فصل:....فضائل علی ھادی العسکری - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....فضائل علی ھادی العسکری

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

اس نے لکھا ہے کہ بغداد کا والی اسحق بن ابراہیم طائی تھا۔ یہ شیعہ مصنف کی جہالت کی نشانی ہے۔ اس لیے کہ اسحق بن ابراہیم اور اس کے اہل خانہ کا تعلق خزاعہ سے ہے۔ اس کا پورا شجرہ یہ ہے : اسحق بن ابراہیم بن حسین بن مصعب ۔ اس کا چچا زاد بھائی عبد اللہ بن طاہر بن حسین بن مصعب خراسان کا امیر تھا۔ اور اس کی سیرت معلوم ومشہور ہے۔اس کا بیٹا محمد بن عبد اللہ بن طاہر متوکل کے دور میں بغداد میں اس کا نائب تھا۔یہ وہی انسان ہے جس نے امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ کی نماز جنازہ پڑہائی تھی ۔ جب کہ اسحق بن ابراہیم معتصم اور واثق کے دور؛ اور خلیفہ متوکل کی خلافت کے کچھ ایام میں ان کا نائب رہا ہے۔

یہ تمام لوگ بنوخزاعہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بنی طے سے ان کا تعلق نہیں ۔ ان کا خاندان مشہور ہے۔[ابن عماد نے شذرات الذہب ۲؍۸۴ پر ۲۳۵ھ کی وفیات میں کہا ہے: ’’ اوراسی سال امیر اسحق بن ابراہیم بن مصعب الخزاعی جو کہ طاہر بن حسین کا چچا زاد تھا؛ وہ بغداد کا والی بنا؛ تقریباً بیس سال تک اس منصب پر رہا۔اسے ’’صاحب جسر‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ سخت گیر؛ پختہ عزم سیاسی آدمی تھا۔ وہ مامون کے حکم پر علماء کو بلا کر ان کا امتحان لیتا تھا۔ اس کا انتقال ہوا۔ مزید دیکھو: العبر ۱؍ ۴۲۰۔ الکامل لابن الاثیر ۷؍۱۷۔ الاعلام ۱؍ ۲۸۳۔]

رہا اس فتوی کا مسئلہ جو رافضی نے ذکر کیا ہے کہ متوکل نے نذر مانی تھی کہ اگر وہ صحت یاب ہوگیا تو بہت سارے دراہم صدقہ کرے گا۔اور پھر اس نے فقہاء سے اس بارے میں سوال کیا تو ان کے پاس کوئی جواب نہ پایا ‘ اور یہ کہ علی بن محمد نے آپ کو تراسی درہم صدقہ کرنے کا حکم دیا ‘ اور اس کی دلیل میں اس نے یہ آیت پیش کی:

﴿لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍ ﴾ [التوبہ۲۵]

’’ اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے بہت سارے مقامات پر آپ کی مدد فرمائی ۔‘‘

یہ مواطن ومقامات اپنی جگہ ایک معنی رکھتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستائیس غزوات کئے اور چھپن سرایا بھیجے۔ یہ حکایت توعلی بن موسی رحمہ اللہ کی مامون کے ساتھ بیان کی جاتی ہے۔یہاں پر دوباتوں میں سے ایک ضرور ہے ۔ یاتو یہ من گھڑت اور جھوٹی کہانی ہے۔یا پھر فتوی دینے والے کی جہالت پر دلالت کرتی ہے۔

اس لیے کہ جب کوئی اعتراف کرتا ہے کہ فلاں انسان کے مجھ پر بہت سارے دراہم ہیں ۔ یا پھر وہ منت مانتا ہے کہ وہ بہت سارے دراہم صدقہ کریگا‘ یا یہ کہتا ہے کہ میں فلاں آدمی کو بہت سارے دراہم دوں گاتوعلماء مسلمین میں سے کوئی ایک بھی یہ نہیں کہتا کہ اس سے مراد تراسی ہوں گے۔

رافضی مصنف کی دلیل کئی وجوہات کی بنا پر باطل ہے:

پہلی وجہ:....یہ کہنا کہ : قرآن میں ذکر کردہ مواطن یا مقامات میں ستائیس غزوات اور چھپن سرایا تھے؛ یہ بات صحیح نہیں ہے؛اس لیے سیرت نگارعلماء کا اتفاق ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستائیس سے کم غزوات کئے ہیں ۔[علامہ ابن کثیر نے اپنی کتاب البدایہ و النہایہ ۲؍۲۵۲ میں نقل کیا ہے؛ امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے؛ حضرت زید بن ارقم سے پوچھا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات کئے تھے؟ تو آپ نے فرمایا: ’’ أنیس ۔‘‘ان میں سے سترہ میں خود شراکت کی ؛ ان میں سے پہلا غزوہ عشیرہ تھا؛ ....اور پھر ابن کثیر رحمہ اللہ نے امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ غزوات کئے تھے۔ اور مسلم کی روایت میں انیس غزوات کا ذکر ہے۔ ان میں سے آٹھ میں لڑائی تک نوبت پہنچی۔ ہشام دستوائی نے حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے ؛ فرماتے ہیں : بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات اور سرایا کی تعداد تینتالیس ہے۔ ان میں سے چوبیس سرایا تھے؛ اور انیس غزوات ۔]

دوسری وجہ:....یہ آیت غزوہ حنین کے موقع پر نازل ہوئی ۔ اس آیت میں یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان مواقع کی خبردی ہے جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں ۔پس واجب ہوتا ہے اس آیت میں اس سے پہلے مواطن کثیرہ کے واقعات پیش آچکے ہوں ۔ غزوہ حنین کے بعد غزوہ طائف اور تبوک پیش آئے۔ اور بہت سارے سرایا حنین کے بعد پیش آئے ہیں ‘ جیسا کہ سریہ جریر بن عبد اللہ بجلی ؛ ذی الخلصۃ بت کی طرف ۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال قبل اسلام قبول کیا تھا۔ جب بہت سارے سرایا اور کچھ غزوات اس آیت کے نزول کے بعد پیش آئے ہیں تو پھر یہ ممتنع ہے کہ اس آیت میں ماضی میں ہی تمام غزوات اور سرایا کی خبردی گئی ہو۔

تیسری وجہ :....مسلمانوں کی ہر موقع پر نصرت نہیں ہوئی؛ بلکہ بعض مواقع پر انہیں پیچھے بھی ہٹنا پڑا۔ احد کے دن ایسا ہی ہوا تھا؛ یہ سخت آزمائش و امتحان کا دن تھا۔ایسے ہی موتہ اور بعض دوسرے سرایا میں فتح حاصل نہیں ہوئی ۔ اگر مان لیا جائے کہ تمام غزوات اور سرایا کی تعداد تراسی تھی ؛ تو اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان تمام غزوات وسرایا میں مسلمانوں کو ہی فتح نہیں ہوئی کہ اس سے مسلمانوں کی فتح و نصرت کے تراسی مقامات ثابت ہوتے۔

چوتھی وجہ :....بالفرض اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ اس آیت میں وارد لفظ کثیر سے مراد تراسی ہے ؛ تو اس کا تقاضا ہر گز نہیں کہ کثیر کا لفظ صرف تراسی کے عدد کے ساتھ خاص ہو۔ اس لیے کہ کثیر سے مراد ہزار ‘ دو ہزار ‘ ہزاروں میں بھی ہوسکتی ہے۔ جب مقداریں مختلف ہوں تو اس حساب سے اس کا اطلاق بھی ہوا۔ بعض مقادیر کے ساتھ اس کو خاص کرنا غلطی ہے۔

پانچویں وجہ :....بیشک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗٓ اَضْعَافًاکَثِیْرَۃً﴾ [البقرۃ ۲۳۵]

’’ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے گا۔‘‘

نص قرآنی سے یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی کا ثواب سات سو گنا تک بڑھاتے ہیں ۔ اور حدیث میں یہ بھی ثابت ہے کہ اجر وثواب دس لاکھ گنا تک بڑھایا جاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس بڑھانے اور زیادہ کرنے کو بالکل ویسے ہی کثیرہ کہا ہے جیسے مواطن کثیرہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

صفحہ 2 از 3