فتح مصر کے اہم دروس و عبر اور فوائد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

فتح مصر کے اہم دروس و عبر اور فوائد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

اور تمہارا یہ کہنا کہ معاش کی تنگی کے ساتھ ہم دوسری ضروریات میں الجھے ہوئے ہیں، تو جان لو کہ ہم بہت خوشحال ہیں، اگر پوری دنیا کی دولت ہمارے قبضہ میں آ جائے پھر بھی ہم موجودہ اسباب زندگی سے زیادہ کے خواہش مند نہ ہوں گے، تم کیا چاہتے ہو، اچھی طرح غور کر لو اور پھر ہمیں بتاؤ، ہمارے اور تمہارے درمیان تین چیزوں کے علاوہ کسی اور بات پر فیصلہ نہ ہوگا، ان میں سے کوئی ایک اختیار کر لو اور ہم سے باطل کے لیے امیدیں مت لگاؤ ہمارے امیر نے ہمیں یہی کہہ کر بھیجا ہے اور امیرالمؤمنین نے ان سے یہی کہا ہے اور اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں حکم دیا، اسلام قبول کر لو کیونکہ اللہ کو اس کے علاوہ کوئی دین منظور نہیں، یہی اس کے انبیاء، رسولوں اور فرشتوں کا دین ہے۔ اس نے ہمیں حکم دیا کہ اس کی مخالفت اور دشمنی کرنے والوں سے ہم اس وقت تک لڑتے رہیں جب تک کہ وہ اسے قبول نہ کر لیں۔ اگر کوئی اسے قبول کر لیتا ہے تو اسے اور ہمیں یکساں حقوق حاصل ہوں گے اور وہ ہمارا دینی بھائی ہوگا، لہٰذا اگر تم اور تمہارے ساتھی بھی اسے قبول کر لیں تو دنیا و آخرت کی سعادتوں سے بہرہ مند ہو جائیں گے اور ہم تم سے جنگ نہیں لڑیں گے، تمہیں تکلیف دینا حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ تم سے کوئی چھیڑ چھاڑ کریں گے۔

اور اگر جزیہ دینا منظور ہے تو ہمارے زیردست بن کر ہمیں جزیہ دو، ہمارا آپس میں ہماری اور تمہاری پسند کا اور جب تک ہم اور تم باقی ہیں ہر سال دینا ہوگا اور اگر کوئی تمہیں زک پہنچانا چاہے گا، تمہاری زمین غصب کرنا چاہے گا، تمہارے قتل کے درپے ہوگا یا مال لوٹنا چاہے گا تو ہم تمہاری طرف سے دفاع کریں گے۔ جب تک تم ہمارے ذمہ میں ہو ہم اسے پورا پورا نبھائیں گے۔ تمہارے لیے ہم پر یہی اللہ کا حکم نازل ہوا ہے اور اگر تم جزیہ دینا بھی نامنظور کرتے ہو تو ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہی فیصلہ کرے گی۔ یہاں تک کہ ہم سب مر جائیں، یا تم پر غالب ہو جائیں۔ ہمارا وہ دین ہے جسے اللہ کے لیے مانتے ہیں، ہمارے اور اس کے مابین جو عہد ہے اس کی بنیاد پر اس کے سوا ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ تم اپنے بارے میں اچھی طرح غور کر لو۔

مقوقس نے کہا: یہ ایسا مطالبہ ہے جو ہرگز منظور نہیں، کیا تم زندگی بھر ہمیں اپنا غلام بنانا چاہتے ہو؟

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسے ہی ہے، تم کسی ایک کو اختیار کر لو۔

مقوقس نے کہا: کیا ان تینوں شرائط کے علاوہ کوئی اور شرط نہیں ہے جو ہمارے لیے قابل قبول ہو؟

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیے اور کہا: نہیں! آسمان و زمین اور پوری کائنات کے رب کی قسم ہے! ہمارے پاس تمہارے لیے ان تینوں کے علاوہ کوئی چوتھی شرط نہیں ہے، تم اپنے لیے جو چاہو اختیار کرو۔

یہ سب کچھ سننے کے بعد مقوقس اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: وہ اپنی بات کہہ چکا، تمہارا خیال کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: کیا کوئی اس ذلت سے راضی ہو سکتا ہے؟ ان کا جو یہ کہنا ہے کہ ہم ان کا دین قبول کر لیں سو ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، ہم مسیح بن مریم کے دین کو چھوڑ کر وہ دین ہرگز نہیں قبول کریں گے جسے ہم جانتے ہی نہیں اور وہ لوگ جو یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو ہمیشہ غلام بنا کر رکھیں، سو مرجانا اس سے بہتر ہے، ہاں جس رقم کی پیشکش ہم نے بار بار کی ہے اگر اس کا دو گنا بھی دینا پڑے تو یہ ہمیں منظور ہے۔

مقوقس نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میری قوم نے تمہاری بات کا انکار کر دیا، اب تمہارا کیا خیال ہے؟ اپنے امیر کے پاس جاؤ اور بتا دو کہ اس مرتبہ جتنا تمہارا مطالبہ ہو اتنا ہم دینے کو تیار ہیں، لوٹ جاؤ۔

حضرت عبادہؓ اور ان کے ساتھی اٹھے اور وہاں سے واپس ہوگئے۔

مقوقس نے اپنے قریب بیٹھنے والوں سے کہا: تم لوگ میری بات مان لو اور مسلمانوں کی تینوں شرائط میں سے کوئی ایک منظور کر لو۔ اللہ کی قسم! تم سب ان سے مقابلہ نہیں کر سکو گے، اور اگر اسے بخوشی ماننے کو تیار نہیں ہو تو یقیناً بہت جلد اس سے بھی بڑی چیز مجبوراً ماننا ہوگی۔

انہوں نے کہا: پھر ہم ان کی کون سی شرط مان لیں؟

مقوقس نے کہا: میں بتاتا ہوں، رہی یہ بات کہ اپنا دین چھوڑ کر دوسرا دین قبول کر لو تو میں اسے نہیں کہوں گا اور جہاں تک ان سے جنگ لڑنے کی بات ہے تو مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تم ان کا مقابلہ اور ان کی طرح صبر نہیں کر سکتے۔ ایسی صورت میں تمہارے سامنے تیسری ہی شرط بچ رہی ہے۔

اس کے ساتھیوں نے کہا: تو کیا ہم ہمیشہ ان کے غلام بن کر رہیں؟

مقوقس نے کہا: ہاں! غلام رہو گے لیکن اپنے ملک کے مالک رہو گے، تمہاری جان و مال اور آل و اولاد کو حفاظت حاصل ہوگی اور یہ غلامی اس سے بہتر ہے کہ تمہارا ایک ایک آدمی مارا جائے یا تمہیں اس طرح غلام بنا لیا جائے کہ تم اور تمہارے اہل و عیال اپنے وطن میں نشانہ ستم بن جائیں اور مسلمان بھیڑ بکریوں کی طرح تمہیں بیچتے اور خریدتے رہیں۔

انہوں نے کہا: اس سے بہتر موت ہے۔

اور پھر فسطاط اور جزیرہ کو ملانے والے پل کو توڑنے کا حکم دیا اور قلعہ کی طرف لوٹ گئے جہاں بہت سارے قبطی اور رومی موجود تھے۔

مقوقس اور حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والی اس گفتگو میں حضرت عبادہؓ کی ذکاوت و دانائی اور اپنے حریف کے مقصد کو بھانپ لینے کی صلاحیت واضح ہوتی ہے، چنانچہ بات چیت کے نتائج پر اثر انداز ہونے اور اپنی دھونس جمانے کے لیے مقوقس کے اسلوب گفتگو سے قطعاً متاثر نہ ہوئے، بلکہ ترکی بہ ترکی اس کا جواب دیتے رہے، اپنے خیالات اور مقاصد کو صاف صاف پیش کرتے رہے، اس کی باتوں میں الجھ کر اسلام کی دعوت دینے سے غافل نہ ہوئے، اسلام کی طرف رغبت دلاتے رہے اور دیگر اقوام اور ادیان و مذاہب پر اسلام اور مسلمانوں کی فتح کا چرچا کرتے رہے۔ ان تمام باتوں کا مقوقس کے دل پر بہت اچھا اثر ہوا اور اسی وجہ سے اس نے مسلمانوں کے ساتھ صلح کر لینے کو پسند کیا۔

(أنصار فی العصر الراشدی: صفحہ 211)


صفحہ 3 از 3