فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ -…

فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 11

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْادِیْنَمُ وَکَانُوْ اشِیَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْئٍ ﴾ [الانعام: ۱۵۹]

’’بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر دیا اور گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَیّٖنٰتُ بَغْیًا بَیْنَہُمْ﴾ [البقرۃ ۲۱۳]

’’ صرف ان ہی لوگوں نے جو اسے دیئے گئے تھے، اپنے پاس دلائل آچکنے کے بعد آپس کے بغض و عناد کی وجہ سے اس میں اختلاف کیا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَیِّنَۃُ ﴾ [البینۃ ۳]

’’ اہل کتاب اپنے پاس ظاہر دلیل آ جانے کے بعد ہی(اختلاف میں پڑ کر)متفرق ہوگئے ۔‘‘

مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہونے والا گروہ جتنا ان سے دور ہوگا وہ بذات خود سب سے زیادہ قابل مذمت ہے اور جو گروہ جماعت کے ساتھ جتنا کم تفرقہ ڈالنے والا ہو‘ وہ حق کے اتنا ہی زیادہ قریب ہوتاہے۔ جب امامیہ فرقہ کے لوگ باقی سارے گروہوں اور جماعتوں سے سب سے زیادہ جدا اور دور ہیں تووہ حق سے بھی اتنے ہی دور ہیں ۔ خصوصاً جب کہ یہ لوگ اپنے اندر بھی امت کے تمام گروہوں سے بڑھ کر داخلی انتشار کا شکار ہیں ۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ: بہتر فرقے تو صرف شیعہ کے اندر موجود ہیں ۔ یہ تعداد تو طوسی سے اس کے بعض ساتھیوں نے نقل کی ہے ۔ طوسی کہا کرتا تھا : شیعہ فرقوں کی تعداد بہتر تک پہنچتی ہے۔ شیعہ عالم نو بختی نے شیعہ فرقوں کی تعداد کے متعلق ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ جبکہ اہل سنت والجماعت اصول دین میں ان کے مابین باقی تمام گروہوں کی نسبت سب سے کم اختلاف پایا جاتا ہے ۔وہ ہر فرقہ کی نسبت حق سے زیادہ قریب تر ہیں ۔ اہل کلام کی اصطلاح میں یہی لوگ متوسط امت ہیں ۔جیسا کہ اہل اسلام باقی تمام مذاہب کے مابین متوسط ملت ہیں ۔ اہل سنت والجماعت صفات باری تعالیٰ کے باب میں اہل تعطیل اور اہل تمثیل کے مابین متوسط طبقہ ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ بہترین کام متوسط درجہ کے ہیں ۔‘‘

اس لحاظ سے اہل سنت والجماعت باقی تمام فرقوں کی نسبت بہترین فرقہ ہیں ۔ تقدیر کے باب میں بھی اہل سنت و الجماعت جبریہ اور قدریہ کے درمیان میں ہیں ۔ اسماء اور احکام کے باب میں بھی اہل سنت والجماعت وعیدیہ اور مرجئہ کےدرمیان میں ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باب میں بھی غالی اور جافی [جفاکرنے والے ] کے درمیان میں ہیں ۔ نہ ہی صحابہ کرام کی شان میں غلو کرتے ہیں جیسے رافضی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں غلوکرتے ہیں [ان کے بعض لوگ حضرت علی کو رب مانتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ آپ نبی تھے ] اور نہ ہی خوارج کی طرح آپ کو کافر کہتے ہیں ۔ایسے ہی حضرت ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے باب میں بھی خوارج اور روافض کے درمیان میں ہیں ۔ نہ ہی خوارج کی طرح حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کو کافر کہتے ہیں او رنہ ہی روافض کی طرح حضرت ابو بکر و عمر وعثمان رضی اللہ عنہم کو کافر کہتے ہیں ۔

[رافضیت کی ابتداء]:

آٹھویں وجہ :....ان کے جواب میں کہا جائے گا کہ : شیعہ کا کوئی ایک قول بھی ایسا نہیں ہے جس پر ان تمام کا اتفاق ہوا ہو۔ شیعہ مصنف نے جو قول ذکر کیا ہے وہ امامیہ شیعہ کا قول ہے۔پھر امامیہ میں بھی ایسے گروہ ہیں جو ان سے توحیداورعدل میں اختلاف رکھتے ہیں ۔جیسا کہ اس سے پہلے انکے بارے میں بیان ہوچکا۔ جمہور شیعہ بارہ اماموں کے بارے میں امامیہ اثنی عشریہ کے خلاف ہیں ۔ پس زیدیہ ؛ اسماعیلیہ اور کچھ دوسرے گروہ بارہ ائمہ کی امامت کے منکر ہونے پر متفق ہیں ۔

٭ لوگوں کے عقائد پر لکھنے والے علماء فرماتے ہیں : ’’ شیعہ تین قسم کے ہیں : انہیں شیعہ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ لوگ [اپنے تئیں ] حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیروکار ہیں ‘ اور آپ کو باقی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ترجیح دیتے ہیں ۔ ان میں سے ایک گروہ غالیہ کہلاتا ہے ۔ ان کا یہ نام اس وجہ سے رکھاگیا ہے کہ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں غلو کرتے ہیں اور ان کے بارے میں بہت ہی غلط قسم کے عقائد رکھتے ہیں ۔ ان میں سے بعض لوگ آپ کو رب مانتے اور بعض نبی مانتے ہیں ۔ پھر ان کی بھی کئی ایک اقسام ہیں ۔ ان میں سے ایک گروہ نصیریہ کا ہے ۔ اور شیعہ کا دوسرا گروہ رافضہ کا ہے۔

علامہ اشعری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ ان میں سے ایک گروہ کا نام رافضی پڑ گیا ؛ اس لیے کہ یہ لوگ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت و امامت کا انکار کرتے تھے ۔‘‘ [المقالات ۱؍ ۶۵]

میں کہتا ہوں : صحیح یہ ہے : ان کا نام رافضی اس وقت پڑا جب انہوں نے حضرت زید بن علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب رحمہ اللہ و رضی اللہ عنہم کا ساتھ اس وقت چھوڑ دیا جب آپ نے خلیفہ ہشام بن عبد الملک کے دور میں کوفہ میں خروج کیا تھا۔ امام اشعری نے یہ بھی ذکر کیا ہے ؛ او ردوسرے علماء نے بھی ذکر کیا ہے۔ [المقالات ۱؍ ۱۲۹]

کہتے ہیں کہ : [شیعہ کے ایک گروہ کانام]زیدیہ اس وجہ سے پڑگیا کہ انہوں نے حضرت زید بن علی رحمہ اللہ کی بات کو پکڑے رکھا۔ ہشام بن عبد الملک کے ایام حکومت میں کوفہ میں حضرت زید رحمہ اللہ کی بیعت کی گئی تھی۔ اس وقت کوفہ کا امیر یوسف بن عمر ثقفی تھا۔ حضرت زید رحمہ اللہ [اپنے پردادا ]علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو باقی تمام صحابہ پر فضیلت دیتے تھے ؛ مگر حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتے تھے۔ آپ ظالم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کو جائز سمجھتے تھے۔ جب کوفہ میںآپ کا ظہور ہوا تو آپ کے ساتھ وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے آپ کی بیعت کی ۔آپ نے ان میں سے بعض سے سنا وہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر طعن و تشنیع کررہے تھے ۔ آپ نے ان کلمات کا انکار کیا [او رایسا کہنے سے منع کیا]۔تو جن لوگوں نے آپ کی بیعت کی تھی [ان میں سے کچھ لوگ] آپ کو چھوڑ کر چلے گئے ۔ آپ نے ان سے پوچھا : کیا تم نے میرا ساتھ چھوڑ دیا ؟ وہ کہنے لگے : ہاں ؛

صفحہ 7 از 11