فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ -…

فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 11

پھرکیسانیہ میں سے ایک فرقہ کا دعوی ہے کہ محمد بن حنفیہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ اور آپ کے بعد آپ کا بیٹا ابو ہاشمعبداللہ امام بنا تھا۔پھر اس گروہ میں سے ایک اور گروہ نکلا ہے ‘ وہ کہتے ہیں کہ: ابو ہاشم نے اپنے بعد اپنے بھائی حسن کو امام بنانے کی وصیت کی تھی۔اور حسن نے اپنے بیٹے علی بن حسن کے لیے وصیت کی تھی۔اور علی کی موت واقعہ ہوئی تو اس نے اپنے پیچھے کوئی اولاد نہیں چھوڑی ۔ پس اب یہ لوگ محمد بن حنفیہ کے واپس آنے کا انتظار کررہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ محمد بن حنفیہ واپس آئیں گے اور اس زمین کے مالک بنیں گے۔ اس فرقہ کے لوگ آج کل وادی ’’التیہ ‘‘ میں موجود ہیں ۔ [التیہ وہ وادی ہے جہاں بنی اسرائیل چالیس سال تک سرگرداں رہے۔ابن تیمیہ کے دور میں یہ لوگ اس علاقے میں رہتے تھے۔ [مترجم]]

اس وقت ان کا کوئی امام نہیں ہے ‘ یہاں تک کہ محمد بن علی المعروف ابن الحنفیہ واپس آجائیں ۔

ان میں سے ایک دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ : ابو ہاشم کے بعد امام محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس بنا تھا۔ اس لیے کہ امام ابو ہاشم کا شام سے واپسی کے سفر میں راستہ میں انتقال ہوگیا تھا ؛ اس نے مرتے وقت محمد بن علی کے حق میں وصیت کی تھی۔ اور محمد بن علی نے مرتے وقت اپنے بیٹے ابراہیم بن محمد کو امام بنایا تھا۔ اور پھر ابراہیم بن محمد نے اپنے بعد ابو العباس السفاح کے لیے وصیت کی تھی کہ اسے امام بنایا جائے ۔ پھر اس کے بعد خلافت ابو جعفر المنصور کے سپرد ہوئی ۔اور پھر ایسے ہی وصیت کے تحت امامت ان لوگوں میں چلتی رہی۔

٭ پھر ان میں سے بعض لوگوں نے اپنے اس قول سے رجوع کر لیا ۔ ان کایہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد حضرت عباس بن عبد الملطلب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے کی وصیت فرمائی تھی؛ اور واضح الفاظ میں اس کا حکم دیا تھا۔ پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد اپنے بیٹے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو امام بنانے کے لیے وصیت کی تھی ۔اور امام عبد اللہ بن عباس نے اپنے بیٹے علی بن عبد اللہ کو امام بنانے کے لیے وصیت کی تھی۔ پھر یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا یہاں تک کہ ابو جعفر المنصور تک پہنچ گیا۔شیعہ کا یہ فرقہ راوندیہ کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔

یہ فرقہ بھی ابو مسلم خراسانی کے مسئلہ میں دو گروہوں میں بٹ گیا۔ان میں سے ایک گروہ کوالرزامیہ کہا جانے لگا ؛ اس فرقے کا بڑا رزام نامی ایک آدمی تھا۔اس گروہ کا کہنا ہے کہ ابو مسلم کو قتل کردیا گیا ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ کا کہنا ہے:ابو مسلم نہیں مرا۔ یہ لوگ ان چیزوں کو حلال سمجھتے ہیں جسے ان کے اسلاف حلال نہیں سمجھتے تھے۔

کیسانیہ میں سے ایک تیسرے گروہ کا خیال ہے کہ: ابو ہاشم نے اپنے بعد عبد اللہ بن عمرو بن حرب کو امام مقرر کیا تھا۔ او ر ابو ہاشم کی روح اس میں حلول کر گئی تھی۔پھر ان لوگوں نے عبد اللہ بن عمرو کے کچھ جھوٹ پکڑ لیے ؛ اس وجہ سے اسے چھوڑ کر امام کی تلاش میں مدینہ چلے گئے ۔ وہاں پر ان کی ملاقات عبد اللہ بن معاویہ بن عبد اللہ بن جعفر بن ابو طالب سے ہوگئی ۔ اس نے انہیں اپنی اقتداء کرنے کی دعوت دی۔ پس ان لوگوں نے عبد اللہ بن معاویہ کو اپنا امام بنالیا ‘ او راس کے لیے وصی ہونے کا دعوی کرنے لگے۔[المقالات ۱؍ ۹۳] 

پھر ان میں سے ایک گروہ کہنے لگا کہ : عبد اللہ بن معاویہ کا انتقال ہوگیاہے۔اور دوسرا گروہ کہنے لگا : نہیں ‘ بلکہ وہ دوبارہ اٹھیں گے اورپھر انتقال ہوگا۔ایک گروہ کہتا ہے: یہ وہی مہدی ہے جس کے بارے احادیث مبارکہ میں بشارت دیگئی ہے ۔ اور یہ زندہ ہے اور اصفہان کے پہاڑوں میں روپوش ہے۔

ان میں سے ایک گروہ کہتا ہے : ابو ہاشم نے اپنے بعد بیان بن سمعان کو امام بنانے کی وصیت کی تھی۔ اور دوسرا گروہ کہتا ہے : ایسا نہیں ‘ بلکہ علی بن حسین کو امام بنایا تھا۔یہ ان لوگوں کے عقائد و اقوال ہیں جو محمد بن علی[الحنفیہ ] کو امام مانتے ہیں ۔

پھر رافضیوں میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے اپنے بعد اپنے بیٹے علی بن حسین رضی اللہ عنہ کو امام بنانے کا حکم دیا تھا۔ پھر ان کے بعد ان کا بیٹا امام بنا؛ ابو جعفر کے دور تک یہی سلسلہ چلتا رہا ۔ ابو جعفر نے اپنے بعد مغیرہ بن سعید کے لیے وصیت کی تھی۔ یہ لوگ مغیرہ بن سعید کو ہی اپنا امام مانتے ہیں یہاں تک امام مہدی کا ظہور ہوجائے۔ اور ان کے عقیدہ کے مطابق امام مہدی محمد بن عبد اللہ بن الحسن بن علی بن ابی طالب ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ مہدی حاجر کے علاقہ میں زندہ موجود ہے۔ اوراس وقت تک وہاں پر مقیم رہے گا جب تک کہ اس کے خروج کا وقت نہ آجائے۔

روافضہ میں سے ایک گروہ کا ایمان ہے کہ : ابو جعفر محمد بن علی کے بعد امام محمد بن عبداللہ بن الحسن بنا تھا ‘جس نے خلیفہ ابو جعفر المنصور کے زمانہ میں مدینہ میں خروج کیا تھا۔ان کا قصہ بڑا مشہور ہے ۔ یہ لوگ مغیرہ بن سعید کو امام نہیں مانتے ۔

رافضیوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ : ابو جعفر المنصور نے ابو منصور کو امام بنانے کے لیے وصیت کی تھی۔ پھر ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں : ابو منصور نے اپنے بیٹے حسین بن ابو منصور کے لیے وصیت کی تھی؛ اور ان میں سے بعض کہتے ہیں : محمد بن عبد اللہ بن الحسن بن الحسین اس کے بعد امام بنے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ : ابو جعفر نے ابو منصور کے لیے وصیت کی تھی ؛ باقی بنی ہاشم کے لیے نہیں ۔جیسے حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی اور حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد کو چھوڑ کر حضرت یو شع بن نون علیہ السلام کے لیے وصیت کی تھی۔ پھر ابومنصور کے بعد امامت ایسے ہی ابو منصور کی اولاد میں واپس چلی گئی جیسے حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں واپس چلی گئی تھی۔

ان میں سے کچھ لوگ کہتے ہیں : بیشک ابو جعفر نے اپنے بعد اپنے بیٹے جعفر بن محمد کوامام بنانے کا حکم دیا تھا۔ اور یہ جعفر ابھی تک زندہ ہے؛مرا نہیں ؛ اور اس وقت تک مرے گا نہیں جب تک کہ اس کا ظہور نہ ہوجائے ؛ یہی امام القائم مہدی ہے۔

صفحہ 9 از 11