فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 17 از 26

لوگوں کے بارے میں جو گفتگو ہو وہ ظلم و جہل کی بجائے علم و عدل پر مبنی ہوناواجب ہے؛ ظلم و جہالت پر مبنی کرنا اہل بدعت کا شیوہ ہے ۔ روافض کا یہ حال ہے کہ وہ دو قریب الفضیلت اشخاص میں تقابل کرتے ہوئے ایک کو معصوم قرار دیتے اور دوسرے کو ظلم و گناہ کا مجسمہ کافر و فاسق قرار دیتے ہیں ۔ یہ بات ان کے جہل و تناقض کی آئینہ دار ہے ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی یہودی یا نصرانی جب حضرت موسیٰ یا عیسیٰ کی نبوت کا اثبات کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر تنقید کرے گا تو یہ اس کے عجز و جہل اور تناقض کا اظہار ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ یا عیسیٰ کی رسالت کے اثبات میں وہ جو دلیل پیش کرے گا، اسی دلیل؛ بلکہ اس سے بھی قوی تر دلیل وبرہان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ثابت ہو گی۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر جو بھی شبہ پیش کیا جائے گا اس سے زیادہ قوی شبہ حضرت عیسیٰ اور حضرت موسی علیہم السلام پر پیش کیا جائے گا۔خلاصہ یہ کہ جو شخص بھی دو مماثل چیزوں میں تفریق پیدا کرے گا یا ایک چیز کی مدح کرے اور بعینہٖ اس جیسی چیز کی مذمت کرے یا بالعکس وہ اسی قسم کے عجز و جہل اور تناقض کا شکار ہو گا۔ علماء و مشائخ کے اتباع کا بھی یہی حال ہے، جب کوئی شخص اپنے ہادی و پیشوا کی مدح میں رطب اللسان ہو اور اس جیسے دوسرے بزرگ کی مذمت کا مرتکب ہو تو وہ بھی تناقض کے مرض میں مبتلا ہو گا۔

جب کوئی عراقی یوں کہے کہ: اہل مدینہ نے فلاں فلاں سنت کے خلاف کیا ہے؛ اور ان مسائل میں صحیح حدیث کو ترک کردیا ہے؛ اور ایسے ہی فلاں فلاں مسئلہ میں رائے کی پیروی کی ہے۔مثال کے طور پر کوئی اہل مدینہ کے بارے میں کہے کہ: ان کے نزدیک تلبیہ پڑھنے کا وقت جمرہ عقبہ کی رمی تک نہیں ؛ اور نہ ہی محرم احرام سے اورتحلل ثانی سے پہلے خوشبو لگاسکتا ہے۔اور نہ ہی مفصل سورتوں میں سجدہ ہے۔ اور نہ ہی نماز میں تعوذ اور دعا استفتاح اور دو طرف سلام ہے۔اور ایسے ہی ہر کنچلی والا درندہ بھی حرام نہیں ہے؛ اور نہ ہی ہر ناخن والا پرندہ ان کے نزدیک ناجائز ہے؛ اوروہ حشوش کو بھی حلال سمجھتے ہیں ۔حالانکہ ان کے مابین ان مسائل میں اختلاف نہیں ۔ تو اہل مدینہ کہتے ہیں : ہم سنت کے سب سے بڑے پیروکار؛ اوراہل عراق کی نسبت اس کی مخالفت اور ائے سے بہت دور ہیں ۔وہ اہل عراق جن کی رائے میں ہر نشہ آور مشروب حرام نہیں ہوتا؛ اوریہ کہ صرف نجاست کے گر جانے سے کنوئیں کا پانی ناپاک نہیں ہوتا ۔ ان کے نزدیک استسقاء کے لیے نماز نہیں ہے؛ اور نہ ہی نماز کسوف کی ہر رکعت میں دو رکوع ہوتے ہیں ۔ اور نہ ہی وہ حرم مدینہ کو حرم سمجھتے ہیں ۔اورنہ ہی ایک گواہ اور قسم کی موجودگی میں فیصلہ کرتے ہیں ۔ اور نہ ہی قسامہ میں دونوں مدعیان کو قسم دیتے ہیں ۔اور نہ ہی حج قرآن میں ایک سعی اور طواف پر اکتفاء کرتے ہیں ۔وہ سبزیوں میں تو زکواۃ کو واجب کہتے ہیں ؛ مگراجناس میں اسے جائز نہیں سمجھتے۔ اور نہ ہی نکاح شغار اورنکاح حلالہ کے باطل ہونے پر یقین رکھتے ہیں ؛ اور اعمال میں نیت کو شرط نہیں سمجھتے۔ ادنیٰ قسم کے حیلوں سے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کر لیتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ادنیٰ قسم کے حیلہ سے شفعہ کے حق کو ساقط کردیتے ہیں ۔ اور حرام چیزیں جیسے زنا؛ جوا؛ اور سفاح کو حیلوں سے حلال کر لیتے ہیں ؛ ایسے ہی حیلوں سے زکاۃ کو ساقط کرتے ہیں ۔ اور عقد میں قصد کو معتبر نہیں سمجھتے۔ اور حدود کو معطل کرتے ہیں ؛ حتی کہ ملک کی سیاست صرف ان کی رائے کے مطابق ہو جائے۔پس یہ لوگ کھانے یا پھل کی چوری اور مباح چیز کی چوری پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹتے ۔اوروہ کسی شرابی پر حد نہیں لگاتے حتی کہ وہ اقرار کرلے؛ یا پھر اس پر گواہی قائم ہوجائے۔ وہ کسی کو الٹی کرتا دیکھ کر؛ یا شراب کی بو پاکر حد نہیں لگاتے۔ جب کہ خلفائے راشدین اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس کے خلاف ہے۔اور بھاری چیز سے قتل کرنے پر قصاص کو واجب نہیں کہتے۔اور نہ ہی قاتل کے ساتھ ویسا سلوک کرتے ہیں جیسا اس نے مقتول کے ساتھ کیا ہے۔ بلکہ بسا اوقات ظالم نے مظلوم کا ہاتھ اور پاؤں کاٹے ہوتے ہیں ؛ اور اس کا پیٹ چاک کیا ہوتا ہے۔مگریہ لوگ صرف اس کی گردن زنی کو ہی کافی سمجھتے ہیں ۔اور کسی ذمی کافر کے بدلہ میں کسی بہترین مسلمان کو بھی قتل کردیتے ہیں ۔ مہاجرین و انصار اور اہل ذمہ کفار کی دیت کو برابر سمجھتے ہیں ۔او رجو کوئی اپنی کسی محرم جیسے ماں یا بیٹی سے وطی کر لے ؛اوروہ اس کا حکم جانتا بھی ہو؛ اس سے حد کو محض عقد کی صورت کی وجہ سے ساقط قرار دیتے ہیں ۔مزید برآں وہ منافع کے کرایہ کو ساقط قرار دیتے ہیں ۔ اور مزدلفہ اور عرفات کے علاوہ کہیں بھی دو نمازیں اکٹھی پڑہنے کے قائل نہیں ہیں ۔ اورنہ ہی فجر کو اندھیرے میں پڑہنا مستحب سمجھتے ہیں ۔اور نہ ہی سری رکعات میں امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کرتے ہیں ۔ اور نہ ہی رات سے روزہ کی نیت کرلینے کو واجب کہتے ہیں ؛ حالانکہ انہیں علم ہوتا ہے کہ کل رمضان ہے۔اور مشاع کے وقف اور ہبہ اور گروی رکھنا جائز نہیں سمجھتے۔گوہ اور گھوڑے کو حرام کہتے ہیں ؛ جنہیں اللہ اوراس کے رسول نے حلال ٹھہرایا ہے۔ اور اس نشہ آور چیز کو حلال کہتے ہیں جسے اللہ اوراس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ ان کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ عصر کا وقت اس شروع نہیں ہوتا جب ہر چیز کا سایہ اس کا دگنا ہو جائے؛ اور کہتے ہیں : بیشک نماز فجر طلوع کے ساتھ باطل ہو جاتی ہے۔ اور قرعہ کو جائز نہیں سمجھتے۔ اورحدیث مصراۃ کو قبول نہیں کرتے؛ اور نہ ہی مشتری کے مفلس ہونے جانے پر اس کی بات مانتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں : جمعہ اوردیگر نماز ایک رکعت سے کم پر بھی ان کا ادراک ہو سکتا ہے۔ اور ایک یا دو یوم کی مسافت پر نماز کی قصر کو جائز نہیں سمجھتے؛ اور نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے کو جائز سمجھتے ہیں ۔

صفحہ 17 از 26