فصل:....وضوء میں پاؤں کے مسح کا مسئلہ - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....وضوء میں پاؤں کے مسح کا مسئلہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

جب دو اقسام میں سے کسی ایک کا ایسا نام ہو جو صرف اسی کے ساتھ خاص ہو‘ تو پھر دوسری قسم کے لیے اسم عام ہی باقی رہ جاتا ہے۔ لفظ مسح کا تعلق بھی اسی باب سے ہے۔ بلکہ غسل بھی مسح کی ہی ایک قسم ہے۔ قرآن کی آیت میں وارد لفظ مسح سے مراد وہ مسح نہیں جو کہ غسل کے ساتھ اس لفظ سے مراد دوسری قسم ہے ؛ بلکہ اس سے مراد عین غسل ہے جو کہ معانی مسح میں سے ایک ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿اِلَی الْکَعْبَیْنِ﴾۔ ’’ دونوں ٹخنوں تک ۔‘‘یہ نہیں فرمایا کہ : ٹخنے تک ۔ جیساکہ ہاتھ دھونے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا تھا:﴿اِلَی الْمَرَافَقِ ﴾۔ ’’کہنیوں تک ۔تواس سے واضح ہواکہ ہر پاؤں ایسے ہی ایک ٹخنہ نہیں ہے جیسے کہ ہر ہاتھ میں ایک کہنی ہوتی ہے ‘ بلکہ ہر پاؤں میں دو ٹخنے ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جوان دو ابھری ہوئی ہڈیوں تک مسح کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے مراد انہیں دھونا ہے۔اس لیے کہ اگراس سے مراد عرف عام کا مسح ہوتا تو پھر پاؤں کی پشت پر ہاتھ پھیر کی مسح کرلینا ہی کافی تھا۔ [مگر ایسا نہیں کیا گیا بلکہ دھونے کی حد مقرر کردی گئی ہے ]۔ 

دوسری جو بات اہم ترین ہے وہ یہ کہ : پہلے دو دھوئے جانے والے اعضاء کا ذکر کرکے پھر مسح والے عضو کا ذکر کرنا اور پھر دھوئے جانے والے عضوکاذکر نا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے دو اعضاء میں وضوء کرنے کے لیے ہر حال میں دھونا واجب ہے ؛ اور تیسرے عضو میں ہر حال میں مسح ہی واجب ہے جب کہ چوتھے عضوء میں کبھی دھونا ہی واجب ہوتا ہے؛جس وقت کہ پاؤں کھلے ہوئے ہوں ؛ اور کبھی موزے پہنے ہوئے ہونے کی صورت میں مسح بھی کفایت کرجاتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر سنت کے ساتھ پاؤں کو دھونا اور ان پر مسح کرنا دونوں باتیں ثابت ہیں ۔ رافضی اس سنت متواترہ کی مخالفت کرتے ہیں ۔جیساکہ خوارج بھی اس جیسی سنت میں مخالفت کے مرتکب ہیں ۔ یہاں پر یہ وہم پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا عمل ظاہر قرآن کے مخالف ہے۔ایسا ہر گز نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ دونوں سنتیں ثابت ہیں ؛ پاؤں کودھونا اور ان پر مسح کرنا ۔ یہ تواتر چوتھائی دینار ‘ یا تین دراہم یا دس دراہم میں چور کا ہاتھ کاٹنے یا اس جیسے دیگر متواترات سے بڑھ کر ہے۔

پاؤں کا ذکر کرتے ہوئے مسح کا لفظ ذکر کرنا اس بات کی طرف تنبیہ بھی ہے کہ پاؤں دھوتے وقت پانی کم استعمال کیا جائے اور اس میں اسراف سے کام نہ لیا جائے۔ کیونکہ عام عادت کے مطابق پاؤں دھوتے ہوئے پانی بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے جو کہ فضول خرچی کی علامت ہے۔نیز اس میں کلام کرتے ہوئے اختصار کے ساتھ کلام لیا گیا ہے ۔ اس لیے کہ جب معطوف اور معطوف علیہ پرواقع ہونے والے فعل کی جنس ایک ہی ہو تو پھران میں سے کسی ایک کا ذکر کر لیا جانا ہی کافی ہوتا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ oبِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیقَ وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ o لَا یُصَدَّعُوْنَ عَنْہَا وَلَا یُنزِفُوْنَ oوَفَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ oوَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ o وَحُورٌ عِیْنٌ ﴾ [الواقعۃ۱۸۔۲۲]

’’ہمیشہ نوجوان رہنے والے خدمت گار لڑکے ان کے پاس پھرتے رہیں گے۔نتھری شراب کے جام و ساغر اور آبخوروں کے ساتھ۔اس شراب سے نہ تو انہیں سردرد ہوگا اور نہ عقل میں فتور آئے گا۔ انہیں وہ پھل(کھانے کو)ملیں گے جو وہ پسند کریں گے۔نیز پرندوں کا گوشت جونسا وہ چاہیں گے۔ اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی۔‘‘

حالانکہ حور عین کو تو نہیں پھیرایا جارہا ہوگا۔ یہاں پر معنی یہ ہے کہ ان پرہر چیز پیش کی جائے گی۔ یہاں پر ان الفاظ کو حذف کردیا گیا ہے جن کی جنس پر ظاہر میں دلالت موجود تھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآئُ فِیْ رَحْمَتِہٖ وَالظٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا ﴾ [الإنسان ۳۱]

’’وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

معنی یہ ہے کہ ظلم کرنے والوں کو وہ دردناک عذاب دے گا۔

اس [مذکورہ بالا] آیت [وضوء ]میں دو مشہور قرأتیں ہیں ۔ایک زبر کے ساتھ ہے اور دوسری زیر کیساتھ۔جو لوگ اس کو زبر کے ساتھ [أرجلَکم]پڑھتے ہیں ؛ تو ان میں سے کئی ایک نے کہا ہے کہ : یہاں پر دوبارہ پاؤں دھونے کا حکم دیا جارہا ہے ۔ گویاکہ یوں کہا جارہا ہے : [وامسحوا برؤسکم واغسلوا أرجلَکم إلی الکعبینَ]’’ یعنی اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھو لو۔‘‘ان دو قراتوں کا مطلب یہ ہے گویا کہ یہ دو آیتیں ہیں ۔ جن لوگوں [نے اسے زیر کے ساتھ[أرجلِکم]پڑھاہے ؛ان کا ] کہنا ہے : یہ جارو مجرور کی جگہ پرعطف ہے۔اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ : [وامسحوا برؤسکم وامسحوا أرجلِکم إلی الکعبینَ]’’ یعنی اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کا ٹخنوں تک مسح کرلو۔‘‘ عربوں کا یہ کہنا: [مسحت الرجلَ]’’ میں نے اپنے پاؤں کا مسح کیا۔‘‘یہ اس قول کے مترادف نہیں : [مسحت بالرجل]۔اس لیے کہ جب فعل کو حرف باء کے ساتھ متعدی بنایا جائے تو اس سے الصاق ’’یعنی متصل‘‘ کا معنی پیدا ہوتا ہے۔ یعنی میں نے کسی چیز کو اس پر چسپاں کردیا۔اور اگر اس سے حرف باء کو حذف کردیا جائے تو بالاجماع اس سے مجرد مسح ہی مراد ہوگا۔ تو اس سے واضح ہوگیا کہ یہاں پر پانی کے ساتھ پاؤں کا مسح کرنا مقصود ہے ؛ جس سے مراد پاؤں کا دھونا ہے ۔ یہ ایک مجمل کلام ہے جس کی تفسیر و توضیح سنت نبوی سے ہوتی ہے اور زیر کے ساتھ قرأت سے یہی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

خلاصہ کلام ! قرآن میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کی بنا پر پاؤں دھونے کے وجوب کی نفی ہو۔بلکہ اس میں مسح کا وجوب ہے۔اگر اس بات کو مقدر مان لیا جائے کہ سنت نے قرآن کی عبارت سے زائد کسی چیز کوواجب کیا ہے ؛ تو پھر بھی اس صورت میں قرآنی حکم میں کوئی فرق نہیں آتا۔تو پھر اس صورت میں کیسے کوئی اعتراض کرسکتا ہے جب سنت قرآن کی وضاحت اور تفسیر کررہی ہو۔ یہ مسئلہ اپنی جگہ پر تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاچکا ہے۔

صفحہ 2 از 3