فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ -…

فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 11

بعض لوگوں کا قول ہے کہ نصیر الدین طوسی اپنی زندگی کے آخری دور میں بہت بدل گیا تھا اور پابندی سے نماز پڑھنے لگا تھا، وہ مشہور محدث و فقیہ امام بغوی کی تفسیر قرآن اور فقہ کا مطالعہ بھی کیا کرتا تھا۔[اگر طوسی کی زندگی میں انقلاب و اصلاح کی یہ خبر درست ہے تو اسے چاہئے تھا کہ وہ ان کفریات سے اعلانیہ توبہ کرتا جن سے اس کی کتاب زندگی لبریز ہے۔ اس نے تازیست اعلانیہ جس کفر اور اﷲ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم نیز مسلمانوں کے خلاف جس خیانت کاری کا ارتکاب کیا اس سے خاموشی کے ساتھ تائب ہوجانا کمال توبہ کی دلیل نہیں ۔اور اگر اس کے سوا اس کا اور کوئی گناہ نہ ہوتا کہ اس نے ابن المطہر جیسے غالی شیعہ کے دلوں کو عداوت و بغض صحابہ سے بھر دیا تو لازم تھا کہ وہ اعلانیہ اپنی توبہ کا اس طرح اظہار کرتا جو ابن المطہر جیسے لوگوں پر ایک واضح حجت ہوتا۔]

اگر اس نے واقعی اپنے الحاد سے توبہ کرلی تھی تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتاہے اور ان کے گناہ معاف کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ﴾ (الزمر:۵۳)

’’فرما دیجیے: اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ، بیشک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتاہے۔‘‘

لیکن جو کچھ اس کے بارے میں نقل کیا گیا ہے ؛ اگر یہ توبہ سے پہلے کاہے‘ تو اس کا قول قبول نہیں کیا جاسکتا ۔ اور اگر یہ توبہ کے بعد کے واقعات ہیں تو پھر اس نے رافضیت سے سچی توبہ نہیں کی تھی۔بلکہ ممکن ہے صرف الحاد سے توبہ کی ہو [اور رافضیت پر باقی رہا ہو]۔ہر دو صورتوں میں اس کی بات ناقابل قبول ہے۔

ظاہر بات تو یہ ہے کہ یہ مغل بادشاہ کا نجومی تھا ؛ اور اہل الحادو مشرکین کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ [اس کی توبہ کی روایت کے کوئی ثقہ راوی نہیں مل سکے ]۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ جو انسان حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان اور ان کے علاوہ دیگر سابقین اولین مہاجرین وانصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جرح و قدح کرتا ہے؛ امام مالک ؛ شافعی ؛ ابو حنیفہ اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ جیسے لوگوں پراور ان کے ماننے والوں پر طعن و تشنیع کرتا ہے اور انہیں ان کی بعض غلطیوں کی وجہ سے عار دلاتا ہے ‘ جیسے شطرنج اور گانے کو مباح کہنا ۔ اسے کیسے یہ گوارا ہوگیا کہ وہ ان لوگوں کی باتیں بطور حجت کے پیش کرے جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ‘ اور نہ ہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں ۔نہ ہی اللہ کے دین حق کو قبول کرتے ہیں ۔اور ان حرام چیزوں کو حلال سمجھتے ہیں جنہیں حرام کہنے پر پوری امت کااتفاق ہے ؛ جیسے زنا کاری اور شراب نوشی ؛ اور پھر وہ بھی رمضان کے دنوں میں ؛ اور نمازیں ضائع کرنا ‘ شریعت محمدی میں نقب زنی کرنا ؛ محرمات دین کو حقیر سمجھنا؛ اورمؤمنین کی راہ چھوڑ کر مشرکین کی راہ اختیار کرنا۔

ان کے بارے میں یہی رائے درست ہے؛ جیسا کہ کہا گیا ہے:

الدین یشکو بلیّۃ من فرقۃ فلسفیۃ

لا یشہدون صلاۃ إلا لأجل التقیۃ

ولا تری الشرع إلا سیاسۃ مدنیۃ

ویؤثرون علیہ مناہجاً فلسفیۃ 

روافض کا ہمیشہ یہی حال رہا ہے ۔ یہ لوگ ہمیشہ سے اولیاء اور پرہیز گار و پارسا لوگوں صحابہ کرام مہاجرین و انصار اور سابقین اولین رضی اللہ عنہم کے دشمن رہے ہیں ۔ اور کفار ومنافقین سے ان کی دوستی رہی ہے۔اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرنے والوں میں سب سے بڑے منافق ملحد باطنی اسماعیلیہ ہیں ۔پس جو کوئی اپنے قول کی تائید میں ان کے اقوال بطور حجت کے پیش کرے ؛ حالانکہ وہ اس سے پہلے ائمہ اسلام پر طعنہ زنی کرچکا ہے ؛ تو ایسا انسان لوگوں میں سب سے بڑھ کر اہل نفاق سے دوستی رکھنے والا اور اہل ایمان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔

طوسی کے متعلق ابن المطہر کی رائے:

مقام حیرت و استعجاب ہے کہ یہ خبیث کذاب رافضی (ابن المطہر) جب سابقین اولین خلفاء راشدین ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم اور تابعین کرام اور دیگر ائمہ مسلمین اہل علم ودیندار لوگوں کا ذکر کرتا ہے تو ان کے خلاف من گھڑت کذب و دروغ کا طوفان کھڑا کر دیتا ہے۔ اور جب اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اعلان جنگ کرنے والے طوسی کا تذکرہ چھیڑتا ہے، تو اسے’’شَیْخُنَا الْاَعْظَمْ‘‘ اور قَدَّسَ اللّٰہُ رُوْحَہٗ ‘‘ کے الفاظ سے یاد کرتا ہے۔ اور اس پر طرہ یہ کہ پھر اسی شیخ الاعظم اور اس کے امثال پر کفر کا فتوی بھی لگاتا ہے۔ اور اگلے اور پچھلے دور کے بہترین اہل ایمان پر لعنت بھی کرتا ہے ۔ یہ لوگ دراصل مذکورہ ذیل آیت قرآنی کے مصداق ہیں :

﴿اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ھٰٓؤُلَآئِ اَہْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا٭اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِِدَ لَہٗ نَصِیْرًا ﴾ (النساء: ۵۱۔۵۲)

’’کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ ملا ہے؟ جو بت پرستی کا اور باطل معبود کا اعتقاد رکھتے ہیں اور کافروں کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیادہ راہ راست پر ہیں ۔یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ لعنت کر دے تو آپ اس کا کوئی مددگار نہ پائیں گے۔‘‘

بیشک امامیہ فرقہ والوں کو کتاب اللہ کے بعض اجزاء پر ایمان رکھنے کی وجہ سے کتاب کا کچھ حصہ دیا گیاہے ۔ اور ان میں طاغوت پر ایمان اور جادو گری کے شعبے بھی پائے جاتے ہیں ۔اللہ کے علاوہ جس کی بھی بندگی کی جائے اس کوطاغوت کہتے ہیں ۔ یہ لوگ فلسفہ کی تعظیم کرتے ہیں اور مردوں کوپکارتے اور ان کی عبادت کرتے ہیں ۔قبروں پر درگاہیں تعمیر کرتے ہیں ۔ قبروں کی زیارت کے سفر کو حج سے تعبیر کرتے ہیں ؛ انہوں نے کتابیں تحریر کی ہیں : ’’درگاہوں کے حج کے ارکان ۔‘‘

صفحہ 2 از 11