فصل: ....بعض فقہی مسائل پر شیعہ کی تشنیع - ردِ رافضیت |…

فصل: ....بعض فقہی مسائل پر شیعہ کی تشنیع

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 9

اس سے واضح ہوگیا کہ اہل سنت والجماعت کا ہر گروہ ہر حال میں شیعہ سے بہتر ہے۔اس لیے کہ شیعہ مذہب میں جس کثرت سے جھوٹ ‘ تکذیب حق ؛ کثرت جہالت ؛ محال امور کی تصدیق ؛ قلت ِ عقل ؛ غلو ؛ اتباع ہوی؛ مجہولات سے تعلق [اور اس طرح کے دیگر مذموم امور ] پائے جاتے ہیں ‘ اس کی مثال کسی دوسرے فرقہ میں نہیں ملتی ۔ رہ گیا غلاموں سے لواطت کے جواز کے بارے میں شیعہ کا بیان؛ تو وہ صریح جھوٹ ہے، علماء اہل سنت میں سے یہ کسی کا قول نہیں ۔میرا خیال ہے کہ شیعہ کا مقصد امام مالک رحمہ اللہ پر طعنہ زنی کرنا ہے ۔ اس لیے ہم نے دیکھاہے بعض جہلاء نے امام مالک رحمہ اللہ کی طرف ایک ایسی روایت منسوب کی ہے۔اس کی اصل عورتوں کے ادبار کے بارے میں ہے۔اہل مدینہ کاایک گروہ اسے مباح سمجھتا تھا۔جب امام مالک سے اس بارے میں دو قول نقل کیے گئے تو جاہل نے یہ سمجھا کہ آپ نے غلاموں کے ساتھ لواطت کو مباح قرار دیاہے۔یہ بہت بڑی غلطی ہے ۔ کوئی ادنی انسان بھی ایسی بات نہیں کہہ سکتا تو پھر امام مالک رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر اور صاحب شرف و منزلت عالم کے متعلق کیسے یہ تصور کیا جاسکتا ہے ؟جب کہ آپ کے مذہب میں انسداد فواحش اور احکام سد ذرائع بکمال موجود ہیں ۔اور یہ مذہب حدود قائم کرنے کے بارے میں سب سے زیادہ حریص ہے۔ منکرات اور بدعات کے انکار میں سب سے آگے ہے۔[وقال ابن قدامۃ فِی المغنِی:۹؍۳۱واختلفتِ الرِوایۃ عن أحمد رحِمہ اللہ فِی حدِہِ حد اللِواطِ فروِی عنہ أن حدہ الرجم بِکرا کان أو ثیِبا، وہذا قول علِی وابنِ عباس وجابِرِ بنِ زید وعبدِ اللہِ بنِ معمر والزہرِیِ وأبِی حبِیب وربِیع ومالکِ۔ ]

امام مالک رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ بالاتفاق کہتے ہیں کہ:’’ غلاموں سے لواطت کو حلال قرار دینے والا کافر ہے۔‘‘یہ قول تمام ائمہ مسلمین کا ہے۔لواطت کو حلال سمجھنے والا ایسے ہی ہے جیسے اپنی رضاعی بیٹی یا رضاعی بہن سے وطی کو حلال سمجھنے والا؛یا پھر جو اپنے باپ یا بیٹے کی بیوی سے جماع کوحلال سمجھتا ہو۔ پس رضاعی بیٹی یاایسی مملوکہ جس نے اس سے دودھ پیا ہو‘ یا رضاعت اور سسرالی تعلق کی وجہ نکاح باتفاق مسلمین مباح نہیں ہوتا۔ پس اس کا غلام بالاولی اس حرمت کا زیادہ مستحق ہے۔ اس لیے کہ یہ جنس نہ ہی نکاح سے حلال ہوسکتی ہے او رنہ ہی ملک یمین سے ؛ بخلاف عورتوں کی جنس کے۔

امام مالک اورعلماء اہل مدینہ رحمہم اللہ کا مذہب یہ ہے کہ لوطی کو رجم کرکے قتل کیا جائے۔ خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ۔ خواہ وہ اپنے غلام سے لونڈے بازی کرے یا کسی دوسرے سے ۔ ان علماء کرام رحمہم اللہ کے ہاں فاعل اور مفعول دونوں کے لیے قتل کیے جانے کا حکم ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردو۔‘‘[سننِ بِی داود:۴؍۲۲۰؛ کتاب الحدودِ، باب فِیمن عمِل عمل قومِ لوط، ونصہ فِیہِ: قال: قال رسول اللہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من وجدتموہ یعمل عمل قومِ لوط فاقتلوا الفاعِل والمفعول بِہ۔ وجاء الحدِیث أیضا فِی: سننِ التِرمِذِیِ ؛ کتاب الحدودِ، باب ما جاء فِی حدِ اللوطِی۔ سننِ ابنِ ماجہ:۲؍۸۵۶؛ کِتاب الحدودِ،باب من عمِل عمل قومِ لوط۔ وقال الشیخ أحمد شاِکر رحِمہ اللّٰہ: ِإسنادہ صحِیح۔]

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مذہب میں بھی یہی حکم ہے ؛ اور امام شافعی کا بھی ایک قول یہی ہے۔پس جس کا مذہب یہ ہو کہ لواطت زنا سے زیادہ سخت اور بری چیز ہے توپھر اس سے کیسے یہ حکایت نقل کی جاسکتی ہے کہ اس نے لواطت کو مباح قرار دیا ہے ؟ ۔ ایسے ہی آپ کے علاوہ بھی کسی دوسرے عالم نے اس عمل کو مباح نہیں کہا۔بلکہ ان سب کا اس فعل کے حرام ہونے پر اتفاق ہے ۔ لیکن بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ علماء کرام کا ان کے حرام ہونے پر اتفاق ہوتا ہے ؛ مگر اس کا ارتکاب کرنے والے پر حد قائم کرنے کے بارے میں ان کے مابین اختلاف ہوتا ہے کہ کیا اس پر حد لگائی جائے ؟ یا پھر اسے تعزیر سے سزا دی جائے جوکہ حد سے کم ہو؛ جیسے کوئی اپنی ایسی مملوکہ سے وطی کردے جو اس کی رضاعی بیٹی بھی ہو؟ ۔

[شطرنج ‘گانے اور ساز کی اباحت کا الزام]:

[الزام]:[شیعہ مصنف نے کہا ہے : اہل سنت کے ہاں ] ’’شطرنج باجے گاجے اور ساز وغیرہ اسباب غفلت مباح ہیں ۔‘‘

[جواب] : جمہور علماء کرام رحمہم اللہ کے مذہب میں شطرنج حرام ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ آپ کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو شطرنج کھیل رہے تھے؛ تو آپ نے فرمایا : ’’یہ کیا مورتیاں ہیں جن پر تم جم کر بیٹھے ہو؟‘‘ 

ایسے ہی حضرت ابو موسیٰ؛ ابن عباس ؛ ابن عمر ؛ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کی ممانعت منقول ہے ۔ لیکن اس بارے میں ان کا اختلاف ہے کہ : ان میں سے کس کی حرمت زیادہ ہے شطرنج کی یا نرد کی ؟ امام مالک رحمہ اللہ شطرنج کو نردسے زیادہ سخت حرام سمجھتے ہیں ۔ یہی بات ابن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ اس لیے کہ شطرنج دل کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے مشغول کردیتا ہے۔اور نرد سے بڑھ کر نماز اورذکر الٰہی میں غفلت کا سبب بنتا ہے ۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک نرد کی حرمت شطرنج سے بڑھ کر ہے ۔جب کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی شطرنج کو حلال نہیں کہا؛ لیکن آپ نے یہ کہا ہے: ’’ نرد حرام ہے اور شطرنج اس سے کم درجہ کا ہے۔اور میرے لیے شرح صدر نہیں ہورہی کہ کیا یہ بھی حرام ہے؛ توآپ نے اسے حرام کہنے میں توقف کیا ہے ۔جب کہ اس بارے میں آپ کے اصحاب کے دو قول ہیں ۔اگر تحلیل کا قول راجح ہو تو پھر بھی اس میں کوئی ضرر نہیں ۔اور اگر تحریم کا قول راجح ہو تو پھر بھی یہی جمہور اہل سنت والجماعت کا قول ہے۔ پس دونوں صورتوں میں حق اہل سنت والجماعت سے باہر نہیں ۔

[گانے بجانے کی اباحت کی الزام اور اس پر ردّ]

[الزام]:[شیعہ مصنف کہتا ہے : اہل سنت کے ہاں ] ’’باجے گاجے اور ساز وغیرہ مباح ہیں ۔‘‘

صفحہ 7 از 9