فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 21 از 26

’’آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کا کھرا کھرا حال بھی انہیں سنا دوان دونوں نے ایک نذرانہ پیش کیا، ان میں سے ایک کی نذر قبول ہو گئی اور دوسرے کی مقبول نہ ہوئی توکہنے لگا کہ میں تجھے مار ہی ڈالوں گا؛ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تقوی والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے۔‘‘یہ مکمل قصہ ہے ۔

صحیحین میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ کوئی بھی انسان ظلم کی وجہ سے قتل نہیں کیا جائے گا مگر ابن آدم پر اس کے خون کے برابر گناہ ہوگا؛ اس لیے کہ اس نے سب سے پہلے قتل کرنے کی رسم کی طرح ڈالی۔‘‘

مزید برآں شیعہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا جناب حضرت عباس رضی اللہ عنہ پر قدح کرتے ہیں ؛ حالانکہ ان کا ایمان لانا تواتر کے ساتھ ثابت ہے ۔ جب کہ اس کے برعکس ابوطالب کی مدح و تعریف میں رطب اللسان رہتے ہیں ؛ جس کی موت باتفاق اہل علم کفر کی حالت پر ہوئی ہے۔ جیساکہ صحیح احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں ۔صحیحین میں حضرت مسیب بن حزن رحمہ اللہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں :

’’جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے (اس وقت)ابوطالب کے پاس ابوجہل بھی تھا۔ تو آپ نے ان سے فرمایا: اے میرے چچا صرف ایک کلمہ’’ لاإ ِلہ إِلا اللّٰہ‘‘ کہہ دیجئے تو میں اللہ کے ہاں اس کی وجہ سے(آپ کی بخشش کے لئے) سفارش کرنے کا مستحق ہو جاؤں گا۔ تو ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا:’’ اے ابوطالب! تم عبدالمطلب کے دین سے پھرے جاتے ہو؟ پس یہ دونوں برابر ان سے یہی کہتے رہے حتی کہ ابوطالب نے ان سے جو آخری بات کہی وہ یہ تھی کہ: (میں )عبدالمطلب کے دین پر مرتا ہوں ۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ میں اس کے لئے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا جب تک مجھے روکا نہ جائے تو یہ آیت نازل ہوئی:

﴿مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَ لَوْ کَانُوْٓا اُولِیْ قُرْبٰی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ﴾ [التوبۃ۱۱۳]

’’ نبی اور ایمان والوں کے لئے مناسب نہیں ہے کہ مشرکین کے لئے استغفار کریں اگرچہ وہ ان کے قرابتدار ہوں جب کہ انہیں یہ ظاہر ہو چکا کہ وہ دوزخی ہیں۔‘‘ [صحیح بخاری:ج ۲:ح۱۰۸۶]

اور یہ آیت نازل ہوئی کہ:

﴿اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ﴾ [القصص۵۶]

’’آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے ؛ مگر اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے ۔‘‘

صحیح مسلم کی روایت میں ہے : ابوطالب نے کہا :قریش مجھے بدنام کریں گے اور کہیں گے کہ ابوطالب نے ڈر کے مارے ایسا کیا ۔اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں کلمہ پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا۔ اسی پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی:

﴿اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ﴾ [القصص۵۶]

’’آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے ؛ مگر اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے ۔‘‘[رواہ البخاري ۲؍۷۹۔کتاب الجنائز ؛ باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعذب المیت ببعض بکاء أہلہ علیہ ؛ کتاب الانبیاء وباب قول اللہ تعالیٰ و إذ قال ربک للملائکۃ إني جاعل في الأرض خلیفۃ ؛مسلم ۳؍۱۳۰۴۔کتاب القسامۃ ؛ باب بیان إثم من سنَّ القتل؛ سنن الترمذي ۴ ؍۱۴۸۔]

صحیحین میں حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا:

’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے تھے؛ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرتے ؛ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لوگوں پر غصے ہوتے تھے تو کیا ان باتوں کی وجہ سے ان کو کوئی فائدہ ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے انہیں آگ کی شدت میں پایا توانہیں نکال کر ہلکی آگ میں لے آیا۔‘‘ [صحیح مسلم:ح۱۳۸ ؛ ۱؍ ۵۵ ؛ کتاب الایمان ؛ باب الدلیل علی صحۃ إسلام من حضرہ الموت ؛ سنن الترمذي ۵؍۲۱ ؛ کتاب التفسیر ؛ باب تفسیر سورۃ القصص۔]

حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ کے چچا ابوطالب کا تذکرہ ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’یقیناًبروزِ قیامت میری شفاعت سے ابوطالب کو فائدہ پہنچے کہ دوزخ کے اوپر والے حصے میں لایا جائے گا کہ جہاں آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس کی شدت سے اس کا دماغ کھولتا رہے گا۔‘‘[صحیح مسلم:ح۵۱۳؛ البخاری ۵؍۵۱ : کتاب مناقب الأنصار ؛ باب قصۃ ابي طالب ؛ صحیح مسلم:۱؍ ۱۹۵ ؛ ح۵۱۱ ؛ کتاب الإیمان ؛ باب شفاعۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لابی طالب؛ مسند ۳؍۹۔]

مزید برآں صرف نسب پر اللہ تعالیٰ نے کسی کی کوئی تعریف نہیں کی۔بلکہ اللہ تعالیٰ ایمان اور تقوی کی بنیاد پر تعریف کرتے ہیں ؛ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے: ﴿إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ ﴾ [الحجرات ۱۳]

’’بیشک تم میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔‘‘

اصول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

’’تم لوگوں کو معدنیات جیسا پا ؤگے جیسے سونے اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں ۔ زمانہ جاہلیت میں جو لوگ بہترین تھے زمانہ اسلام میں بھی وہ لوگ بہترین ہوں گے جبکہ وہ دین میں سمجھ حاصل کریں ۔‘‘[البخاری ۴؍ ۱۴۰ ؛ کتاب الانبیاء ؛ باب قولہ تعالیٰ: واتخذ اللّٰہ ابراہیم خلیلا ؛ صحیح مسلم:ح۱۹۵۵؛ ۴؍ ۲۰۳۱ ؛ کتاب البر والصلۃ۔]

یہ بات صحیح حدیث سے ثابت شدہ ہے۔ معادن حصول مطلوب کی چیز ہوتی ہیں ۔ اگر ان سے مطلوب حاصل نہ ہو تو وہ معدنیات ناقص ہوتی ہیں ؛ ورنہ حاصل مطلوب اس سے بہتر ہونا چاہیے۔

صفحہ 21 از 26