فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب - ردِ رافضیت |…

فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 15 از 16

سورہ نساء کی حسب ذیل آیت بھی اسی قبیل سے ہے:

﴿یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَ یَہْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْکُمْ ﴾ (النساء:۲۶)

’’اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے لیے کھول کر بیان کرے اور تمھیں ان لوگوں کے طریقوں کی ہدایت دے جو تم سے پہلے تھے اور تمہاری توبہ قبول فرمائے۔‘‘

علاوہ ازیں اس نوع کی وہ آیات جن میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے فلاں چیز کو پسند کرتے اور اس کا حکم دیتے ہیں جو شخص یہ کام کرے گا وہ مقصود کو پالے گا اور جو ایسا نہیں کرے گا وہ اپنے مقصد سے دور رہے گا۔دوسرے موقع پر اس کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں ؛جس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ بات منکرین تقدیر روافض پر چسپاں ہوتی ہے۔ شیعہ اس بات کے قائل ہیں کہ ارادۂ الٰہی سے اس کا حکم مراد ہے ۔یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ وہی کام کرتا ہے 

جس کا وہ ارادہ کرتا ہے۔بنا بریں یہ ثابت ہوا کہ تطہیر کا ارادہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ شخص فی الواقع پاک بھی ہو جائے۔ شیعہ کے نزدیک یہ جائز نہیں کہ کوئی کسی کو پاک کرے بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو پاک کرنا چاہتے ہیں اگر وہ چاہے تو اپنے آپ کو پاک کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ شیعہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کسی کی تطہیر پر قادر نہیں ہے۔

[صدقات اوربنی ہاشم]:

[اشکال ]:شیعہ مصنف کا یہ قول :’’بنی ہاشم پر صدقہ حرام ہے۔‘‘ 

[جواب] :ہم کہتے ہیں کہ: صرف فرض صدقات بنی ہاشم پر حرام ہیں ۔ نفلی صدقات مباح ہیں ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ بنی ہاشم وہ خیراتی پانی پی لیا کرتے تھے جو مکہ و مدینہ کے مابین تقسیم کیا جاتا تھا۔ اور کہا کرتے تھے کہ فرضی صدقات ہم پر حرام ہیں نفلی صدقات نہیں ۔ ظاہر ہے کہ جب بنی ہاشم اجنبی لوگوں کے نفلی صدقات سے متمتع ہو سکتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقات سے نفع اندوز ہونا ان کے لیے بالاولیٰ روا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ یہ مال زکوٰۃ نہ تھا جسے لوگوں کی میل کچیل کہا گیا ہے، اور جو بنی ہاشم پر حرام ہے۔ بلکہ یہ وہ مال تھا جو کسی جہاد و قتال کے بغیر صلح کے نتیجہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا تھا۔ یہ بنی ہاشم کے لیے حلال تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب مال صدقہ کردیا کرتے تھے۔ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ آپ کی ملکیت تھا اور آپ صدقہ کے طور سے اسے مسلمانوں میں تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ آپ کے اقارب صدقہ کے زیادہ مستحق تھے کیوں کہ صدقہ مسلمانوں کے حق میں صرف صدقہ ہے اور اقارب کے حق میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔[سنن ترمذی۔ کتاب الزکاۃ۔ باب ما جاء فی الصدقۃ علی ذی القرابۃ(حدیث:۶۵۸) ، سنن نسائی۔ کتاب الزکاۃ باب الصدقۃ علی الاقارب(حدیث:۲۵۸۳)، سنن ابن ماجہ، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ(حدیث:۱۸۴۴)۔]

نویں وجہ :....شیعہ قلم کار نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت پر جو معارضہ کیا ہے ۔‘‘ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کسی غیر کے حق کا دعویٰ نہیں کیا تھا جو اس سے چھین کر ان کو دیا جائے۔ ان کا مطالبہ بیت المال سے تھا جو حاکم بآسانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدہ کے بغیر بھی پورا کر سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدہ کرنے کی صورت میں حاکم کے لیے اس مطالبہ کی تکمیل اولیٰ بالجواز ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں گواہ کی ضرورت محسوس نہ کی۔

اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص آتا ہے اوروہ بیت المال کی کسی زمین پر دعوی کرتا ہے کہ یہ میرا حق ہے۔تو امام کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ بغیر شرعی حجت [اورگواہی ] کے وہ زمین بیت المال کے قبضہ سے نکال کر اس کو دیدے۔ بخلاف اس کے ایک دوسرا انسان آتا ہے ‘ اس کا کوئی ایسا دعوی تو نہیں ‘ مگروہ بیت المال میں سے جو مال مسلمانوں میں تقسیم ہونے کے لیے موجود ہے ‘ اس سے میں سے کچھ بغیر دعوی کے طلب کرتاہے ۔تو ایسے انسان کے لیے جائز ہے کہ بغیر گواہی کے بھی اس کی طلب پوری کردی جائے ۔

کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقات اوقاف ہیں ۔ اور آپ کے علاوہ باقی مسلمانوں کے صدقات کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ان صدقات کے اصل مال کا مالک بن جائے۔ اور یہ جائز ہے کہ اس کے نفع کو ایسے تقسیم کیا جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں ۔ پس جو مال حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے طلب کیا تھا ‘ وہ اسی قسم سے تعلق رکھتا ہے جو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کے لیے تھا ۔ بخلاف اصول اموال کے۔

اسی لیے حضرت ابوبکر و عمر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹوں حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو اورحضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کو اور دیگر بنی ہاشم رضی اللہ عنہم کو بیت المال سے اس سے بہت زیادہ دے دیا کرتے تھے جیسے جابر رضی اللہ عنہ کو دیا۔یہ مال مسلمانوں کے درمیان میں تقسیم کے لیے ہوا کرتاتھا۔بھلے ان میں سے کسی کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے کوئی عہد و پیمان نہ بھی ہو [تب بھی یہ مال انہیں ملا کرتا تھا ]۔

صفحہ 15 از 16