فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 14 از 26

تیسری بات :....فرض کیجیے صحابہ میں سے کوئی....حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہوں یا کوئی اور....غصہ کی حالت میں کوئی ایسی بات کہے؛ اس لیے کہ وہ بعض خرابیوں کا انکار کرنا چاہتا ہو‘ تو اس کی بات کیوں کر حجت ہو سکتی ہے۔[لڑائی ہے جو ۳۷ ہجری میں حضرت عثمان کی خلافت کے زمانہ میں حضرت معاویہ کے زیر قیادت لڑائی لڑی گئی اور جس میں آپ نے جزیرہ قبرص کو فتح کیا۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کیلئے یہ فخر کیا کم ہے کہ آپ اوّلین اسلامی بحری بیڑے کے بافی تھے۔یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں شامل ہے کہ ام حرام رضی اللہ عنہا جس نے مجاہدین کے زمرہ میں شریک ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور آپ نے اس کو پہلے مجاہدین میں شمولیت کی بشارت دی تھی امیر معاویہ کے بحری بیڑہ میں شریک تھیں ان کے خاوند حضرت عبادہ بن صامت اور دیگر صحابہ میں سے ابودرداء اور ابو ذر رضی اللہ عنہما بھی رفیق لشکر تھے۔ ام حرام نے اسی جگہ وفات پائی اور آج تک آپ کی قبر قبرص میں موجود ہے۔حافظ ابن کثیر مزید فرماتے ہیں : ’’غزوہ قسنطنیہ کے موقع پر دوسرے لشکر کی قیادت کا شرف یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آیا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے خواب کی تعبیر بروئے کار آئی۔ یہ آپ کی رسالت کی صداقت کے عظیم دلائل میں سے ایک ہے۔‘‘ عباسی خلافت میں تملق و خوشامد کا دور دورہ تھا۔ اور لوگ بنو امیہ کے محاسن کو معائب کا رنگ دے کر عباسی خلفاء کی خوشنودی حاصل کرتے تھے اسی دوران میں چند طالب علم امام الائمہ سلیمان بن مہران الاعمش کوفی رحمہ اللہ کے یہاں جمع ہوکر حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے عدل و انصاف کا ذکر کرنے لگے یہ سنکر امام اعمش بولے:’’ اگر تم امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت دیکھ لیتے تو پھر کیا ہوتا۔‘‘ طلبہ نے عرض کیا:’’ کیا آپ کی مراد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حلم اور بردباری سے ہے۔‘‘ فرمایا اﷲ کی قسم! نہیں بلکہ آپ عدل وانصاف میں یکتا تھا۔‘‘ امام اعمش مجاہد سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: ’’ اگر تم حضرت معاویہ کو دیکھ لیتے تو کہتے کہ یہی مہدی ہیں ۔‘‘ یونس بن عبید قتادہ بن دعامہ سدوسی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس نے کہا:’’ اگر تم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے کام کرنے لگو تو اکثر لوگ کہنے لگیں کہ تم ہی مہدی ہو۔‘‘ابو اسحاق السُّبَیعی نے ایک دن حضرت معاویہ کاذکر کرتے ہوئے کہا:’’ اگر تم ان کا زمانہ پا لیتے تو کہتے کہ یہی مہدی ہیں ۔‘‘ امام احمد بن حنبل صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تصنیف کتاب الزہدمیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام زہد میں ضرب المثل کے طور پر بیان کیا ہے۔محی الدین خطیب نے کتاب’’ العواصم من القواصم‘‘ کے حواشی پر اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ ایک طرف امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ اصلی تصویر ہے جو صلحائے امت محمدی سے منقول ہے۔ دوسری جانب شیعہ کی پیش کردہ جعلی تصویر ہے جو فساق و فجار نے اپنی پر از ضلالت کتب میں امت محمدی کے لاتعداد لوگوں کو مبتلائے فریب کرنے کے لیے وضع کی ہے۔(فَاللّٰہُ حَسِیْبُہُمْ وَ ہُوَ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ) صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ۔ باب ذکر کذاب ثقیف و مبیرھا (حدیث: ۲۵۴۵) ]اس سے نہ کہنے والے کی شان میں کوئی فرق آتا ہے نہ اس کی شان میں جس کے بارے میں وہ لفظ کہا گیا۔ بایں ہمہ وہ دونوں جنتی بھی ہوسکتے ہیں اور اللہ کے ولی بھی۔ حالانکہ ان میں سے ایک دوسرے کو واجب القتل اور کافر تصور کرتا ہے مگر وہ اس ظن میں خطاء کار ہے۔

جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ مذ کور ہے؛ جو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکے تھے۔صحیح حدیث میں ثابت ہے ان کے غلام نے کہا : ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم ! حاطب بن ابی بلتعہ جہنم میں جائے گا ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم نے جھوٹ بولا ؛ وہ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکا ہے۔ ‘‘[یہ شیعہ کا وضع کردہ جھوٹ ہے۔ نعثل کا لفظ صرف قاتلین عثمان کی زبان پر جاری ہوا۔ قاتلین عثمان میں سے اوّلین شخص جس(]

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:((جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کا ارادہ کیا تو حاطب نے مشرکین مکہ کے نام ایک خط لکھا اور اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز منکشف کردیے۔ وحی کے ذریعہ آپ ان تمام حالات سے باخبر ہوئے ،تو حضرت علی رضی اللہ عنہ وزبیر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا مکہ کی جانب چلتے جاؤ اور جب باغ خاخ آجائے تو وہاں تمھیں ایک شتر سوار عورت ملے گی اس کے پاس ایک خط ہو گا ۔ وہ خط اس سے لے لیجیے۔ جب علی و زبیر رضی اللہ عنہما وہ خط لے کر واپس لوٹے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب رضی اللہ عنہ کو بلا کر خط لکھنے کا سبب دریافت کیا۔ حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! میں نے یہ فعل اس لیے انجام نہیں دیا کہ میں مرتد ہو گیا یا کفر پر راضی ہو گیا تھا۔اصل معاملہ یہ ہے کہ میں نسباً قریشی نہیں ہوں ، بلکہ باہر سے آکر مکہ میں آباد ہوا تھا۔ مدینہ میں جو لوگ ہجرت کرکے آئے ہیں ، مکہ میں ان کے عزیز و اقارب ہیں جو ہر طرح ان کے گھر بار کی حفاظت کرتے ہیں ۔ میں نے چاہا کہ اس طرح قریش کو ممنون کردوں تاکہ وہ میرے کنبہ کی حفاظت کرتے رہیں ۔‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں ۔ آپ نے فرمایا:’’ حاطب بدر میں شرکت کر چکا ہے اور اللہتعالیٰ نے اہل بدر کے متعلق فرمایاہے:﴿اِعْمَلُوْا مَاشِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ ﴾ (جو اعمال چاہو انجام دو میں نے تمھیں بخش دیا۔‘‘اسی دوران میں سورۂ ممتحنہ کی یہ آیت نازل ہوئی: 

﴿ ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ تُلْقُوْنَ اِِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ

صفحہ 14 از 26