فصل: ....بعض فقہی مسائل پر شیعہ کی تشنیع - ردِ رافضیت |…

فصل: ....بعض فقہی مسائل پر شیعہ کی تشنیع

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 9

[جواب] : یہ ائمہ اربعہ پر جھوٹ ہے ۔اس لیے کہ ائمہ اربعہ کا ساز و باجے اور آلات لہو لعب کے حرام ہونے پر اتفاق ہے ؛اگر کسی نے ان میں سے کوئی چیز ضائع کردی تو اس تلف کرنے والے پر کوئی تاوان نہیں ہو گا ؛ بلکہ ائمہ اربعہ کے ہاں ان چیزوں کا رکھنا بھی حرام ہے ۔ لیکن کیا وہ اس کے مادہ کا تاوان ادا کرے گا۔ اس بارے میں ان کے دو مشہور قول ہیں ؛جیسا کہ اگر کوئی شراب کے برتن تلف کردے ؛ اور اس کے ساتھ ہی شراب بنانے کے مادہ کو بھی تلف کردیا توایک قول کے مطابق اس پر کوئی تاوان نہیں ہوگا؛جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب ہے ۔ اور امام احمد رحمہ اللہ سے دو مشہورروایتوں میں سے ایک یہی ہے ۔ جیساکہ حضرت موسی علیہ السلام نے اس بچھڑے کو تلف کردیا تھا جسے سونے سے بنایا گیا تھا۔ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو وہ رنگے ہوئے دوکپڑے جلانے کا حکم دیا ؛ جوکہ آپ پہنے ہوئے تھے۔‘‘[تفسیر ابن کثیر ۵؍۳۴۲۔مسلم ۳؍۱۶۴۷۔کتاب اللِباسِ والزِینۃِ، باب النہیِ عن لبسِ الرجلِ الثوب المعصفر، ونصّٗہ: رأی النبِی صلی اللّٰہ علیہ و سلم علی ثوبینِ معصفرینِ، فقال: أأمک أمرتک بِہذا؟ قلت: غسِلہما؟ قال: بلِ احرقہما۔ قال المحقِق فِی شرحِہِ: معصفرینِ: أی مصبوغینِ بِعصفر، والعصفر صبغ أصفر اللونِ۔]

جیساکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے موقع پرپہلے وہ ہانڈیاں توڑنے کا حکم دیا تھا جن میں گدھے کا گوشت پکا ہوا تھا۔پھر ان کے لیے ہانڈیوں میں موجود سالن وغیرہ گرانے کی اجازت دے دی۔[البخاری:۵؍۱۳۰؛ ِکتاب المغازِی، باب غزوِۃ خیبر، وہو حدِیث طوِیل عن غزوۃِ خیبر، وفِیہِ: فقال النبِی صلی اللّٰہ علیہ وسلم :’’ ما ہذِہِ النِیران؟ علی أیِ شیء توقِدون؟ قالوا: علی لحم۔ قال: عل أیِّ لحم؟ قالوا: علی لحمِ حمرِ الإِنسِیِ۔ قال النبِی صلی اللّٰہ علیہ وسلم : أہرِیقوہا واکسِروہا۔ فقال رجل: أو نہرِیقہا و نغسِلہا۔قال: أو ذاک۔ والحدِیث فِی: البخارِیِ:۳؍۱۳۶، کتاب المظالِمِ، باب ہل تکسر الدِنان التِی فِیہا الخمر، مسلِم:۳؍۱۴۲۷؛کتاب الجِہادِ والسِیرِ، باب غزوۃِ خیبر ۔ سننِ ابنِ ماجہ:۲؍۱۰۶۵، کتاب الذبائِحِ،باب لحومِ الحمرِ الوحشِیۃ۔]

تو حدیث دونوں باتوں کے جواز پر دلالت کرتی ہے ۔ اورشراب حرام ہونے کے موقع پر آپ نے وہ ڈول توڑنے اور مشکیں پھاڑنے کا حکم دیدیا تھا جن میں شراب ہوتی تھی اور حضرت عمر بن خطاب اور حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما نے وہ گھر جلانے کا حکم دیدیا تھا جہاں پر شراب فروخت ہوتی تھی۔

جو اس کو جائز نہیں کہتے : جیسے اصحابِ امام ابو حنیفہ؛ امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ اپنے ایک قول میں ۔

ان لوگوں کا کہنا ہے : یہ مالی عقوبات ہیں جو کہ منسوخ ہوچکی ہیں ۔جب کہ پہلے قول والے لوگ کہتے ہیں : ان میں سے کچھ بھی منسوخ نہیں ہوا۔ اس لیے کہ نسخ صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے جب بعد والی نص پہلی نص سے متعارض ہو۔اس طرح کی کوئی چیز شریعت میں وارد نہیں ہوئی۔بلکہ مالی عقوبات بھی بدنی عقوبات کی طرح ہیں جنہیں مشروع طور پر استعمال میں لایا جاتا ہے۔ بلکہ مالی عقوبات نافذکرنا بدنی عقوبات کی نسبت زیادہ اہم و اولی ہیں ۔اس لیے کہ جان یا کسی انسانی عضو کا ضائع ہوجانا مال کے ضائع ہونے سے زیادہ خطرناک اور برا ہے۔ جب بدنی عقوبات و سزائیں بھی شریعت نے مقرر کی ہوئی ہیں تو پھر مالی عقوبات اور سزائیں بالاولی مشروع ہیں۔

ایسے ہی علمائے کرام کے مابین قصاص ِ اموال کے بارے میں اختلاف واقع ہوا ہے۔جب کوئی انسان کسی کی قمیض پھاڑ دے تو کیا وہ بھی قصاص میں اس کی قمیض اتنی ہی مقدار میں پھاڑ دے ؟ اس بارے میں امام احمد رحمہ اللہ کے دو قول ہیں :

پس جس نے یہ کہا ہے : ایسا کرنا جائز نہیں ؛ ان کا مقصدیہ ہے کہ : ایسا کرنے میں فساد ہے ۔ اور جس نے کہا ہے :ایسا کرنا جائز ہے ؛ تو اس نے جواب دیا ہے کہ انسانی جان یاعضو کو قصاص میں ختم کرنے میں اس سے بڑا فساد ہے ؛ مگر ایسا کرنا بطور عدل اور قصاص کے جائز ہے۔کیونکہ ایسا کرنے سے لوگوں کو ظلم و سرکشی سے روکا جاتا ہے ؛ اور مظلوم کے دل کے لیے تسلی کا سامان ہے ۔ جو اس کو ناجائز کہتے ہیں ان کاکہنا ہے کہ : اگر جان کے بدلے جان کی قصاص مشروع نہ ہوتی تو لوگ قتل کرنے سے نہ رکتے ۔ اس لیے کہ قاتل کو علم ہوتا کہ جب وہ قتل کرے گا تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا‘ بلکہ وہ دیت ادا کردے گا؛ تو اس طرح وہ قتل کا ارتکاب کرکے دیت ادا کردیتا ؛ بخلاف اموال کے ۔جبکہ اموال تلف کرنے والے سے اس مال کی طرح کا مال لیا جاسکتا ہے۔ پس اس سے قصاص اور تنبیہ حاصل ہوجاتے ہیں ۔جب کہ مال کو ضائع کردینے میں کوئی حکمت نہیں ؛ اس لیے کہ جس کا مال ضائع ہوا ہے وہ اس کا ضرورت مند ہے۔اورقصاص کی صورت میں مال بھی ضائع ہوجاتا ہے اور اس کا عوض بھی۔ اس میں مظلوم کی تسلی کے بجائے مزید غصہ کا سامان ہے ۔ ہاں اگر یہ صورت حال ہو کہ اس سے قصاص اس کا مال تلف کیے بغیر لینا نا ممکن ہو توپھر اس کا جواز صاف ظاہر ہے۔اس لیے قصاص لینا عدل ہے اور برائی کا بدلہ اس جیسی برائی سے دیا جاسکتا ہے۔پس جب کوئی انسان کسی کا مال ضائع کردے ؛ اور اس کا مال تلف کیے بغیر اس سے قصاص لینا نا ممکن ہو تو پھر ایسا کرنا جائز ہوجاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ علماء کرام کفار کے درخت اور ان کی کھیتی باڑی ضائع کرنے پر متفق ہیں ؛ لیکن یہ اس صورت میں ہوگا جب وہ ہمارے ساتھ ایسا کریں ۔ یا جب کفار پر غلبہ حاصل کرنا اس کے بغیر ممکن نہ ہو۔ اور اس کے بغیر اگر غلبہ ممکن ہو تو پھر کھیتی باڑی ضائع کرنے کے جواز کے بارے میں اختلاف بڑا مشہور ہے۔ امام ا حمد رحمہ اللہ سے اس مسئلہ میں دو روایتیں ہیں ‘اور امام شافعی رحمہ اللہ اور دوسرے لوگ اسے جائز کہتے ہیں ۔

صفحہ 8 از 9