فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ -…

فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 11

پس اسی وجہ سے ان کا نام رافضی [ساتھ چھوڑنے والے] پڑ گیا۔ کیونکہ حضرت زید بن علی رحمہ اللہ نے ان سے کیا تھا’’ رفضتمونی‘‘تم نے میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ اس وقت آپ کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت باقی رہ گئی جن کی ہمراہی میں آپ نے یوسف بن عمر سے جنگ کی اور آپ کو شہید کردیا گیا ۔ [المقالات ۱؍۸۷] 

کہتے ہیں : رافضہ کا اجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے کا حکم صراحت کے ساتھ دیا تھا۔ اور آپ کا نام لیکر آپ کو خلیفہ منتخب کیا تھا۔ آپ نے اس کا اظہار و اعلان بھی کیا تھا۔مگر صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی اقتداء ترک کرکے گمراہ ہوگئے ۔اور ان کا کہنا یہ ہے کہ : امامت نص اور وحی کے بغیر منعقد نہیں ہوسکتی۔ اور امامت حق قرابت بھی ہے۔ اور امام کے لیے جائز ہے کہ وہ تقیہ کرتے ہوئے کہے کہ وہ امام نہیں ہے ۔انہوں نے احکام میں تمام اجتہاد کو باطل قرار دیا ہے ۔ ان کا ایمان ہے کہ امام صرف وہی ہوسکتا ہے جو لوگوں میں سب سے افضل ہو۔ ان کا خیال ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہر حال میں حق پر تھے۔ اور اموردین میں کبھی بھی آپ سے کوئی غلطی نہیں ہوسکتی۔سوائے شیعہ میں سے کاملیہ فرقہ کے۔ کاملیہ فرقہ والے تمام لوگوں کوکافر کہتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اتباع نہیں کی ۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کافر کہتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے اپنے لیے خلافت کا مطالبہ نہیں کیا ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ : ظالم حکمران کے خلاف بغاوت کرنا جائزنہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ : امام منصوص کے علاوہ کسی کے لیے خروج جائز نہیں ۔امامیہ شیعہ کاملیہ کے علاوہ چوبیس فرقے ہیں ۔یہ لوگ اپنے آپ کو امامیہ بھی اس وجہ سے کہلاتے ہیں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ منصوص علیہ امام تھے ۔

[رافضی فرقے اور ان کے عقائد ]:

[پہلا فرقہ ]:....ان میں سے پہلا فرقہ قطعیہ ہے ۔ انہیں قطعیہ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ : ان لوگوں کا پکا اور قطعی عقیدہ ہے کہ حضرت موسی بن جعفر بن محمد رحمہ اللہ انتقال کرچکے ہیں ۔انکا اور جمہور شیعہ کا عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت و صراحت کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوامام اور خلیفہ منتخب کیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا تھا۔ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا تھا۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد اپنے لخت جگر علی بن حسین کو ‘ علی بن حسین نے اپنے بیٹے ابو جعفر محمد کو ؛ اور محمد نے اپنے بیٹے جعفر بن محمد کو ؛ جعفر نے اپنے بیٹے موسی کو ؛ اور موسی نے اپنے بیٹے علی کو ‘ علی نے اپنے بیٹے محمد بن علی کو ؛ محمد بن علی نے اپنے بیٹے علی بن محمد کو ؛ اور علی بن محمد نے اپنے بیٹے حسن کو خلیفہ اور امام مقرر کیاتھا ۔ حسن بن علی نے اپنے بعد اپنے بیٹے محمد بن حسن کوامام مقرر کیا تھا ۔یہ وہی محمد بن حسن عسکری ہے جو کہ ان لوگوں کے عقیدہ کے مطابق غائب ہوگیا۔ اور ابھی تک ظاہر نہیں ہوا ؛ یہ لوگ اس کے انتظار میں ہیں ۔ اور جب یہ امام ظاہر ہوگا تو زمین کو ایسے عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ [المقالات ۱؍ ۸۹]

[دوسرا فرقہ]:....ان کا دوسرا فرقہ کیسانیہ ہے ۔ پھر کیسانیہ کے بھی گیارہ فرقے ہیں ۔ ان کا نام کیسانیہ اس وجہ سے پڑا ہے کہ مختار بن ابو عبیدثقفی جس نے خون حسین رضی اللہ عنہ کامطالبہ کیا تھا؛ اور[شروع میں ] لوگوں کو حضرت محمد بن علی [محمد بن حنفیہ ] کی بیعت کرنے کی دعوت دیتا تھا[بعد میں خود نبوت کادعوی کر بیٹھا]۔اسے کیسان بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ: یہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا۔ کیسانیہ میں سے ایک گروہ کا دعوی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد محمد بن حنفیہ کو خلیفہ و امام مقرر کیا تھا۔ اس لیے کہ بصرہ میں آپ نے اپنی فوج کا جھنڈا آپ ہی کے سپرد کیا تھا۔

ان میں سے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو امام مقرر کیا تھا۔ [المقالات ۱؍ ۹۰]

ایک گروہ کہتا ہے کہ : محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ رضوی کے پہاڑوں میں زندہ ہیں ۔آپ کے دائیں جانب شیر اور بائیں جانب چیتا ہے جو کہ آپ کی حفاظت کررہے ہیں ۔ اور آپ کے پاس صبح و شام رزق آتا رہے گا یہاں تک کہ آپ خروج کریں ۔ ان کا خیال ہے کہ جس سبب کی وجہ سے آپ اس پہاڑ میں چھپ کرانتظارکررہے ہیں اور خلق کی نظروں سے اوجھل ہیں ؛ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی ایسی تدبیر اور حکمت ہے جسے کوئی دوسرا نہیں جانتا ۔

اس مذہب کے قائلین میں ایک کثیرنامی شاعر بھی ہے؛ جو اس بارے میں کہتا ہے:

ألا إِن الأئِمۃ مِن قریش علِی والثلاثۃ مِن بنِیہِ

فسِبط سِبط إِیمان وبِر وسِبط لا یذوق الموت حتی

تغیَّب لا یُری فِیہِـم زمانا ولاۃ الحقِ أربعۃ سوائٌ

ہم الأسباط لیس بِہِم خفاء وسِبط غیَّبَتْہ کربلا

یقود الخیل یقدمہا اللِواء بِرضوی عِندہ عسل وماء[وردت ہذِہِ الأبیات فِی دِیوانِ کثیِرِ عزۃ، وشرح الدکتور ِحسان عباس [نشر دارِ الثقافۃِ،بیروت، لبنان(۱۹۷۱۔۱۳۹۱) فِی ص:۵۲۱،والأبیات لیست متتالِیۃ فِی القصِیدۃِ المنشورۃِ، وفِیہا بعض الِاختِلافاتِ عنِ النصِ المذکورِ ہنا، وذکر الدکتور ِحسان ص:۵۲۲أن ہذِہِ الأبیات قد أوردہا أبو الفرجِ الأصفہانِیِ فِی الأغانِی: ۷؍۲۳۸، ۲۳۹۔]

یہ بات ظاہر ہے کہ ان لوگوں کایہ عقیدہ بالکل ہی باطل پر مبنی ہے۔ایسے ہی امامت کے بارے میں بھی ان کا عقیدہ باطل ہے۔اس لیے کہ ان[فرقہ کیسانیہ والوں ] کا زندہ اور موجود امام[ محمد بن حنفیہ] کے متعلق دعوی ہے کہ وہ ہمیشہ باقی رہیں گے۔جب کہ امامیہ توایسے امام [منتظر] کے متعلق دعوی کیے بیٹھے ہیں جس کا اصل میں کوئی وجود ہی نہیں ۔

صفحہ 8 از 11