فتح مصر کے اہم دروس و عبر اور فوائد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

فتح مصر کے اہم دروس و عبر اور فوائد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

حضرت عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ کی سفارت

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جب قلعہ بابلیون کا محاصرہ کیا تو مقوقس نے حضرت عمروؓ کے پاس یہ خط لکھا:

’’تم ہمارے ملک میں گھس آئے ہو اور ہم سے لڑنے پر تلے ہو، ہمارے ملک میں تمہارا قیام طویل ہوگیا ہے، حالانکہ تم مٹھی بھر ہو اور روم کی مسلح افواج تم سے مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، تم دریائے نیل کے گھیرے میں ہو اور ہمارے ہاتھوں میں قید ہو، اپنے کچھ آدمی ہمارے پاس بھیج دو کہ ہم سنیں وہ کیا کہتے ہیں، ممکن ہے کوئی ایسی صورت نکل آئے جو ہمارے اور تمہارے لیے یکساں پسندیدہ ہو اور یہ جنگ ختم ہو جائے پیشتر ازیں کہ رومی افواج تم پر چھا جائیں اور بات چیت کا کوئی پہلو اور کوئی فائدہ باقی نہ رہے۔ ہو سکتا ہے جنگ کا نتیجہ تمہاری خواہش اور امید کے برخلاف نکلے اور تمہیں ندامت اٹھانی پڑے، اس لیے اپنے نمائندے ہمارے پاس بھیجو کہ ان کے ذریعہ سے ہماری اور تمہاری پسند کی بات طے ہو جائے۔‘‘

جب مقوقس کے قاصد حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس اس کا خط لے کر آئے تو حضرت عمرو بن عاصؓ نے انہیں دو دن اور دو راتیں اپنے پاس روک لیا، مقوقس کو ان کے بارے میں تشویش لاحق ہوئی اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ’’آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ سفیروں کو قید یا قتل کرتے ہیں اور ان کا مذہب انہیں اس بات کی اجازت دیتا ہے؟‘‘ جب کہ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے روکنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کی حالت و حوصلہ مندی دیکھ لیں۔ دو دن کے بعد حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں اس مکتوب کے ساتھ واپس کیا:

’’ہمارے اور تمہارے درمیان صرف تین صورتیں ہیں:اسلام قبول کر لو اور اس صورت میں تم ہمارے بھائی ہو گے، ہمارے تمہارے حقوق یکساں ہوں گے اور اگر تمہیں یہ نامنظور ہے تو زیر دست بن کر جزیہ ادا کرو، ورنہ ہم صبر و استقلال کے ساتھ تم سے لڑیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور اللہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘

(عبادۃ بن الصامت صحابی کبیر و فاتح مجاہد: صفحہ 91)

جب مقوقس کے قاصد اس کے پاس گئے تو اس نے وفد سے مسلمانوں کا حال پوچھا، انہوں نے کہا: ہم نے ایک ایسی قوم دیکھی ہے جس کا ہر فرد زندگی سے زیادہ موت اور غرور سے زیادہ خاکساری کو پسند کرتا ہے۔ ان میں کوئی ایسا نہیں جو دنیا سے کوئی دلچسپی یا غرض رکھتا ہو، وہ زمین پر بیٹھتے ہیں، گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کھاتے ہیں، ان کا امیر گویا انہی میں سے ایک ہے۔ ان میں شریف اور کمتر، آقا اور غلام کی کوئی تمیز نہیں۔ جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو کوئی پیچھے نہیں رہتا۔ سب وضو کرتے ہیں اور خشوع وخضوع سے نماز پڑھتے ہیں۔

یہ سن کر مقوقس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے، یہ لوگ چاہیں تو پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے ہٹا سکتے ہیں، ان سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔ اگر آج ہم ان سے صلح نہ کر سکے جب کہ نیل نے انہیں گھیر رکھا ہے تو کل اس خطرے سے نکل جانے کے بعد انہیں صلح پر کیسے آمادہ کر سکیں گے؟ پھر اس نے اپنے قاصدوں کو مسلمانوں کے پاس کہلا بھیجا کہ اپنے نمائندے ہمارے پاس بھیجو، ہم ان سے گفتگو کریں گے، بہت ممکن ہے کوئی ایسا پہلو نکل آئے جس میں ہم تم دونوں کی بھلائی ہو۔ چنانچہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے دس افراد پر مشتمل ایک وفد بھیجا، ان میں ایک حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی تھے، حضرت عبادہؓ کا قد صرف دس بالشت تھا۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے رومیوں سے گفتگو کرنے کی ذمہ داری انہی کے سپرد کی اور انہیں حکم دیا کہ ان تین شرائط میں سے کسی ایک شرط کے سوا رومیوں کی کوئی تجویز منظور نہ کریں گے۔ اس لیے کہ امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہمیں یہی حکم ملا ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا رنگ سیاہ تھا۔ جب یہ وفد کشتی پر سوار ہو کر مقوقس کے پاس پہنچا تو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بات کرنے کے لیے آگے بڑھے۔ مقوقس، حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا سیاہ رنگ دیکھ کر خوفزدہ ہوگیا اور کہا اس کالے کلوٹے شخص کومیرے پاس سے ہٹاؤ اور کسی اور کو آگے کرو جو مجھ سے بات کرے۔ وفد کے لوگوں نے کہا: یہ کالا کلوٹا شخص ہم سب سے زیادہ عقل مند اور عالم ہے وہی ہمارا سردار، ہم میں سب سے بہتر اور ہمارا رہنما ہے۔ ہم سب اسی کی بات اور رائے مانتے ہیں۔ مسلمانوں کے امیر نے اسے ہمارا ذمہ دار بنا کر بھیجا ہے اور کہا ہے کہ اس کی کسی بات اور رائے کی ہم مخالفت نہ کریں۔

مقوقس نے وفد والوں سے کہا: اس کالے کلوٹے کو اپنا سب سے افضل انسان ماننے کے لیے کیسے تیار ہو، بہتر تو یہ تھا کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا ذمہ دار ہوتا؟ انہوں نے کہا: ہرگز نہیں۔ وہ اگرچہ تمہاری نگاہوں میں کالا کلوٹا ہے لیکن ہمارے نزدیک ان کا بہت اونچا مرتبہ ہے۔ وہ ہم سب سے پہلے اسلام لائے اور ہم سب سے زیادہ عقل مند و زیرک ہیں۔ کالا ہونا ہمارے نزدیک کوئی معیوب چیز نہیں ہے۔

صفحہ 1 از 3