوگ آپ کی نصرت کرنے سے عاجز آگئے ہوں ؛ یا پھر آپ کے ساتھ بغض کی وجہ سے آپ کی نصرت کا ارادہ ترک کردیا ہو۔ یہ دونوں باتیں [فقط احتمال اور] باطل ہیں ۔ اس لیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سارے کے سارے عاجز بھی نہیں آگئے تھے کہ آپ کی نصرت میں ایک کلمہ تک اپنی زبانوں پر نہ لاسکیں ۔ بلکہ وہ کسی بھی بڑی سے بڑی برائی کو روکنے پر قادر تھے۔

اس پر مزید یہ کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس ضمن میں کسی کی گفتگو پر کان دھرنے سے منکر نہ تھے۔ وہ طبعاً جابر بھی نہ تھے۔ نظر بریں یہ کسی طرح تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ الفت و مودّت کے اسباب کی موجودگی میں سب مسلمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دختر نیک اختر رضی اللہ عنہا کے دشمن بن گئے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بھی یہی حال ہے۔ یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ دورِ جاہلیت و اسلام میں جمہور قریش و انصار کو خصوصاً اور اہل عرب کو عموماً حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کوئی شکایت نہ تھی اور نہ ہی آپ نے اپنے اقارب میں سے کوئی قتل کیا۔ جن لوگوں کوحضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ان کا تعلق کسی بڑے قبیلہ سے نہیں تھا۔ صحابہ میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جس نے اپنے کسی قریبی کو قتل نہ کیا ہو۔

صفحہ 24 از 26