فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب - ردِ رافضیت |…

فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 16

’’بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کرنے کی اجازت طلب کی ہے، میں ہر گز اس کی اجازت نہ دوں گا۔‘‘ یہ الفاظ آپ نے تین مرتبہ دہرائے۔ پھر فرمایا:’’ فاطمہ میرا جگر پارہ ہے،مجھے بھی وہ چیزشک میں ڈالتی ہے جو اسے شک میں ڈالتی ہے۔اور جو چیز اسے ایذا دیتی ہے اس سے مجھے بھی دکھ پہنچتا ہے۔‘‘البتہ یہ ممکن ہے کہ علی رضی اللہ عنہ میری بیٹی کو طلاق دے کر ابوجہل کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرلے۔‘‘ ایک روایت میں یوں ہے: ’’مجھے ڈر ہے کہ فاطمہ کہیں دینی ابتلاء میں نہ پڑجائے۔‘‘ پھر آپ نے اپنے ایک داماد(ابوالعاص) کا ذکر کرکے اس کی تعریف فرمائی اور کہا:’’ اس نے جب بھی بات کی سچ بولا۔ اور جب وعدہ کیا تو اسے پورا کر دکھایا۔میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال تو نہیں کرتا۔ مگر اللہ کی قسم ! جگر گوشۂ رسول اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے گھر میں جمع نہیں ہو سکتیں ۔‘‘[صحیح بخاری۔ کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، باب ذکر اصہار النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم (ح:۳۷۲۹،۵۲۳۰) و صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ۔ باب من فضائل فاطمۃ رضی اللہ عنہا (ح۲۴۴۹) تاہم اس کے سیاق و سباق میں اختلاف ہے۔]

یہ حدیث حضرت علی بن حسین نے مسور بن مخرمہ سے روایت کی ہے۔[یہ پوری حدیث صحیح بخاری[ح:3110] میں اس طرح ہے: حضرت علی بن حسین [زین العابدین رحمہ اللہ] نے بیان کیا کہ جب ہم سب حضرات حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے یہاں سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے ملاقات کی اور کہا اگر آپ کو کوئی ضرورت ہو تو مجھے حکم فرما دیجئے ۔[زین العابدین نے بیان کیا کہ] میں نے کہا : مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر مسور نے کہا تو کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار عنایت فرمائیں گے ؟ کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کچھ لوگ [بنو امیہ] اسے آپ سے نہ چھین لیں ۔ اور اللہ کی قسم!اگر وہ تلوار آپ مجھے عنایت فرما دیں تو کوئی شخص بھی جب تک میری جان باقی ہے اسے چھین نہیں سکے گا ۔ پھر مسور رضی اللہ عنہ نے ایک قصہ بیان کیا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں ابوجہل کی ایک بیٹی[جمیلہ نامی]کو پیغام نکاح دے دیا تھا ۔ میں نے خود سنا کہ اسی مسئلہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسی منبر پر کھڑے ہو کر صحابہ کو خطاب فرمایا ۔ میں اس وقت بالغ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ فاطمہ مجھ سے ہے ۔ اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ [اس رشتہ کی وجہ سے]کسی گناہ میں نہ پڑ جائے کہ اپنے دین میں وہ کسی فتنہ میں مبتلا ہو ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندان بنی عبد شمس کے ایک اپنے داماد [عاص بن ربیع] کا ذکر کیا اور دامادی سے متعلق آپ نے ان کی تعریف کی آپ نے فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے جوبات کہی سچ کہی جو وعدہ کیا اسے پورا کیا ۔ میں کسی حلال [یعنی نکاح ثانی] کو حرام نہیں کر سکتا اور نہ کسی حرام کو حلال بناتا ہوں ۔ لیکن اللہ کی قسم ! رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گی۔‘‘]حدیث بیان کرنے کا سبب خود روایت میں موجود ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ابوجہل کی بیٹی کو اپنے نکاح میں لانا چاہتے تھے۔ بنا بریں بیان کردہ سبب کو حدیث سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ حدیث کے الفاظ واضح ہیں :

’’ جو چیز فاطمہ رضی اللہ عنہا کو شک میں مبتلا کرتی ہے وہ مجھے بھی شبہ میں ڈالتی ہے اور جس بات سے فاطمہ کو دکھ پہنچے وہ میرے لیے بھی رنج و الم کی موجب ہے۔‘‘

حدیث میں آپ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے :

’’جو اسے شک میں ڈالتی ہے۔اور جو چیز اسے ایذا دیتی ہے اس سے مجھے بھی دکھ پہنچتا ہے۔‘‘

یہ بات قطعی طور پر معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تکلیف محض اس لیے پہنچی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ اگر یہ وعید ایذا دینے والے کو لاحق ہو سکتی ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اس وعید کی لپیٹ میں آنا ضروری ہے۔ اور اگر اس کا احتمال نہیں ہے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت اس وعید سے بعید تر ہوں گے۔

اگر شیعہ کہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنے کا ارادہ ترک کرکے اس سے توبہ کر لی تھی۔ تو ہم کہیں گے کہ اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا غیر معصوم ہونا لازم آتا ہے۔ نیز یہ کہ اگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ایذاء کا ازالہ توبہ سے ہو سکتا ہے تو اس کے علاوہ دیگر نیک اعمال بھی یقیناً اس کو محو کر سکتے ہیں ۔ اس لیے کہ اعمال صالحہ مصائب و آلام اور توبہ سے تو اس سے بھی بڑے گناہ ختم ہو سکتے ہیں ۔ مزید براں یہ گناہ کفر نہیں ہے کہ بلا توبہ معاف نہ ہو سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں مرتد ہو چکے ہوتے ۔(العیاذ باللہ) ۔جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے مبرا و منزہ قرار دیا ہے۔[اس لیے آپ کا مومن و مسلم ہونا ایک یقینی امر ہے]۔ خوارج جنھوں نے آپ کے مرتد ہونے کا دعویٰ کیا تھا وہ بھی یہی کہتے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام سے منحرف ہو گئے۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک میں ہی مرتد ہوگئے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عہد نبوی میں مرتد ہونے والے کو یا قتل کردیا جاتا تھایا وہ پھر دین اسلام کی طرف لوٹ آتا تھا۔ مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دامن اس سے پاک رہا۔اگر آپ کا یہ فعل شرک سے کم ترتھاتویہ جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذَالِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ﴾ (النساء:۱۱۶)

’’ اللہ معاف نہیں کرتا کہ اس کیساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے کم جس کو چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔‘‘

صفحہ 11 از 16