فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 16 از 26

’’ ہم دل سے چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کیلئے بددعا کریں کہ وہ ہلاک ہو جائے یا کسی مصیبت میں گرفتار ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا:’’ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی معبودیت اور میری رسالت کی گواہی نہیں دیتا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :’’زبان سے تو وہ اس کا قائل ہے مگر اس کے دل میں یہ بات نہیں ۔‘‘ فرمایا:’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کی تو حید اور میری رسالت کی گواہی دے گا وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا یا یہ فرمایا کہ اس کو آگ نہ کھائے گی۔‘‘ [سیرۃ ابن ہشام ۳؍ ۲۵۱۔ولکن مع اختلاف في اللفظ في: صحیح بخاری۴؍۶۷۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب إذا نزل العدو علی حکم رجل، صحیح مسلم ۳؍۱۳۸۸ ؛ ۔ کتاب الجہاد والسیر ؛ باب جواز القتل من نقض العہد ۔]

جب یہ اصول ہے؛ او ر پھر یہ ثابت ہوجائے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی ایک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یا حضرت عمار رضی اللہ عنہ یا کوئی دوسرا صحابی اگرکسی دوسرے صحابی کو کافر سمجھے؛ مثلاً : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یا کسی دوسرے صحابی کو ؛ اور تأویل کی بنا پر اس کو قتل کرنا جائز سمجھے ؛ تو اس کا شمار بھی مذکورہ بالا تاویل کے باب سے ہوگا۔ اور یہ بات ان میں سے کسی ایک کے ایمان پر بھی قادح نہیں ہوگی۔ او رنہ ہی اس سے کسی کے اہل جنت ہونے میں کوئی فرق آئے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ اور حضرت عمار رضی اللہ عنہما سے افضل ہیں ۔حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کی غلطی بہت بڑی ہے ؛ جب آپ کی یہ غلطی معاف کردی گئی ہے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی غلطی بالاولی مغفرت کی مستحق ہے۔

جب یہ جائز ہے کہ حضرت عمر او رحضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما جیسے انسان کفر کا حکم لگانے اور مباح الدم سمجھنے میں اجتہاد کرسکتے ہیں ‘ اگرچہ یہ اجتہاد حقیقت واقع کے مطابق نہ بھی ہو؛ تو پھر اس قسم کے اجتہاد کا حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس قسم کے اجتہاد کا ہونا زیادہ اولی ہے ۔

[بڑے آدمی کے لیے معصوم ہونا شرط نہیں ]:

چوتھی بات:....ان سے کہا جائے گا: ’’ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر قدح کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جو روایت منقول ہے ؛ اگر یہ صحیح سند سے ثابت ہوجائے تو پھر بھی اس میں دو احتمال ہیں : یا تو آپ کی رائے درست ہوگی ؛ یا غلط ۔ اگر آپ کی رائے درست ہے ؛ تو پھر اسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی برائیوں میں شمار نہیں کرنا چاہیے ۔اور اگر آپ کی یہ رائے غلط ہے تو پھر اسے سیّدناعثمان رضی اللہ عنہ کی برائیوں میں شمار نہیں کیا جانا چاہیے ۔ [ان روایات کی بنا پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نقائص کو جمع کرنا قطعی طور پر باطل ہے ]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قتل عثمان رضی اللہ عنہ پر جس دکھ و رنج کا اظہار کیا ؛ آپ کے قاتلین کی مذمت کی ؛ اور آپ کے خون کا انتقام چاہا؛ اس کا تقاضا [ہے کہ اگربالفرض کبھی کوئی ایسی بات سے آپ ہوئی ہے تو اس پر] ندامت ہے۔جیسا کہ آپ نے مدینہ طیبہ سے جنگ جمل کے لیے نکلنے پر ندامت کا اظہار فرمایا تھا۔ بیشک اگر اس واقعہ پر آپ کی ندامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور ان کے حق کا اعتراف ہے؛ تو پھر یہ[قتل عثمان پر] ندامت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور ان کے حق کا اعتراف ہے۔ اگر یہ اعتراف درست نہیں تو پھلا اعتراف بھی درست نہیں ۔

مزید برآں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جمہور صحابہ اور جمہور مسلمین سے جس قدر ملامت کا اظہار حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ہوا ہے؛ایسی ملامت کا اظہار عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے نہیں ہوا۔اگریہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پرملامت کے لیے حجت ہے ؛ تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ملامت کے لیے بھی حجت ہے۔ اگر اس واقعہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ملامت کے لیے کوئی حجت نہیں ہے تو پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پرملامت کے لیے بھی کوئی حجت نہیں ہے۔ اگر اس سے مقصود اس ملامت گری پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں قدح کرنا ہے تو پھر یہ جان لینا چاہیے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا [اس مسئلہ میں اکیلی نہیں ہیں ‘ بلکہ آپ ] جمہور صحابہ کیساتھ ہیں ۔ مگر اس ملامت گری کے درجات مختلف ہیں ۔

اگر اس سے مقصود تمام لوگوں پر قدح کرنا ہو‘جیسے : حضرت عثمان؛ حضرت علی ؛ حضرت طلحہ ؛ حضرت زبیر ؛ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم نیز ملامت کیے گئے اور ملامت کرنے والے ۔

تو ان سے کہا جائے گا کہ : ہم ان میں سے ہر ایک کے لیے معصوم ہونے کا دعوی نہیں کرتے۔بلکہ ہم کہتے ہیں : یہ لوگ اولیاء اللہ متقین تھے؛ ان کا شمارنجات پانے والی اللہ تعالیٰ کی جماعت میں ہوتا ہے۔ اللہ کے نیک بندے تھے ؛ اور جنت کے سرداروں میں سے تھے۔ اور ہم یہ بھی کہتے ہیں : گناہ کا صادر ہونا ان لوگوں کے لیے بھی جائز ہے جو صدیقین سے افضل ہوں ‘ او رصدیقین سے بڑے ہوں ۔ مگر ان گناہوں کی سزا توبہ ‘ استغفار ؛گناہ مٹانے والی نیکیوں ؛ مصائب و آلام ؛ اور دوسرے امور کی وجہ سے ختم ہوجاتی ہے۔ پس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے لیے توبہ و استغفارکرنا بھی ثابت ہے ‘ اور ان کی اتنی نیکیاں ہیں جو ان کے بعد آنے والے کسی کے حصہ میں نہیں آئیں ۔اور انہیں ایسی آزمائشوں اورمصیبتوں سے پالاپڑا ہے [جنہوں نے ان کے گناہ دھوکر ختم کردیے ہیں ]یہ مصیبتیں کسی دوسرے پر نہیں آئیں ۔ ان کی اتنی قابل شکر کوششیں اور نیک اعمال ہیں جو ان کے بعد آنے والوں کے حصہ میں نہیں آئے۔ یہ برگزیدہ لوگ گناہوں کی بخشش کے بعد میں آنے والے لوگوں کی نسبت زیادہ حق دار ہیں ۔

صفحہ 16 از 26