فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب - ردِ رافضیت |…

فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 16 از 16

جاہل رافضی کا یہ قول کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے بیت المال سے بغیر کسی گواہی اور دلیل کے صرف اپنے دعوی کی بنیاد پر مال لے لیا ؛ یہ ایسے جاہل انسان کا کلام ہوسکتا ہے جواس بارے میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو نہ جانتا ہو۔اس لیے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو جو مال دیا گیا اس کا تعلق ان اموال سے تھا جن کا مسلمانوں کے مابین تقسیم کیا جانا واجب تھا۔ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ بھی مسلمانوں میں سے ایک ہیں ۔ اور ان کا اس مال میں حق بھی تھا۔ وہ بیت المال کے شرکاء میں سے ایک ہیں ۔ جب مسلمان حاکم مسلمانوں میں سے کسی ایک کو مسلمانوں کے بیت المال میں سے کچھ مال دے دے تو یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ اس نے بغیر کسی دلیل کے مسلمانوں کے بیت المال میں سے مال دے دیا۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنے اور انہیں عطیات دینے کے لیے کسی گواہی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بخلاف اس کے کہ کوئی انسان تمام مسلمانوں کے برعکس کسی اصل مال کا ہی دعوی کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان حکمران کو اپنے اجتہاد و تقدیر سے مال تقسیم کرنے کی اجازت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حثیات بھر بھر کر مال تقسیم کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح منقول ہے ۔ حثیات ایک قسم کا پیمانہ ہے [اس کا لفظی ترجمہ بھری ہوئی لپیں ہے ۔دراوی]۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تین حثیات بھر کردینے کا وعدہ فرمایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک میں یہ عام سا فعل ہے [اس لیے کہ آپ لوگوں کو ایسے ہی نوازا کرتے تھے ]۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے صرف وہی چیز بیان کی تھی جس کا آپ سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اور اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء و اتباع کرنی چاہیے تھی۔پس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اتنا دیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا۔[یہ پوری حدیث صحیح بخاری کتاب الکفالۃ باب من تکفل عن میت دیناً میں نقل کی ہے؛ حدیث نمبر: 3164؛ اس کے الفاظ یہ ہیں : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر ہمارے پاس بحرین سے روپیہ آیا ، تو میں تمہیں اتنا ، اتنا ، اتنا [تین لپ]دوں گا ۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور اس کے بعد بحرین کا روپیہ آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر کسی سے کوئی دینے کا وعدہ کیا ہو تو وہ ہمارے پاس آئے ۔ چنانچہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا روپیہ ہمارے یہاں آیا تو میں تمہیں اتنا ، اتنا اور اتنا دوں گا ۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اچھا ایک لپ بھرو ، میں نے ایک لپ بھری ، تو انہوں نے فرمایا کہ اسے شمار کرو ، میں نے شمار کیا تو پانچ سو تھا ، پھر انہوں نے مجھے ڈیڑھ ہزار عنایت فرمایا۔‘‘]

پھر آپ نے جب ان کی تعداد دیکھی تو اتنا ہی آپ کو دوبار مزید بھی دیا ۔ تاکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہوجائے [اور اس میں کسی قسم کی کمی نہ ہو]۔اس لیے کہ حسب امکان فرمان نبوت کی موافقت کرنا واجب ہوتا ہے۔ اگر اس کا علم حاصل ہوجائے تو ٹھیک ہے ‘ ورنہ اجتہاد سے کام لیا جائے گا۔ باقی رہا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دعوی ہبہ کا قصہ ؛ اور آپ کا گواہوں کو لانا وغیرہ ۔ اگر اس قصہ کو صحیح تسلیم کربھی لیا جائے تو جو لوگ اس سے مدح کا پہلو نکالنا چاہتے ہیں ‘ ان کے لیے اتنی ہی قدح اس قصہ سے ثابت ہوتی ہے ۔


صفحہ 16 از 16