فتح مصر کے اہم دروس و عبر اور فوائد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

فتح مصر کے اہم دروس و عبر اور فوائد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

پھر مقوقس نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے کالے کلوٹے! آگے آؤ اور مجھ سے نرمی سے بات کرو، کیونکہ تمہارا سیاہ رنگ دیکھ کر مجھے ڈر لگتا ہے، اگر تم نے سخت لہجے میں بات کی تو میری گھبراہٹ اور خوف میں اضافہ کر دو گے۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور کہا: میں نے تمہاری بات سن لی، سنو! میرے پیچھے میرے ایک ہزار ساتھی ایسے ہیں جو میری ہی طرح کالے کلوٹے ہیں، بلکہ مجھ سے بھی زیادہ سیاہ اور ہیبت ناک منظر والے، اگر تم ان کو دیکھو گے تو مجھ سے زیادہ ان سے خوفزدہ ہو گے۔ میں تو ایسے وقت میں ذمہ دار بن کر آیا ہوں کہ اب میری جوانی ڈھل رہی ہے۔ اس کے باوجود اللہ کا فضل ہے کہ اگر ایک سو (100) دشمن میرے مقابلہ میں آجائیں تو میں ڈرنے والا نہیں ہوں اور اسی طرح میرے تمام ساتھی ہیں۔ ہمارے اندر یہ حوصلہ و ہمت اس لیے ہے کہ ہماری خواہش اور ہمارا مقصد صرف اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اور اسی کی رضا جوئی ہے۔ اپنے دشمنوں اور اعدائے اسلام سے ہماری لڑائی کا مقصد دنیا طلبی اور زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنا نہیں ہے اور ایسا بھی نہیں کہ اللہ نے دنیا ہمارے لیے بالکل حرام کر دی ہے، بلکہ غنیمت میں ملنے والا مال ہمارے لیے حلال ہے۔ ہم میں سے کسی کو یہ پروا نہیں ہوتی کہ کس کے پاس سونے کا انبار ہے اور کس کے پاس درہم کا ایک سکہ۔ اس لیے کہ ہم دنیوی زندگی کا ماحصل یہ سمجھتے ہیں کہ چند لقمے کھانا ملے جس سے بھوک مٹائی جا سکے اور چادر ہو جسے اوڑھا جا سکے، اگر کسی کو یہی میسر ہے تو بس اس کے لیے یہی کافی ہوتا ہے اور اگر کسی کے پاس سونے کا انبار ہوتا ہے تو وہ سب کچھ اللہ کے راستے میں لٹا کر صرف اسی مختصر زندگی پر اکتفا کرتا ہے۔ اس لیے کہ دنیا کی نعمتیں دائمی نہیں ہیں، یہاں کی خوش حالی حقیقی نہیں ہے۔ حقیقی نعمت اور خوش حالی تو آخرت کی ہے، ہمارے رب اور ہمارے نبی نے ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے اور ہم سے وعدہ لیا ہے کہ دنیا کی دولت کے ہم اتنے طلب گار بنیں جس سے ہماری بھوک مٹ جائے، جسم کی سترپوشی ہو جائے۔ ساری کوششوں اور تمام تر مصروفیات کا خلاصہ اللہ کی خوشنودی کی تلاش اور اس کے دشمنوں سے جہاد ہو۔

مقوقس نے یہ سن کر اپنے اردگرد بیٹھنے والوں سے کہا: کیا اس آدمی کی طرح تم نے کبھی کسی کی بات سنی؟ میں تو اس کی شکل دیکھ کر ہیبت میں پڑ گیا اور سب سے زیادہ اس کی بات خوفزدہ کر دینے والی ہے۔ مجھے لگ رہا ہے کہ اللہ نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو دنیا تباہ کرنے کے لیے بھیجا ہے اور یہ لوگ جلد ہی پوری دنیا پر قابض ہو جائیں گے۔

پھر حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: اے فلاں! تم نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں جو کچھ کہا میں نے سن لیا۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمہاری کامیابی کا راز وہی ہے جو تم نے بتایا اور اپنی مفتوحہ اقوام پر تمہیں غلبہ اسی وجہ سے ملا ہے کہ دنیا انہیں زیادہ پیاری تھی اور وہ اس کے لیے زیادہ کوشاں تھے۔ تم سے لڑنے کے لیے رومیوں کی بے شمار افواج ہمارے پاس آرہی ہیں جو اپنی طاقت اور قہرسامانی کے لیے مشہور ہیں، انہیں قطعاً پروا نہیں ہوتی کہ کس سے مقابلہ اور کس سے لڑائی ہونی ہے، کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ ان کے مقابلہ پر آسکے۔ ہمیں معلوم ہے کہ تم اپنی کمزوری اور قلت تعداد کی وجہ سے ان کے سامنے نہ ٹھہر سکو گے، تمہیں یہاں پڑے ہوئے کئی مہینے ہوگئے ہیں اور معاش کی تنگی کے ساتھ ساتھ دوسری ضروریات نے بھی تم کو پریشان کر رکھا ہے، ہم تمہاری کمزوری، قلت تعداد اور بے سروسامانی کی وجہ سے تم پر ترس کھاتے ہیں اور تم سے اس شرط پر مصالحت کر لینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں کہ سپاہیوں کو دو دو دینار اور تمہارے امیر کو سو (100) دینار اور خلیفہ کے لیے ایک ہزار دینار دیتے رہیں گے، تم اسے قبول کرو اور قہر آگیں طاقت مسلط ہونے سے پہلے یہاں سے چلے جاؤ۔

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فلاں! خود کو اور ساتھیوں کو دھوکے میں نہ ڈالو۔ رومی افواج کی کثرت اور ان کی مسلح پیش قدمی کی جو تم ہمیں دھمکی دے رہے ہو اور کہتے ہو کہ ہم ان کا مقابلہ نہ کر پائیں گے تو سن لو! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ چیز ہمیں خوف نہیں دلا سکتی اور نہ ہمارے حوصلے پست کر سکتی ہے۔ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو جان لو کہ اللہ کی قسم یہ چیز ان سے لڑنے میں ہمیں اور قوت دے گی اور ہمارے حوصلے بلند ہو جائیں گے۔ اس لیے کہ جب ہم اپنے رب کے پاس حاضر ہوں گے تو اپنے فرض سے بری الذمہ ہوں گے اور اگر ہم سب قتل کر دیے گئے تو اس کی خوشنودی اور جنت ہمارے نصیب میں آئے گی اور اس سے بڑھ کر نہ کوئی چیز ہمارے نزدیک محبوب ہے اور نہ آنکھوں کو ٹھنڈک دینے والی ہے۔ اس وقت ہم تمہاری وجہ سے دو میں سے ایک بھلائی ضرور پائیں گے اگر ہم تم پر فتح یاب ہوئے تو دنیا میں تم سے بہت زیادہ مال غنیمت ملے گا یا تم ہم پر فتح یاب ہوگے اور ہمیں آخرت کی بھلائی ملے گی۔ ہماری کوشش کے نتیجے میں دونوں میں سے آخر الذکر ہی ہمیں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں ہم سے فرمایا ہے:

کَمۡ مِّنۡ فِئَةٍ قَلِيۡلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةً کَثِيۡرَةً بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ۞ (سورۃ البقرة آیت 249)

ترجمہ: نہ جانے کتنی چھوٹی جماعتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں، اور اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں۔

ہم میں سے ہر ایک مسلمان صبح و شام اپنے رب سے شہادت کے لیے دعا کرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اپنے شہر اور اہل وعیال کی طرف لوٹ کر نہ جائے۔ کوئی اپنے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔ اپنے اہل و عیال کو اللہ کی حفاظت میں دے کر آیا ہے۔ ہماری فکر آگے کی ہوتی ہے۔

صفحہ 2 از 3