فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ -…

فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 11

اگرجدا ہونے سے شیعہ مصنف کی مراد یہ ہے کہ اپنے مخصوص مسائل میں باقی فرقوں سے جدا ہیں ؛ تو تمام فرقوں میں یہ چیز پائی جاتی ہے [اس میں شیعہ کی کوئی خصوصیت نہیں ]۔اس لیے کہ خوارج بھی اپنے مخصوص مسائل میں باقی تمام فرقوں سے جدا ہیں جیسے کہ وہ کبیرہ گناہوں کی وجہ سے تکفیر کرتے ہیں ؛ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر کفر کا فتوی لگاتے ہیں ؛ اورجس چیز کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ دی گئی ہو ‘ اس میں رسول کی اطاعت کو ساقط شمار کرتے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے حکم ؛ تقسیم اور دیگر امور میں ظلم کو جائز کہتے ہیں ۔ اور ان متواتر سنتوں کو نہیں مانتے جو ان کے خیال میں ظاہر قرآن کے مخالف ہیں ؛ جیسے : چور کا ہاتھ کلائی سے کاٹنا ؛ اوراس طرح کے دیگر امور ۔

علامہ اشعری رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’ المقالات ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’ خوارج کا اجماع ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تحکیم کے قضیہ کے بعد کافر ہوگئے تھے ۔ مگر اس بابت ان کا اختلاف ہے کہ کیا آپ کا کفر شرک بھی تھا یا نہیں ؟ نجدات کے علاوہ باقی تمام خوارج کا اتفاق ہے کہ ہر کبیرہ گناہ کفر ہے ۔نجدات کبیرہ گناہوں کو کفر نہیں کہتے ۔اور ایسے ہی نجدات کے علاوہ باقی تمام خوارج کا اجماع ہے کہ کبیرہ گناہ کے مرتکب کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کا عذاب دے گا۔ 

ایسے ہی معتزلہ بھی اپنے مخصوص مسائل میں باقی تمام فرقوں سے جدا ہیں ۔مثال کے طور پر وہ دو منزلوں کے درمیان میں ایک منزل کاعقیدہ رکھتے ہیں ؛اورکہتے ہیں کہ:’’ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا۔‘‘کیونکہ یہ لوگ نہ ہی مؤمن ہیں اورنہ ہی کافر۔یہی وہ قول ہے جو اصل میں معتزلہ کا عقیدہ تھا؛اور بعد میں ان سے زیدیہ نے لیا۔

ایسے ہی سنت اوراہل سنت والجماعت کی طرف منسوب لوگوں میں سے بھی ہر ایک جماعت اپنے مخصوص مسائل میں دوسری جماعت سے جدا ہے۔ کلابیہ اپنے اس قول میں تمام لوگوں سے جدا ہیں کہ : کلام کا ایک ہی معنی ہے ؛ یا متعدد معانی ہیں ؛ یا تین چار معانی ہیں جو کہ متکلم کی ذات کے ساتھ قائم ہوتے ہیں ۔اس سے مراد امر و نہی اور خبر ہیں ۔اگر اسے عربی میں تعبیر کیا جائے تو اس سے مراد قرآن ہے ؛ اور اگر اسے عبری زبان میں تعبیر کیا جائے تو اس سے مراد تورات ہے ۔ یہ بات باقی فرقوں میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کہی۔کرامیہ اپنے مخصوص عقیدہ میں باقی تمام لوگوں سے جدا ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ : ایمان صرف زبان سے اقرار کا نام ہے۔ پس جو کوئی اپنی زبان سے اقرار کرے وہ مؤمن ہوجاتا ہے۔اگرچہ وہ اپنے دل سے اس کو نہ بھی مانتا ہو۔ پس ایسا انسان مؤمن ہوگا لیکن ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا۔ یہ بات کرامیہ کے علاوہ کسی نے نہیں کہی ۔

بلکہ اہل سنت والجماعت کے مشہور اہل علم گروہوں میں سے ہر ایک گروہ کے کچھ ایسے اقوال بھی ہیں جن پر دوسرے گروہ کسی طرح بھی ان کی موافقت نہیں کرتے ۔ امام ابو حنیفہ ؛ امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ میں ہر ایک کے کوئی ایسے منفرد مسائل ہیں جن میں وہ دوسرے تینوں ائمہ سے جدا ہے ۔

اگر شیعہ مصنف کی مراد یہ ہو کہ : امامیہ اپنے تمام مسائل میں باقی فرقوں سے جدا ہیں ؛ تو ایسا کہنا صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ امامیہ توحید میں معتزلہ کے ہم نوا اورموافق ہیں ۔ ان کے پرانے لوگ مجسمہ کے عقیدہ پر تھے۔ایسے ہی تقدیر کے مسائل میں بھی امامیہ معتزلہ سے موافقت رکھتے ہیں ۔ ان کے پرانے لوگوں میں سے بہت سارے تقدیر کونہیں مانتے تھے۔ان کے قدماء میں انکار تقدیر کا مسئلہ انکار صفات ربانی سے زیادہ مشہور تھا۔

ایسے ہی جہنمیوں کو جہنم سے نکالے جانے اور اہل کبائر کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے معافی اور مغفرت کے بارے میں ان کے دو قول ہیں ۔ ان کے متاخرین اس مسئلہ میں وقفیہ کی موافقت رکھتے ہیں ۔ وقفیہ کہتے ہیں : ہمیں پتہ نہیں کیا اہل قبلہ میں سے کوئی ایک جہنم میں داخل ہوگا یا نہیں ؟ وقفیہ اصل میں اشعریہ کا ایک گروہ ہیں ۔ اگرچہ وہ یہ بھی کہتے ہیں : ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ بہت سارے اہل کبائر جہنم میں داخل ہوں گے ۔ جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔

جملہ طور پر ان کے کچھ خاص اقوال و عقائد ہیں ۔اور کچھ ایسے اقوال ہیں جن میں دوسرے لوگ ان کے ساتھ شریک ہیں ۔ یہی حال معتزلہ اور خوارج کا بھی ہے ۔ جب کہ اہل حدیث اہل سنت و الجماعت ان کی خصوصیت کتاب و سنت کی اتباع اور اصول وفروع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ سنت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقہ کار کی اتباع ہے۔ بخلاف خوارج ‘ معتزلہ اور روافض کے۔جو کوئی بعض اقوال میں ان کی اتباع کرے گا ؛ اسے یاد رکھنا چاہیے کہ یہ فرقے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثقہ راویوں کی اسناد سے ثابت شدہ احادیث پر عمل نہیں کرتے ۔

معتزلہ کہتے ہیں : یہ اخبار احاد ہیں ۔رافضہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پراور ان سے روایات نقل کرنے والے علماء پر طعن کرتے ہیں ۔ اس سے مقصود باطنی طور پر رسالت محمدی پر طعنہ زنی کرنی ہوتی ہے۔خوارج میں سے کوئی کہنے والا کہتا : اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ’’عدل سے کام لیجئے۔بیشک آپ عدل نہیں کررہے ۔‘‘ یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ظلم کو جائز کہتے ہیں ۔اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلے شخص کے لیے فرمایا تھا:

’’ تیری خرابی ہو جب میں عدل نہ کروں تو اور کون عدل کریگا؟اگرمیں نے عدل نہ کیا تو تو ناکام و نامراد ہوگیا ۔‘‘[البخارِیِ:۴؍۲۰۰ِ؛کتاب المناقِبِ، باب علاماتِ النبوۃِ، مسلِم:۲؍۷۴۴؛کتاب الزکاۃِ، باب ذکِرِ الخوارِجِ وصِفاتِہِم، المسندِ الحلبِی :۳؍۶۵، وانظر:سنن ابنِ ماجہ:۱؍۶۰؛المقدِمۃ،باب مِن ذِکرِ الخوارِج،جامِع الأصولِ لِابنِ الأثِیرِ:۱۰؍۴۳۶۔]یہ لوگ جاہل ہیں جو اپنی جہالت کی وجہ سے سنت سے بہت دور ہوگئے ہیں ۔ جب کہ رافضہ کی بنیاد نفاق کی بدعت پر قائم ہے۔اس وجہ سے ان میں وہ زندیقیت پائی جاتی ہے جو خوارج میں بھی نہیں پائی جاتی۔علامہ ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ ’’ المقالات ‘‘ میں فرماتے ہیں : 

صفحہ 5 از 11