فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ -…

فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 11

’’یہ حکایت اہل سنت والجماعت ‘اہل حدیث کی ہے۔جس مجمل عقیدہ پر اصحاب الحدیث اور اہل سنت والجماعت قائم ہیں ‘ وہ : اللہ تعالیٰ کا ‘ اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اقرار ہے اور جوکچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اس پر ایمان ہے۔ اور جو خبریں ثقہ راویوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہیں ‘ان کو رد نہیں کرتے ۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اکیلا معبود برحق ہے ؛ وہ اکیلا یکتا اور بے نیاز ہے؛ اس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں ۔ اور یہ کہ جنت حق ہے ‘ اور جہنم حق ہے ۔ اور قیامت آنے والی ہے ‘ اس میں کوئی شک نہیں ۔‘ اوربیشک اللہ تعالیٰ قبروں میں پڑے ہوؤں کو دوبارہ اٹھائیں گے۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی﴾ [طہ ۵] ’’رحمن نے اپنے عرش پر قرار پکڑا ہے ۔‘‘

اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے دو ہاتھ ہیں ؛ جن کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿خَلَقْتُ بِیَدَيَّ﴾ [ص ۷۵] ’’ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا ۔‘‘ 

جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿ بَلْ یَدٰہُ مَبْسُوْطَتٰنِ﴾ (المائدۃ ۶۳) ’’ بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ۔‘‘

اور پھر آخرتک پورا کلام کیا ہے ۔‘‘

[اعتراض]: اگر کوئی کہے : جدا ہونے سے رافضی مصنف کی مراد یہ ہے کہ وہ اپنے دار کے علاوہ باقی تمام دار کے لوگوں کو کافر کہتے ہیں ۔ جیسا کہ کئی ایک شیعہ مشائخ نے فتوی دیا ہے کہ جب دار ایسا ہو جس میں ناصبیوں کا مذہب غالب اور ظاہر ہوجیسے : موزوں پر مسح کرنا ؛ جوس پینے کوحلال سمجھنا ؛ متعہ کو حرام سمجھنا ؛ تو ایسا دار دار کفر ہے ۔ یہاں کی مائع چیزوں پر نجاست کا حکم لگایا جائے گا۔اور طائفہ حقہ۔یعنی امامیہ ۔ کا مذہب یہاں پر ظاہر ہو؛ تو ان تمام مائع چیزوں کی طہارت کا حکم لگایا جائے گا ۔اور اگر دونوں چیزیں برابر ہوں ؛ تو توقف کیا جائے گا؛ اور دیکھا جائے گا کہ: جو کچھ اپنے گروہ کے لوگوں کے ہاں سے ہو؛ تو اس کی مائع چیزیں پاک ہوں گی۔ اور جو کچھ دوسروں کے ہاں سے ہو ؛ اس پر نجس ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔ ‘‘ 

[جواب]: ان سے کہا جائے گا کہ: اس وصف میں خوارج بھی ان کے ساتھ شریک ہیں ۔ بلکہ خوارج اس بارے میں ان سے زیادہ قوی ہیں ۔ اس لیے کہ خوارج ان کو قتل کرنا حلال سمجھتے ہیں ۔اہل سنت والجماعت کے ساتھ ان کی جنگیں بڑی مشہور ہیں ۔خوارج کے نزدیک ان کے دیار کے علاوہ باقی تمام دیار دیار کفر ہیں ۔ان میں سے بعض نے تکفیر عام میںاختلاف کیا ہے ۔ جیسے بعض امامیہ نے بھی عام تکفیر میں اختلاف کیا ہے ۔ اصل تکفیر میں یہ دونوں ایک دوسرے کے موافق ہیں ۔رہا تلوار کے استعمال کا مسئلہ ؛ تو زیدیہ اسے جائز سمجھتے ہیں ۔ اور امامیہ اسے جائز نہیں سمجھتے ۔علامہ اشعری فرماتے ہیں :

’’ رافضہ کا خروج کے باطل ہونے اور تلوار کے انکار پر اجماع ہے ‘بھلے انہیں قتل ہی کیوں نہ کردیا جائے۔یہاں تک کہ ان کا امام ظاہر ہوجائے اوروہ انہیں کسی بھی بات کا حکم دے ۔‘‘

میں کہتا ہوں : یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ کفار کے ساتھ جہاد نہیں کرتے ۔اور نہ ہی اہل سنت والجماعت حکمرانوں کی قیادت میں جہاد کرتے ہیں ؛ سوائے اس حکمران کے زیر سایہ قتال کرتے ہیں جو ان کے مذہب پر چلتا ہو۔ اس سے ظاہر ہوگیا کہ اصول عقائد میں مباینہ اور اشتراک رافضہ اور دوسرے فرقوں کے مابین مشترکہ قدر ہے۔

ساتویں وجہ:....ان سے کہا جائے گا: ان کا تمام مذاہب سے جدا ہونا ان کے قول کی صحت سے بڑھ کر اس کے فساد پر دلالت کرتا ہے ۔ اس لیے کہ محض کسی گروہ کا دوسرے گروہوں سے جدا ہونا ان کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ اور کسی قول میں ان کا مشترک ہونا بھی ان کے باطل ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔

[تہتر فرقے؟]:

[اعتراض]: ....اگر کوئی کہے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے تہتر فرقے بتائے ہیں ۔یہ تمام فرقے جہنمی ہوں گے سوائے ایک فرقہ کے۔تو یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ اس ایک فرقہ کا باقی تمام بہتر فرقوں سے جدا ہونا ضروری ہے ۔ 

[جواب]:....ہم کہتے ہیں : ہاں ؛ ایسے ہی یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ بہتر فرقے آپس میں ایک دوسرے سے جدا ہوں ۔ جیسے ایک ناجی فرقہ ان سے جدا ہوگا۔ اس حدیث میں کہیں بھی یہ دلالت نہیں ہے کہ یہ بہتر فرقے اصول و عقائد میں مشترک ہوں گے۔ بلکہ ظاہر حدیث دلالت کرتی ہے کہ یہ تمام تہتر فرقے ایک دوسرے سے جداجدا ہوں گے۔یہ بھی سبھی جانتے ہیں کہ آپس میں افتراق و تفرقہ قابل مذمت ہے ؛ قابل مدح نہیں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے یک جا ہونے اور جماعت بندی کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اور فرقہ بندی کی مذمت کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا ﴾ [آل عمران۱۰۳]

’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہواور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَ ہُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌo یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْہُہُمْ اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَo﴾ [آل عمران۱۰۵۔۱۰۶]

’’ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا ان لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے۔جس دن بعض چہرے سفید ہونگے اور بعض سیاہ؛سیاہ چہروںوالوں (سے کہا جائے گا ) کہ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو۔‘‘

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

’’ جن لوگوں کے چہرے سفید ہوں گے وہ اہل سنت والجماعت ہیں ۔اور جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے وہ اہل بدعت اور فرقہ پرست لوگ ہیں ۔‘‘[ الدر المنثور:۲؍۶۳]

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

صفحہ 6 از 11