فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب - ردِ رافضیت |…

فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 16

مذکورۃ الصدرحقائق اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ قبل ازیں ذکر کردہ واقعہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مدح و ستائش پر دلالت نہیں کرتا اور اس سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت پر وہی شخص استناد کرتا ہے جو جاہل مطلق ہو۔ مزید برآں یہ مسئلہ اپنی جگہ پر ثابت ہے کہ اگر کوئی شخص وصیت کرے کہ مسلمان اس کا جنازہ نہ پڑھیں تو اس کی وصیت نافذ نہیں کی جائے گی اس لیے کہ نماز جنازہ اُس کے لیے ہرحال میں مفید ہے۔ [تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی ، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہمارے گھر تشریف لائے ، اس وقت ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے ، میں نے چاہا کہ کھڑا ہو جاں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی لیٹے رہو ، اس کے بعد آپ ہم دونوں کے درمیان بیٹھ گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی ، ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں نے مجھ سے جو طلب کیا ہے کیا میں تمہیں اس سے اچھی بات نہ بتاں ، جب تم سونے کے لیے بستر پر لیٹو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر ، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ پڑھ لیا کرو ، یہ عمل تمہارے لیے کسی خادم سے بہتر ہے۔‘‘ح: ۳۷۰۷۔ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے الاستیعاب میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی اس وصیت کا ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اورحضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کو غسل دیں ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی ہی نے آپ کے لیے نعش کا انتخاب کیا تھا جیسا کہ وہ ملک حبشہ میں بچشم خود ملاحظہ کر چکی تھیں ۔ دیکھئے حلیۃ الاولیاء، ابونعیم:۲؍۴۲، نیز السنن الکبریٰ امام بیہقی :۴؍۳۴، نیز ۳؍۹۶۔]

یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ اگر کسی انسان پر کسی نے ظلم کیا ہو اور مظلوم وصیت کرجائے کہ ظالم اس کے جنازہ میں شریک نہ ہو تو اس کا یہ فعل ایسی نیکی نہیں ہے جو اس کے لیے قابل ستائش ہو۔ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا حکم نہیں دیا۔ مقام تعجب ہے کہ حضر ت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تعریف و توصیف کرنے والے ایسے واقعات کس لیے بیان کرتے ہیں جو ان کے لیے موجب مدح ہونے کی بجائے ان کی شان میں قدح وارد کرتے ہیں جیسا کہ کتاب و سنت اور اجماع سے مستفاد ہوتا ہے۔

شیعہ مصنف کا یہ قول کہ : سب لوگوں نے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :’’اے فاطمہ رضی اللہ عنہا ! تیرے ناراض ہونے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور تیرے راضی ہونے سے وہ راضی ہوتا ہے۔‘‘

یہ صریح کذب ہے۔ یہ روایت آپ سے منقول نہیں اور کتب حدیث میں اس کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ علاوہ ازیں اس کی کوئی سند صحیح یا حسن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچتی۔ اس پر مزید یہ کہ جنتی ہونے اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی شہادت اگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شان میں ملتی ہے تو یہی شہادت حضرات صحابہ کرام، حضرت ابوبکر،عمر، عثمان، طلحہ، زبیر، سعید اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کے بارے میں بھی موجود ہے۔ قرآن کریم کے متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اپنی رضا مندی کا اظہار فرمایا۔ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَالسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِإِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ﴾ (التوبۃ:۱۰۰)

’’اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

﴿لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ﴾ (الفتح:۱۸)

’’یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وہ درخت تلے آپ سے بیعت کر رہے تھے ۔‘‘

احادیث نبویہ سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وفات پائی تو آپ صحابہ رضی اللہ عنہم سے رضا مند تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس سے راضی ہوں تو دنیا میں سے کسی شخص کی ناراضگی بھی اسے ضرر نہیں پہنچا سکتی۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص سے راضی ہو گیا وہ بھی اللہ تعالیٰ سے راضی ہو گا۔ اور جانبین کی رضا مندی و خوشنودی میں کامل یگانگت ومطابقت ہوگی۔ گویا ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے حکم پر راضی ہو گا اور اللہ تعالیٰ کا حکم اس کی رضا کے موافق ہو گا ۔ ظاہر ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے حکم پر راضی ہے وہ اس کے ناراض ہونے سے ناراض بھی ہو گا۔ اس لیے کہ جو شخص کسی دوسرے کے ناراض ہونے پر راضی ہوتا ہے وہ اس کے غضب آلود ہونے پر غضب آلود بھی ہو گا۔وللّٰہ المثل الاعلیٰ۔

شیعہ کی پیش کردہ حدیث پر نقد و جرح:

شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’سبھی نے روایت کیا ہے کہ :آپ نے فرمایا:’’ فاطمہ میرا جگر پارہ ہے۔جو کوئی اسے تکلیف دیتا ہے وہ مجھے تکلیف دیتا ہے ‘ اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی ۔‘‘یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کی گئی۔ احادیث میں مذکور الفاظ اس سے مختلف ہیں ، جس حدیث میں یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

صفحہ 10 از 16