فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 18 از 26

ایسے بعض فقہائے حدیث کے متبعین کا حال ہے۔ اگر ان میں سے بعض لوگ یہ کہیں کہ ہم سنت کے بڑے متبع ہیں ؛ بیشک ہم صحیح حدیث کی اتباع کرتے ہیں ؛ جبکہ تم لوگ ضعیف حدیث پر عمل کرتے ہو۔ ان کے مقابلہ میں دوسرے لوگ کہیں : بیشک ہم صحیح حدیث کے تم سے بڑے عالم؛ اور تمہاری نسبت جو کہ ضعیف راویوں سے روایت کرتے ہیں ؛ اور ان کی صحت کا اعتقاد رکھتے ہیں ؛ سے بڑے متبع ہیں ۔وہ گمان کرتے ہیں کہ بیشک یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے؛ حالانکہ وہ آپ سے ثابت نہیں ہوتی۔ جیسا کہ یہ گمان کیا جاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھارسفر میں پوری نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ اوریہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے رہے؛ حتی کہ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ اوریہ کہ آپ نے مطلق حج کا احرام باندھا تھا۔ جس میں آپ نے تمتع یا قران یا افراد کی نیت نہیں کی تھی۔ اوریہ کہ مکہ صلح کے ذریعہ فتح ہوا۔ اوریہ کہ جو کچھ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما اور دیگر نے جو جائداد کی تقسیم ترک کردی تھی ؛ یہ متناقض ہے۔ یہ مفقود کے بارے میں خلفائے راشدین اور صحابہ کرام جیسے حضرت علی اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کے حکم اور فیصلہ کے خلاف ہے اور ضعیف راویوں سے منقول کئی ایک احادیث سے استدلال کرتے ہیں ۔

جب ہم یہ کہتے ہیں : ضعیف حدیث رائے سے بہتر ہے۔ اس سے مراد وہ ضعیف حدیث نہیں ہوتی جو کہ متروک ہے۔لیکن اس سے مراد حدیث ِحسن ہوتی ہے۔ جیساکہ حضرت عمرو بن شعیب کی اپنے باپ اور ان کی اپنے والد سے روایت اور حضرت ابراہیم ہجری کی روایت؛ اور ان کی امثال دیگروہ احادیث جنہیں امام ترمذی صحیح یا حسن کہتے ہیں ۔ امام ترمذی سے قبل اصطلاح میں حدیث کی صرف دو اقسام تھیں : صحیح اور ضعیف ۔ اورپھر ضعیف کی دو اقسام تھیں : متروک اورغیر متروک۔ تو ائمہ حدیث اس اصطلاح کے اعتبار سے بات کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئے جوصرف امام ترمذی کی اصطلاح کو ہی جانتے تھے۔ تو انہوں نے جب بعض ائمہ کا یہ قول سنا کہ: ’’ضعیف حدیث ہمارے نزدیک قیاس سے زیادہ محبوب ہے۔ تو ان لوگوں نے یہ گمان کر لیا کہ اسے سے مراد وہ احادیث ہیں ؛جنہیں امام ترمذی جیسے لوگ ضعیف کہتے ہیں ۔اوروہ ان لوگوں کے طریقہ کو ترجیح دینے لگ گئے جو خیال کرتے ہیں کہ ہم صحیح احادیث کی اتباع کرنے والے ہیں ۔اس مسئلہ میں وہ ان متناقضین میں سے ہوتا ہے جو کسی چیز کو دوسری ایسی چیز پر ترجیح دیتے ہیں جو خود ترجیح کی زیادہ حق دار ہوتی ہے۔اس سے کسی بھی طرح کم نہیں ہوتی۔

یہی حال مشائخ طریقت کا ہے؛ جب ان میں سے کوئی ایک کسی ایسے شیخ پر طعنہ زنی کرناچاہتا ہے جس کی کوئی دوسرا تعظیم و تکریم کرتا ہو؛ حالانکہ وہ تعظیم کا زیادہ مستحق اور قدح سے زیادہ دورہوتا ہے۔ جیسے وہ لوگ جو ابو یزید اور شبلی وغیرہ کو افضلیت دیتے ہیں ؛ جو ان سے احوال کی حکایات نقل کرتے ہیں ؛وہ جنید اور اور سہل بن عبداللہ تستری جیسوں پر تنقید کرتے ہیں ؛ جو کہ زیادہ استقامت پر اوربلند مقام و مرتبہ والے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ جہالت کی بنا پر کسی کے عظیم انسان ہونے کے صرف دعوی کو اس کی فضیلت کا موجب قرار دیتے ہیں ۔ اور یہ نہیں جانتے کہ اس کا آخری انجام یہ ہے کہ یہ انسان خطاؤں سے مغفورلہ ہو؛ نہ کہ اس کی سعی مشکورانہ ہو۔ جو کوئی بھی عدل اور علم کی راہ پر نہیں چلتا ؛ نتیجہ میں اسے ان تناقضات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن انسان کی وہی حالت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے:

﴿ وَ حَمَلَہَا الْاِنْسَانُ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًاo لِّیُعَذِّبَ اللّٰہُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَ الْمُشْرِکٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاo﴾ (الاحزاب۳۷] 

’’ اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بلاشبہ وہ ہمیشہ سے بہت ظالم، بہت جاہل ہے ؛تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور (تاکہ) اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کی توبہ قبول کرے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘

پس انسان ظالم اور جاہل ہی ہے؛ سوائے اس کے جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمادے۔

[خلافت علی رضی اللہ عنہ اور اختلاف ]

[ساتواں اعتراض]: شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا خلافت کے منصب پر کون فائز ہوا ہے ؟ ‘‘ لوگوں نے جواب دیا: حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ قرار پائے ہیں ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ، عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص لینے کے دعویٰ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لڑنے کے لیے تیار ہو گئیں ۔ حالانکہ ان کا کوئی قصور نہ تھا۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]:ہم کہتے ہیں : شیعہ مصنف کا یہ قول کہ عائشہ، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قاتل قرار دیا تھا ۔ اس لیے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف صف آراء ہوئے؛ صریح بہتان ہے۔ ان کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کی تحویل میں دے دیں ۔ وہ اس حقیقت سے کلیتاً آگاہ تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دامن قتل عثمان رضی اللہ عنہ سے اتنا ہی پاک تھا جتنا کہ خود ان کادامن؛ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ۔ مگر چونکہ قاتلین نے آپ کے پاس پناہ لے لی تھی۔وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ جن قاتلوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاں پناہ لی ہے وہ ان کو تفویض کردیے جائیں ۔ مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دونوں اس پر قادر نہ تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے قبائل ان کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ فتنہ کی حقیقت بھی یہی ہے کہ ایک مرتبہ جب وہ بپا ہوجاتا ہے تو عقلاء اس کو فرو کرنے سے قاصر رہتے ہیں ۔ بڑے بڑے اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس فتنہ کی آگ بجھانے اور اسے روکنے سے قاصر رہے ۔فتنوں میں ہمیشہ ایسے ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

صفحہ 18 از 26