فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 23 از 26

خلاصہ کلام! مسلمانوں کے خون ناموس و آبرو اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حلال قرار دینے والوں کی تعداد اموی فوج کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں زیادہ تھی۔ اس بات پر سب لوگوں کا اتفاق ہے۔ خوارج ہی کو دیکھئے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج سے الگ ہو گئے تھے۔ یہ عسکر معاویہ رضی اللہ عنہ کے شریر ترین لوگوں سے بھی شریر تر تھے ۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف جنگ لڑنے کا حکم دیاتھا[البخاری ۵؍ ۵۱ ؛ کتاب مناقب الأنصار ؛ باب قصۃ ابي طالب ؛ صحیح مسلم:۱؍ ۱۹۵ ؛ ح۵۱۱ ؛ کتاب الإیمان ؛ باب شفاعۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لابی طالب۔] اور سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء کرام رحمہم اللہ نے ان کے خلاف صف آراء ہونے پر اجماع منعقد کر لیا تھا۔

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ روافض خوارج سے بھی زیادہ جھوٹے، ان سے بڑے ظالم اور کفر و نفاق اور جہالت میں بھی ان پر سبقت لے گئے ہیں ۔ علاوہ ازیں روافض خوارج کی نسبت عجز و ذلت میں بڑھے ہوئے ہوتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ یہ دونوں فریق حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کی فوج سے وابستہ تھے۔ یہی لوگ تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کمزوری کا سبب قرارپائے اور آپ اپنے حریفوں کے مقابلہ سے عاجز رہے۔

ہمارا مقصد یہاں یہ بتانا ہے کہ شیعہ حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کو جن اعتراضات کا نشانہ بناتے ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ان سے بھی زیادہ اہم اعتراضات وارد ہوتے ہیں ۔ اگر شیعہ یہ جواب دیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مجتہد تھے؛ بنا بریں وہ طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کی نسبت اقرب الی الحق تھے۔

تو ہم کہیں گے: طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما بھی مجتہد تھے۔ اگرچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما سے افضل تھے تاہم اگر عائشہ رضی اللہ عنہا کی امداد کیلئے ان کا مدینہ سے نکلنا گناہ کا کام تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اقدام اس سے بھی بڑا جرم ہے۔

اگر شیعہ کہیں کہ طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما چونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو لے کر لڑنے کے لیے آگئے تھے اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فعل کی ذمہ داری ان دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ تو اہل سنت اس کے جواب میں یہ مثال پیش کر سکتے ہیں کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو قتل کرایا ؛حالانکہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ’’ اے عمار! تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘

یہ سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا:’’ کیا ہم نے عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کیا؟ ان کے قتل کے ذمہ دار تو وہ لوگ ہیں جو ان کو ہماری تلواروں کے نیچے لے آئے تھے۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام(حدیث:۳۶۱۱)، صحیح مسلم۔ کتاب الزکاۃ۔ باب التحریض علی قتل الخوارج(حدیث:۱۰۶۶)۔]

اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ دلیل قابل تسلیم نہیں تو ان لوگوں کی دلیل و برہان بھی ناقابل قبول ہے جو کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی توہین و تذلیل کے ذمہ دار طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما ہیں ۔ اور اگر یہ دلیل قابل احتجاج ہے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے استدلال سے بھی انحراف کی گنجائش نہیں ۔

روافض دیگر ظالم و جاہل لوگوں کی طرح ہمیشہ اسی قسم کے دلائل کا سہارا لینے کے عادی ہیں جن سے ان کے اپنے اقوال کا فساد و تناقض ثابت ہوتا ہے۔ یہ دلائل ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کے نظائر و امثال سے شیعہ کے خلاف احتجاج کیا جائے تو ان کے اقوال کا تانا بانا ٹوٹ کر رہ جاتا ہے ۔اور اگر ان کے نظائر ناقابل احتجاج ہوں تو اس سے ان کے دلائل کا بطلان لازم آتا ہے۔ اس لیے کہ متماثلین کے مابین مساوات ضروری ہے، مگر اس کا کیا علاج کہ شیعہ کا منتہائے مقصود صرف خواہش نفس ہے جس کے لیے علم کی چنداں ضرورت نہیں ؛ اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت چھوڑ کر خواہش نفس کے پیچھے پڑ جائے۔اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوَاہُ بِغَیْرِ ہُدًی مِّنَ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ

(القصص:۵۰) 

’’اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو بغیر اللہ کی رہنمائی کے، بیشک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ 

جمہور اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہما سے افضل ہیں ؛ معاویہ رضی اللہ عنہ کی تو بات ہی دور کی ہے۔اہل سنت کہتے ہیں : جب مسلمانوں کے مابین آپ کی خلافت کے دور میں اختلاف واقع ہوگیا تو ایک گروہ وہ تھا جو آپ سے برسر پیکار تھے؛ او ردوسرا گروہ آپ کے ساتھ مل کر قتال کررہا تھا ۔ ان دونوں گروہوں میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی حق پر تھے۔ جیسا کہ صحیحین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا تھا:

’’ جب مسلمانوں میں فرقہ بندی کا ظہور ہو گا تو ایک فریق خروج کرے گا۔ انہیں مسلمانوں کی دو جماعتوں میں سے وہ جماعت قتل کرے گی جو اقرب الی الحق ہو گی۔‘‘ 

خروج کرنے والے خوارج تھے ۔جنہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے قتل کیا۔ اس حدیث سے عیاں ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ کی نسبت اقرب الی الحق تھی۔اہل سنت و الجماعت علم کی روشنی میں عدل و انصاف کے ساتھ بات کرتے ہیں ۔ہر حق دار کو اس کا حق ادا کرتے ہیں ۔

[ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نصرت پر رافضی کا تعجب]:

[اشکال ]: شیعہ مضمون نگار لکھتا ہے:’’ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف صف آرا ہوئیں تو دس ہزار مسلمان آپ کی تائید و نصرت کے لیے تیار ہو گئے۔ اور جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اپنا حق طلب کرنے کے لیے گئیں تو کسی ایک شخص نے بھی آپ کے حق میں ایک لفظ تک نہ کہا۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

صفحہ 23 از 26