فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب - ردِ رافضیت |…

فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 12 از 16

اگر شیعہ لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا کفر ثابت کرنے کے لیے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ایذاء کو کفر قرار دیں تو اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بھی کافر ہونا لازم آئے گا اور جب لازم باطل ہے تو ملزوم کے بطلان میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ شیعہ کی یہ پرانی عادت ہے کہ وہ حضرت ابوبکر وعمر و عثمان رضی اللہ عنہم کی عیب چینی کرتے ہیں ؛اور ایسے امور کی بنا پر ان کی تکفیر کرتے ہیں جن کی مثل بلکہ اس سے بھی پرے بلاعذر افعال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے صادر ہو چکے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ ان افعال میں اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ ماجور یا معذور ہیں تو خلفاء ثلاثہ بالاولیٰ اجر یا عذر کے مستحق ہوں گے اور اگر کسی معمولی امر کی بناء پر خلفاء ثلاثہ فاسق یا کافر قرار پائیں گے تو کیا وجہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سے شنیع تر فعل کے مرتکب ہونے پر بھی کفر و فسق سے بچ جائیں؟

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ستانا اس لیے بڑا گناہ ہے کہ اس سے ان کے والد محترم کو دکھ پہنچتا ہے۔ کسی معاملہ میں جب یہ سوال پیدا ہو جائے کہ آیا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ایذا دینے سے احتراز کیا جائے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ستم رانی کرنے سے۔ تو ظاہر ہے کہ اندریں صورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذاء سے دست کشی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اذیت کی نسبت واجب تر ہو گی۔

حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (انبیاء کی عدم توریث ) ایک حکم دیا تھا اور یہ دونوں اصحاب اس کی خلاف ورزی کرکے آپ کو ایذا پہنچانے سے امکانی حد تک کنارہ کش رہنا چاہتے تھے۔اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عہد لیا تھا؛ اور ان کو اس بارے میں ایک حکم دیا تھا ۔ یہ دونوں حضرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی سے بچنا چاہتے تھے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی حکم عدولی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوں یا آپ کو کوئی تکلیف پہنچے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی رعایت کرنا زیادہ اہم تھا[یعنی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کا حکم دیں اور سیدہ فاطمہ اس کے برخلاف مطالبہ کریں تو حکم رسول کی مراعات اولیٰ ہو گی۔ ہر سلیم العقل آدمی اس بات سے اتفاق کرے گا کہ] آپ کی اطاعت گزاری واجب ؛جب کہ نافرمانی حرام ہے۔اور اگرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے سے کسی کو دکھ پہنچتا ہے تو وہ غلطی پر ہے اور آپ کی اطاعت کرنے والا حق اور راہ راست پر ہے۔ یہ اس صورت سے مختلف ہے جب کوئی شخص اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے نہیں بلکہ کسی ا ور مقصد کے لیے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ستائے۔

جو شخص اس بات پر غور کرے گا کہ مذکورہ واقعہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مقصد صرف نبی کریم رضی اللہ عنہ کی اطاعت تھی اور اس کے سوا کوئی بات آپ کے پیش نظر نہ تھی تو وہ اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ فعل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقدام کے مقابلہ میں اکمل وافضل ہے۔ تاہم دونوں کی عظمت وفضیلت میں کلام نہیں ۔ آپ دونوں اکابر اولیاء اللہ سابقین اولین اور اللہ کے مقربین؛کامیابی پانے والی اللہ کی جماعت [حزب اللہ] میں سے ‘ اور اللہ کے نیک بندے اکابر متقین میں سے تھے جو حوض تسنیم سے سیراب ہوں گے۔[ان شاء اللہ تعالیٰ]۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:

’’اللہ کی قسم!نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت ذاتی قرابت کی نسبت مجھے عزیز تر ہے۔‘‘[البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔ باب مناقب قرابۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (ح: ۳۷۱۲) مسلم۔ کتاب الجہاد، باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’ لا نورث ما ترکنا فھو صدقۃ‘‘ (ح :۱۷۵۹) مطولاً۔]

یہ بھی آپ ہی کا قول ہے:’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کا خیال رکھیے۔‘‘[صحیح بخاری ،حوالہ سابق(حدیث:۳۷۱۳) ]

مقصود یہ ہے کہ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رنج و الم پہنچایا تھا تو یہ مانناپڑے گا کہ آپ نے کسی ذاتی غرض کے تحت ایسا نہیں کیا تھا، اس کی اصل وجہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت، نیز یہ جذبہ اس کا محرک تھا کہ حق دار کو حق مل کر رہے۔ [یعنی سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق یہ آمدنی رفاہ عام کے کاموں پر صرف کی جائے۔]

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ وہ ابوجہل کی بیٹی کے ساتھ شادی کرکے آپ کو دکھ پہنچانا چاہتے تھے۔ ظاہر ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ اقدام ذاتی غرض پر مبنی تھا۔

صفحہ 12 از 16