فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب - ردِ رافضیت |…

فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 13 از 16

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے ۔ مذکورہ بالا واقعات اس بات کے زندہ گواہ ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ایذا سے متعلق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہا کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فعل مذمت کا زیادہ استحقاق رکھتا ہے، اس لیے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے ایسا کیا تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ذاتی غرض کی بنا پر ۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا شمار ان بزرگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہجرت کی تھی۔ ظاہر ہے کہ کسی عورت سے نکاح کرنے کی نیت سے ہجرت کرنے والا، ان کا ہم پلہ کیسے ہو سکتا ہے۔[اہل سنت کی بلند اخلاقی کی اعلی مثال ہے کہ وہ ابوجہل کی بیٹی کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عزم نکاح اور اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شدید ناراضگی کا واقعہ شاذونادر ہی ذکر کرتے ہیں ۔ حالانکہ اس ضمن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے منبر پر جو شہرۂ آفاق خطبہ دیا وہ قرآن کریم کے بعد صحیح ترین کتب حدیث کے اوراق میں محفوظ ہے۔ دوسری جانب شیعہ کا یہ حال ہے کہ تمام تاریخی اَدوار میں انھوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلاف شور وشغب بپا کیے رکھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جرم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایسے حکم کو نافذ کرنے کی غلطی کی جو انھوں نے بذات خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ علاوہ ازیں کثیر صحابہ اور خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی براہ راست اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نہایت موزوں طریقہ سے امر نبوی کی تکمیل فرمائی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر اہل بیت کو اس جاگیر سے اپنی ضروریات پوری کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اور جو باقی رہ جاتا تھا اس کو اسوۂ نبوی کے مطابق رفاہ عام کے کاموں پر صرف کرنے کی ہدایت کی۔ شیعہ کے شوروشغب اور دروغ گوئی کا نتیجہ ہے کہ لوگ مسئلہ فدک کی تفصیلات سے آگاہ ہیں ، اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عزم نکاح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ فاطمہ کس حد تک برہم ہوئے تھے، یہدونوں واقعات( مسئلہ فدک اور ابوجہل کی بیٹی سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا عزم نکاح ) جملہ اختلافی مسائل میں اہل سنت و شیعہ کے مابین ایک عمدہ معیار کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس سے عیاں ہوتا ہے کہ صحابہ و اہل بیت کے بارے میں فریقین کاموقف کیا ہے۔ یہ دونوں واقعات اس بات کے شاہد عدل ہیں کہ اہل سنت صحابہ و اہل بیت دونوں کو عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ بخلاف ازیں شیعہ کے دل بغض صحابہ سے لبریز ہیں اور اہل بیت کی محبت کے بارے میں ان کے سب دعوے بے بنیاد ہیں ، اہل بیت کی محبت شیعہ میں صرف اس حد تک پائی جاتی ہے کہ ان کی قبروں کو بت بنا کر ان کی پرستش کرتے رہیں اور اس طرح صنم پرستی کے دور کی یادیں تازہ کردیں ۔دیگر بہنوں کو چھوڑ کر صرف سیدہ فاطمہ سے اظہار محبت کذب و دورغ پر مبنی ہے۔ علاوہ ازیں شیعہ ،بعض بنی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے محبت کرتے ہیں اور بعض سے بغض و عناد رکھتے ہیں ۔ مگر حق و صداقت کسی کے چھپائے چھپتی نہیں اور اس کا نور ظاہر ہو کر رہتا ہے۔ ﴿وَاللّٰہُ یُحِقُّ الْحَقَّ وَ ہُوَ یَہْدِی السَّبِیْل﴾]

بے شک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ایذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے باعث رنج و ملال ہے،بشرطیکہ وہ بات حکم الٰہی کے خلاف نہ ہو۔ جب کسی بات میں حکم الٰہی موجود ہو تو اس کی انجام دہی ضروری ہے، قطع نظر اس سے کہ یہ امر کسی کے لیے موجب اذیت ہو۔ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے باعث اذیت وہ بات ہو گی جو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے منافی ہو۔ اس کی مثال مندرجہ ذیل حدیث نبوی ہے:

’’ جس شخص نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی، جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی حکم عدولی کی، اور جس نے میرے امیر کے حکم سے سرتابی کی اس نے میری نافرمانی کی۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الجہاد، باب یقاتل من وراء الامام و یتقی بہ،(حدیث:۲۹۵۷) ، صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ (حدیث: ۱۸۳۵) باختلاف۔]

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں اس حدیث کی توضیح فرمائی:

’’ کسی کی اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ہے۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الاحکام۔ باب السمع والطاعۃ للامام ما لم تکن معصیۃ (ح: ۷۱۴۵) ،صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ (ح:۱۸۴۰)]

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے امراء کی اطاعت کو مطلق بیان کیا ‘ اور پھر اسے اس شرط کے ساتھ مقید کردیا کہ اطاعت صرف نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ہوگی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ِ مبارک کہ :

’’ جس نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ایذا دی اس نے مجھے تکلیف دی۔‘‘ بالاولیٰ اذی فی المعروف پر محمول ہو گا۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امراء کی اطاعت فرض ہے اور ان کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے، مگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ایذا پہنچانے کا فعل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کے مساوی نہیں ، ورنہ لازم آئے گا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کا ارتکاب کیا تھا۔ کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امراء کی نافرمانی آپ کی نافرمانی ہے، اور آپ کے حکم سے سرتابی معصیت الٰہی ہے۔

پھر اعتراض کرنے والے سے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ : حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں ولی الامر تھے۔اللہ تعالیٰ نے ولی امر کی اطاعت کا حکم دیا ہے ۔ ولی امر کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت؛ اور اس کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ جو ولی امر کے حکم اور فیصلہ پر ناراض ہو‘ یقیناً وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلہ پر ناراض ہے۔

صفحہ 13 از 16