فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ -…

فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 11

[تیسرا فرقہ :] ....روافض میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کہتے ہیں : جعفربن محمد مر گیا ہے ؛ اور اس کے بعد اس کا بیٹا اسماعیل امام بنا ہے۔یہ انکار کرتے ہیں کہ اسماعیل کا انتقال اس کے والد کی زندگی میں نہیں ہوا۔

اس اسماعیل کے متعلق کہتے ہیں : اس کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک زمین میں بادشاہ نہ بن جائے۔ اس لیے کہ اس کے باپ نے بتایا ہے کہ اس کا وصی اور اس کے بعد امام اس کایہی بیٹا اسماعیل ہوگا۔

[چوتھا فرقہ: قرامطہ]:....رافضہ میں سے ایک گروہ قرامطہ کا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جعفر تک امامت منصوص چلتی آئی ہے ۔ جیسا کہ اثنی عشریہ کا عقیدہ ہے ۔اور جعفر نے اپنے بعد اپنے پوتے محمد بن اسماعیل کو اپنا جانشین اور وصی [امام ] بنایا تھا۔ اور ان لوگوں کاعقیدہ ہے کہ محمد بن اسماعیل آج کے دن تک زندہ ہے۔ابھی تک اس کاانتقال نہیں ہوا ۔ اور اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک وہ زمین کا مالک نہ بن جائے ۔ اور یہی وہ مہدی ہے جسکے متعلق احادیث میں بشارت دی گئی ہے۔ اس بارے میں انہوں نے اپنے اسلاف سے نقل کردہ روایات سے استدلال کیا ہے۔ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ : ساتواں امام ہی قائم [یعنی مہدی ]ہوگا ۔ انہیں سبعیہ کہا جاتا ہے۔ جیسے دوسرے فرقہ کو اثنا عشریہ کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں کے متعلق چوتھی صدی ہجری میں مغرب اور قاہرہ میں انکے غالب آنے سے پہلے عقائد و ملل پر لکھنے والے علماء کرام نے اپنی کتابوں میں تفصیل لکھی ہے۔ اس لیے کہ چوتھی صدی ہجری کے بعد ان میں ایسی نئی نئی باتیں پیدا ہوگئیں جن کے ذکر کا یہ موقع نہیں ۔ اس کے بعد ان لوگوں میں وہ الحاد اور زندیقیت پیدا ہوگئی جس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی؛ نہ غالی رافضیوں میں نہ دوسروں میں ۔

ان ملحدین کے کچھ بقایا بلاد ِ شام اورخراسان میں موجود تھے۔ابن سینا کے گھروالوں نے حاکم کے زمانے میں ان کی دعوت قبول کرلی تھی۔ یہی حال طوسی اور اس کے اعوان و انصار کا ہے ۔اور یہی حال سنان کا ہے۔

ان کے ذہین و شاطر لوگ اپنی جہالت و جھوٹ کو جانتے ہیں ۔ لیکن ان لوگوں کی خدمت گزاری کی وجہ سے انہیں وہ مقام و مرتبہ اور مال ملتا ہے اور اسباب شہوت میسر ہوتے ہیں ؛ جو اس کے بغیر ناممکن ہیں ۔یہ لو گ اپنے ان ماننے والوں کے ساتھ بھی ایسے ہی تعاون کرتے ہیں جیسے اپنے جیسے دوسرے جھوٹوں اور ظالموں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں تاکہ اپنا مطلب پورا کرسکیں ۔

رافضہ میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کہتے ہیں : امامت کا سلسلہ محمد بن اسماعیل کی اولاد میں جاری و ساری ہے ۔

دوسرا گروہ کہتا ہے : امامت کا سلسلہ محمد بن جعفر بن محمد کی اولاد میں جاری وساری ہے؛ محمد بن اسماعیل کی اولاد میں نہیں اور نہ ہی موسی بن جعفر کی اولاد میں ۔

تیسرا گروہ کہتا ہے : امامت کا سلسلہ عبداللہ بن جعفر کی اولاد میں جاری وساری ہے ۔ یہ عبد اللہ اپنے باپ کا بڑا بیٹا تھا۔ اس فرقہ والوں کو فطیحہ کہا جاتا ہے۔

[پانچواں فرقہ : ممطورہ]:....روافض میں سے ایک گروہ ایسا ہے جوکہ موسی بن جعفر بن محمد کو ان کے والد کے بعد امام مانتا ہے۔لیکن ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ : موسی بن جعفر کا انتقال نہیں ہوا ؛ بلکہ وہ زندہ ہے؛ اس وقت تک اس کا انتقال نہیں ہوگا جب تک وہ مشرق و مغرب کا بادشاہ نہ بن جائے۔ اس گروہ کانام واقفہ ہے۔کیونکہ یہ لوگ موسی بن جعفر تک پہنچ کر رک جاتے ہیں ۔اسے آگے کسی کو امام نہیں مانتے ۔ ان کو ممطورہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ جب یونس بن عبد الرحمن نے ان کے ساتھ مناظرہ کیا تھا؛توانہوں نے دوران مناظرہ ان سے کہا تھا : ’’ أنتم أہون علي من کلاب ممطورۃ‘‘

’’تم میرے نزدیک بارش میں بھیگے کتے سے بھی بڑھ کر گندے اور ذلیل ہو۔‘‘

اس کے بعد ان لوگوں کا یہی لقب پڑ گیا۔

[چھٹا فرقہ :وقفیہ ]: ....ان میں سے بعض لوگ جو موسی بن جعفر کے بارے میں توقف کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں :ہمیں پتہ نہیں کہ موسی بن جعفر کا انتقال ہوا ہے یا نہیں ؟

[ساتواں فرقہ :] ....اور ایک گروہ کہتا ہے : موسی بن جعفر نے اپنے بیٹے احمد کو امام مقرر کیا تھا۔

[آٹھواں فرقہ: اثنا عشریہ]:....اثنا عشریہ رافضہ کا ایک اور گروہ بھی ہے : وہ کہتے ہیں : اس کے بعد محمد بن حسن [العسکری ] امام بنے تھے ؛ جن کا انتظار کیا جارہا ہے ۔ یہی وہ آخری امام ہے جس کا ظہور ہوگا‘ اوروہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا اورظلم کاخاتمہ کردے گا۔ اس گروہ کو اثنا عشریہ [بارہ اماموں کے ماننے والے ] کہا جاتا ہے۔

یہ رافضیوں کا آپس میں اختلاف ہے جن کا دعوی ہے کہ خلافت وامامت نص سے ثابت ہے۔امت کے تمام گروہوں سے بڑھ کر ان لوگوں کا آپس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں یہ بات ہر گز نہیں ہوسکتی کہ رافضی وہ نجات پانے والا گروہ ہوں جس کے متعلق حدیث میں بشارت دی گئی ہے۔ اس لیے کہ نجات یافتہ گروہ کو کم از کم اصول دین اور عقائد میں متفق ہونا چاہیے؛ جیسے اہل سنت و الجماعت اصول دین میں متفق ہیں ۔

صفحہ 10 از 11