فصل:....فضائل علی ھادی العسکری - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....فضائل علی ھادی العسکری

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

﴿کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ﴾ [البقرۃ ۲۳۹]

’’ بسا اوقات چھوٹی اور تھوڑی سی جماعتیں بڑی اور بہت سی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غلبہ پا لیتی ہیں ، اللہ تعالیٰ صبر والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

یہاں پر اس آیت میں کثیر سے مراد کئی قسم کی مقداریں ہیں ۔ اس لیے کہ وہ جماعتیں جن کا ذکر کیا جارہا ہے معلوم ہونے کے باوجودانہیں کسی متعین عدد میں محدود کرنا ممکن نہیں ۔ایسے بھی ہوسکتا ہے کہ کبھی چھوٹی جماعت کی تعداد ایک ہزار ہو اور بڑی جماعت کی تعداد تین ہزار ہو۔ اور کبھی اس سے کم و زیادہ بھی ممکن ہے۔ پس کثیر تعداد کا اطلاق اس کی نسبت سے کم کے ساتھ مقابلہ کے طور پر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿اِذْ یُرِیْکَہُمُ اللّٰہُ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلًا وَ لَوْ اَرٰیکَہُمْ کَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ سَلَّمَ﴾ [الأنفال۳۳]

’’جب اللہ آپ کو آپ کے خواب میں دکھا رہا تھا کہ وہ تھوڑے ہیں اور اگر وہ آپ کو دکھاتا کہ وہ بہت ہیں تو تم ضرور ہمت ہار جاتے اور ضرور اس معاملے میں آپس میں جھگڑ پڑتے ؛ لیکن اللہ نے سلامت رکھا۔‘‘

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو سو سے کچھ زیادہ دیکھایا تھا۔یہ کمی اور زیادتی باعتبارنسبت کے ہے۔

اس تمام بحث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قلت اور کثرت کا انحصار اس کی اضافت کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے کہ جب کوئی انسان اقرار کرے کہ فلاں انسان کا مجھ پر بہت سارا مال ہے‘ یا بہت زیادہ مال ہے ؛ یا کہے کہ : کافی مقدار میں مال ہے ؛ تو اس کی وضاحت کے لیے اسی آدمی سے رجوع کیا جائے گا؛ اور وہی اس کی وضاحت بیان کرے گا۔ جیسا کہ امام شافعی اور امام احمد کے اصحاب میں سے ایک گروہ کا قول ہے۔ اور اس کی وضاحت بھی اس مقدار میں ہی تسلیم کی جائے گی جسے زیادہ مانا جاسکتا ہو۔ جیسا کہ امام ابو حنیفہ اور امام مالک اور اصحاب احمد میں سے بعض کا قول ہے۔ دوسری رائے والوں میں سے بعض کاکہنا ہے: اتنا مال جو چوری کی حد کی مقدار کو پہنچتا ہو‘وہ مال کثیر ہے۔ اور بعض کہتے ہیں : اتنا مال جس کے نصاب پر زکوٰۃ لازم آتی ہو۔اور بعض کہتے ہیں : دیت کی مقدار میں مال کثیر تصور ہوگا۔ اور یہ نزاع بھی اقرار میں ہے۔ اس لیے کہ یہ واقعہ کی خبر دی جارہی ہے ۔ اور ماضی کی خبر کو اقرار کرنے والا جانتا ہے۔ جب کہ مذکورہ بالا مسئلہ کا تعلق خبر سے نہیں بلکہ انشاء سے ہے ۔جیسا کہ اگرکوئی بہت سارے دراہم کی وصیت کرے تو راجح یہ ہے کہ بات کہنے والے کے عرف کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ پس جتنی مقدار کو وہ کثیر کہتا ہو؛ اس پر اس کے کلام کااطلاق ہوگا۔

جب خلیفہ نذر مانتے ہوئے بہت سارا مال کہے تو اس کی نذر کو سو یا دو سو درہم پر محمول نہیں کیا جائے گا؛بلکہ یہاں پر اس کی علیحدہ سے مستقل حیثیت ہے۔یہاں پر اگر اس کلام کودیت کی مقدار یعنی[کم ازکم] بارہ ہزاردرہم پر محمول کیا جائےتو یہ اس سے کم پر محمول کرنے کی نسبت سے زیادہ اولی ہوگا۔اس لفظ میں اس سے زیادہ کا بھی احتمال ہے ۔ لیکن شریعت میں مسلمان نفس کی دیت اسی مقدار میں رکھی گئی ہے ؛ اور شریعت میں مسلمان نفس کی دیت زیادہ مال ہی ہوسکتی ہے [چند ٹکے نہیں ]۔

جب خلیفہ ’’کثیر ‘‘ کا لفظ استعمال کرے تو اس اطلاق اتنی مقدار پر ہوگا جس پر عام لوگوں کے اس لفظ کے استعمال کرنے سے اطلاق نہ ہوسکتا ہو۔

اس لیے کہ اگر ہزار درہم رکھنے والا یوں کہے کہ فلاں کو کافی سارے دراہم دیدو ؛ تو اس سے مراددس ؛ بیس دراہم بھی ہو سکتے ہیں ۔ یہ تمام باتین حالات کے اعتبار سے ہوتی ہیں ۔ اس لیے کہ کم اورزیادہ ہونا اضافت اور نسبت کے اعتبار سے ہے ۔ جیسے کہ لفظ عظیم وغیرہ۔ لوگوں کے اختلاف کے لحاظ سے ان کلمات کے اطلاق میں موقع و مناسبت کی طرح اختلاف ہوتا ہے۔ اور جو حکایت مسعودی سے ذکر کی گئی ہے ‘ وہ منقطع الاسناد ہے۔ تاریخ مسعودی میں اتنی جھوٹی روایات ہیں جن کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔ تو پھراس کی بیان کردہ ایسی حکایت کو جس کی کوئی سند ہی نہ ہو ؛کیسے معتبر سمجھا جاسکتا ہے ؟ مسعودی جھوٹی روایات ذکر کرنے میں معروف ہے۔اور اس کے ساتھ ہی اس حکایت میں کوئی فضیلت کی بات بھی نہیں ‘ اس لیے عام مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اس سے زیادہ فہم و دانست اور علم رکھتے ہیں ۔

حسن عسکری 

رافضی مصنف کا یہ قول کہ : ’’ اس کا بیٹا حسن عسکری اپنے زمانہ میں بہت بڑا عالم و فاضل ؛ عابد و زاہد تھا ۔اور ان سے عوام الناس نے بہت بڑی مقدار میں احادیث روایت کی ہیں ۔‘‘

یہ دعوی بھی اس سے پہلے کے دعوی کی طرح محض ایک جھوٹ اورفقط دعوی ہی ہے۔کیونکہ حسن بن علی عسکری کے زمانہ میں جو محدثین احادیث روایت کرنے میں مشہور تھے ‘ ان سے کوئی ایک روایت بھی کسی معتمد محدث کی کتاب میں جیسے امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ ابو داؤد ‘ ترمذی؛ ابن ماجہ اورامام نسائی وغیرہ کے ہاں ؛ایسی نہیں ملتی جس کی سند حسن عسکری سے ملتی ہو۔

یہ لوگ اس زمانے میں موجود تھے ؛ یا اس کے قریب قریب تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد میں ہوگزرے ہیں ۔ حافظ ابو القاسم بن عساکر رحمہ اللہ نے ان تمام محدثین کے شیوخ کی روایات جمع کی ہیں ۔ان ائمہ میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے حسن بن علی عسکری سے کوئی ایک بھی روایت نقل کی ہو‘ حالانکہ انہوں نے ہزاروں علماء و محدثین سے روایات نقل کی ہیں ۔تو پھر یہ دعوی کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے کہ عامۃ الناس نے آپ سے روایات نقل کی ہیں ۔

اور یہ دعوی کہ:’’ آپ اپنے زمانہ میں افضل ترین انسان تھے۔‘‘

یہ بھی اس سے پہلے دعو ی کی طرح صرف دعوی ہی ہے ۔


صفحہ 3 از 3