فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی…

فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 13 از 26

[لیے کہ عمیر اصحاب رسول اور زہاد انصار میں سے تھے۔ امام بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب’’ مناقب الصحابہ‘‘ میں ابن ابی ملیکہ تمیمی سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ امیر المومنین معاویہ رضی اللہ عنہ ایک وتر پڑھتے ہیں ۔ یہ سن کر انھوں نے فرمایا: ’’ معاویہ رضی اللہ عنہ فقیہ ہیں ۔‘‘ (صحیح بخاری۔ باب ذکر معاویۃ رضی اللہ عنہ ، حدیث:۳۷۶۵) عبد الرحمن بن ابی عمیرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ دعا فرمائی: ’’اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ ہَادِیًا مَّہْدِیًّا وَاہْدِبْہِ‘‘ ( سنن ترمذی۔ کتاب المناقب۔ باب مناقب معاویۃ بن ابی سفیان رضی اللّٰہ عنہ (ح: ۳۸۴۲) عبد الرحمن بن ابی عمیرہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں یہ دعا فرمائی: ’’ اَللّٰہُمَّ عَلِّمْہُ الْکِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِہِ الْعَذَابَ‘‘ (معجم کبیر طبرانی (۱۸؍۲۵۲) مذکورہ بالا روایت امام بخاری نے اپنی تاریخ میں ابو مسہر سے نقل کی ہے۔ (تاریخ کبیر بخاری (۷؍۳۲۷)، امام احمد یہی روایت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ (مسند احمد (۴؍۱۲۷)، صحیح ابن حبان(۲۲۷۸: الموارد) مفسر ابن جریر اسے ابن مہدی سے روایت کرتے ہیں ۔ علاوہ ازیں مندرجہ ذیل محدثین نے یہ روایت اپنی تصانیف میں نقل کی ہے: ۱۔ اسدبن موسیٰ المتوفی ۱۳۲۔۲۱۲ ہجری جن کو ’’ اسد السنہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ ۲۔ بشر بن السری الافواہ البصری(۱۳۲۔۱۹۵) یہ امام احمد کو استاد تھے ان کی روایت میں ’’ اَدْخِلْہُ الجنۃَ‘‘ کے لفظ بھی ہیں ۔ ۳۔ عبد اﷲ بن صالح مصری یہ امام لیث بن سعد کے کاتب تھے۔ ۴۔ ابن عدی وغیرہ نے یہ روایتابن عباس سے نقل کی ہے۔ ۵۔ محمد بن سعد۔ صاحب الطبقات یہ روایت مسلمہ بن مخلد فاتح و امام مصر سے بیان کرتے ہیں ۔ حضرت معاویہ کے بارے میں مذکورہ دعائے نبوی کے ناقل لا تعداد صحابہ ہیں ۔(دیکھیے البدایۃ النہایۃ:۸؍۱۲۰۔۱۲۱) نیز ترجمہ معاویہ حرف المیم تاریخ دمشق حافظ ابن عساکر)۔ مذکورۃ الصدر روایات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ حضرت معاویہ ہدایت یافتہ اور لاتعداد فضائل و مناق کے حامل تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کے مقابلہ میں شیعہ کے مفروض مہدی کی کیا حقیقت جو نہ ابھی پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی اس سے مستفید ہو سکا۔ جو شخص دانستہ ان احادیث کو تسلیم نہ کرے وہ حدیث نبوی کامنکر ہے مقام حیرت ہے کہ بعض شیعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر لعنت بھیجنے اور ان سے بغض و عداوت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان قرار دیتے ہیں ان کو دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھنا چاہئے کہ آپ نے حضرت معاویہ کے حق میں ایسی دعا کیوں فرمائی: ’’بے حیا باش ہرچہ خواہی کن‘‘ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ امام ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے کہا: ’’ میں معاویہ سے بغض رکھتا ہوں ۔‘‘ تو ابو زرعہ رحمہ اللہ نے کہا:’’ معاویہ کا رب بڑا رحیم وکریم ہے اور آپ کے حریف( حضرت علی) بھی بڑے شریف آدمی تھے۔ تم دونوں کے درمیان مداخلت کرنے والے کون ہو۔‘‘ امام بخاری اپنی صحیح میں جو قرآن کریم کے بعد اس کرۂ ارضی پر صحیح ترین کتاب ہے نیز امام مسلم اپنی صحیح کی کتاب’’ الامارۃ‘‘ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام قباء میں تشریف لے گئے اور انس کی خالہ ام حرام بنت ملحان کے یہاں قیلولہ فرمایا تو آپ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ کی امت کے کچھ لوگ تاج و تخت سے آراستہ اعداء دین سے بحری جنگ لڑ رہے ہیں آپ پھر سو گئے اور وہی خواب دیکھا ام حرام نے کہا :یارسول اللہ! دعا فرمائیے کہ اﷲ تعالیٰ مجھے ان مجاہدین میں شامل کردے۔ آپ نے فرمایا تو پہلے مجاہدین میں شامل ہے۔‘‘ (صحیح بخاری کتاب الاستئذان۔ باب من زار قوماً فقال عنھا (حدیث: ۶۲۸۳، ۶۲۸۲)، صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ ۔ باب فضل الغزو فی البحر (حدیث:۱۹۱۲) حافظ ابن کثیر’’البدایۃ والنہایۃ‘‘(۸؍۳۲۹) پر لکھتے ہیں :’’ حدیث میں جس غزوہ کی پیش گوئی کی گئی ہے اس سے مراد وہ بحری (]

’’ ثقیف کے قبیلہ میں ایک کذاب اور ایک قاتل ہو گا۔‘‘

کذاب سے مختار مراد ہے اور قاتل سے مراد حجاج بن یوسف۔ مختار کا والد ابو عبید ثقفی بڑا نیک آدمی تھا اس نے مجوس سے لڑتے ہوئے شہادت پائی۔ مختار کی بہن صفیہ بنت ابی عبید حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ۔ یہ بڑی نیک دل خاتون تھیں ۔جب کہ مختار بد ترین شخص تھا۔

[قتل عثمان میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شراکت کا الزام اور اس پر رد:]

[چھٹا اعتراض]:....شیعہ کا یہ قول کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرانا چاہتی تھیں اور اسی سازش میں شریک رہا کرتی تھیں ۔اور کہا کرتی تھیں :’’ بوڑھے احمق کو قتل کردو۔‘‘ وہ ہمیشہ دعا کیاکرتی تھیں :’’اللہ اس بیوقوف بوڑھے کو قتل کرے۔‘‘

جب عائشہ رضی اللہ عنہا کو قتل عثمان رضی اللہ عنہ کی خبر پہنچی تو بہت خوش ہوئیں ۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب] : ۱۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس روایت کی دلیل پیش کیجیے۔

دوسری بات:....جوچیز اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے ‘ وہ اس رافضی دعوی کو رد کرتی ہے۔ اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ حضرت کے قتل پر سخت انکاری تھیں ۔قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کومذمت اور نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھتیں اور اس میں شرکت کرنے والوں کو ....خواہ ان کا بھائی محمد بن ابوبکر ہو یا کوئی اور مذموم قرار دیتی تھیں ۔انہوں نے اپنے بھائی محمد بن ابو بکر اور مشارکین قتل عثمان رضی اللہ عنہ پر بد دعا کی تھی۔

[غلط فہمی کی بناپر اہل حق کا باہم کفر و نفاق کا فتوی]:

صفحہ 13 از 26