فصل:....وضوء میں پاؤں کے مسح کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....وضوء میں پاؤں کے مسح کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

جملہ طور پر یہ جان لینا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت قرآن کی وضاحت کرتی ہے ‘اور اس کی تفسیر بیان کرتی ہے ‘ اس کے معانی پر دلالت کرتی ہے۔ پس سنت متواترہ کا تقاضا وہی ہے جو کہ بعض لوگوں نے قرآن کے ظاہری الفاظ سے سمجھا ہے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے لیے قرآن کے الفاظ اور اس کے معانی بیان کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت ابو عبدالرحمن سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم سے ان لوگوں نے بیان کیا جو قرآن پڑھایا کرتے تھے‘ جیسے حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ کرام؛وہ فرماتے ہیں : ’’ہم جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیات سیکھ لیتے تو اس وقت تک اس سے آگے نہیں بڑھتے تھے جب تک کہ ان کے معانی بھی آپ سے نہ سیکھ لیتے ۔‘‘

جو کچھ امامیہ فرقہ کے لوگ کہتے ہیں کہ: پاؤں کا ٹخنوں تک مسح کرنا فرض ہے؛ تو یہ ایسی بات ہے کہ قرآن سے کسی طرح بھی اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی ۔اورنہ ہی ایسا کرنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔اور نہ ہی سلف امت میں یہ چیز معروف تھی۔بلکہ یہ لوگ قرآن کریم ‘ سنت متواترہ ‘ اور سابقین اولین صحابہ اور تابعین کے اجماع کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ۔ اس لیے کہ [أرجلَکم]کو جب زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں تو اس کا عطف ہاتھوں کے دھونے پر ہوتا ہے۔ پس زبر کے ساتھ اس کی قرأت پاؤں کے دھونے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ ظاہری قرأت قرآن بھی اسی پر دلیل ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان لوگوں کو ظاہر قرآن کا بھی کچھ بھی علم نہیں ۔ یہی حال ان تمام لوگوں کا ہے جو ضعیف اقوال پر عمل کرتے ہیں اور ظاہر قرآن پر عمل کے دعویدار ہیں ؛ حقیقت میں وہ لوگ سنت نبوی کی مخالفت کے مرتکب ہیں ۔ اس لیے کہ ظاہر قرآن میں ہر گز کوئی ایسی چیز نہیں پائی جاتی جو کہ سنت کے مخالف ہو۔ جیسا خوارج کا دعوی ہے کہ ہم سفر میں صرف چار رکعت ہی پڑھیں گے۔ اورجو لوگ یہ کہتے ہیں : صرف میں چار رکعت پڑھنا دو رکعت پڑھنے سے زیادہ افضل ہے۔اورجو لوگ کہتے ہیں :ہم ایک گواہ اور قسم کی موجودگی میں حکم نہیں لگا سکتے۔

اس مسئلہ پر کئی مواقع پر تفصیلی گفتگو ہوچکی ہے۔ اور یہ واضح کیا جاچکا ہے کہ جس پر ظاہر قرآن دلالت کرتا ہے ‘ وہ حق ہے۔اور یہ عام مخصوص نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہاں پرکوئی لفظی عموم نہیں پایا جاتا ۔ بلکہ یہ مطلق ہے ۔ جیسا فرمان الٰہی ہے:

﴿ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ ﴾۔[التوبۃ ۵]

’’ اورمشرکین کو قتل کرو۔‘‘

یہ تمام اعیان مشرکین کے لیے عام حکم ہے۔اور تمام احوال میں مطلق ہے۔ اور جیسا کہ فرمان الٰہی ہے :

﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ ﴾۔[النساء۱۱]

’’اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت فرماتا ہے۔‘‘

یہ حکم بھی تمام اولاد کے لیے عام ہے اور ہر حال میں مطلق ہے۔

لفظ ’’ظاہر ‘‘ سے کبھی مراد وہ چیز ہوتی ہے جو کسی انسان کے لیے ظاہر ہو۔ اور کبھی اس سے مراد وہ معنی ہوتا ہے جس پر لفظ دلالت کرتا ہو۔ پہلی مراد لوگوں کے افہام کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ اور قرآن میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو کہ فاسد فہم کے خلاف ہیں ۔ جب کہ ساری بحث کا مرکز دوسرا معنی ہے ۔


صفحہ 3 از 3