فصل: ....بعض فقہی مسائل پر شیعہ کی تشنیع - ردِ رافضیت |…

فصل: ....بعض فقہی مسائل پر شیعہ کی تشنیع

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 9

خلاصہ کلام ! جن مسائل کا رافضی مصنف نے انکار کیا ہے ؛ وہ تمام کے تمام امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ۔سوائے زنا سے پیدا ہونے والی لڑکی کے ‘ کسی مسئلہ میں کوئی امام ان کے ساتھ ان مسائل میں شریک نہیں ؛ اس لڑکی کے مسئلہ میں امام شافعی رحمہ اللہ ان کے ہمنوا ہیں ۔

٭ اس شیعہ کو [بطور جواب یہ بھی] کہا جائے گا: ’’ شیعہ کہتے ہیں : ’’ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب باقی تینوں ائمہ کے مذاہب کی نسبت صحیح تر مذہب ہے ۔ اور تمہارا کہنا ہے کہ جب انسان کو بوجہ مجبوری مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک سے فتوی لینا پڑے تو اسے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب پر فتوی لینا چاہیے۔ اور شیعہ محمد بن الحسن کو امام ابو یوسف پر ترجیح دیتے ہیں ۔اس لیے کہ شیعہ حدیث و سنت سے نفرت کی وجہ سے ان لوگوں سے بھی نفرت رکھتے ہیں جو حدیث و سنت پر زیادہ پابند ہوں ۔‘‘

٭ جب بات ایسے ہی ہے؛ تو یہ مسائل جنہیں رافضی مصنف نے شمار کیا ہے ‘ یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب میں سے ہیں ۔ جب مذاہب اربعہ میں سے آپ کا قول ہی [شیعہ کے نزدیک] راجح ہے ؛ تو ان اقوال پر طعنہ زنی کرنا شیعہ مذہب میں تناقض کی دلیل ہے ۔کیونکہ شیعہ تو آپ کے قول کو راجح کہتے ہیں ‘ اور آپ کے مذہب کو باقی مذاہب پر فضیلت دیتے ہیں ۔ توپھر اس مذہب کی وہ کمزوریاں اور نقص بیان کرنا شروع کردیتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مذہب دوسرے مذاہب کی نسبت کمزور اور ناقص ہے ۔ شیعہ سے اس قسم کی تناقض کا وقوع پذیر ہونا کوئی بعید نہیں ہے ؛ اس لیے کہ یہ لوگ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے بلا علم اور بلا عدل تعریف بھی کرتے ہیں اور مذمت بھی کرتے ہیں ۔ اگر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہی راجح تھا تو خاص اس مذہب کے جن کمزور مسائل کا ذکر شیعہ مصنف نے کیا ہے ‘ جو کہ امام صاحب کے علاوہ کسی دوسرے کے مذہب میں نہیں پائے جاتے ؛ تو اس سے شیعہ کے اقوال کا تناقض ظاہر ہوگیا۔ اگر امام صاحب کا مذہب راجح نہیں تھا تو پھر اسے دوسرے مذاہب پر ترجیح دینا باطل تھا۔تو ہر صورت میں لازم آتا ہے کہ شیعہ باطل پر ہوں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیعہ خواہشات نفس کے مارے ہوئے جاہل لوگ ہوتے ہیں ؛یہ ہر موقع پر ایسی بات کرتے ہیں جو ان کی غرض و غایت کے مناسب ہو۔ بھلے وہ بات حق ہو یا باطل ۔

اس جگہ پر یہ اعتراض کرنے سے شیعہ مصنف کا مقصد تمام اہل سنت گروہوں کی مذمت کرنا تھا۔پس یہ لوگ ہرمذہب میں سے جس چیز کومذموم خیال کرتے ہیں ‘ اس کی مذمت کرنے لگ جاتے ہیں ۔بھلے وہ اس کے نقل کرنے میں سچے ہوں یا جھوٹے ۔اور بھلے وہ اپنی ذکر کردہ مذمت میں وہ حق پر ہوں یا باطل پر۔ اگرچہ خود شیعہ کے مذہب میں پائے جانے والے عیب دوسرے کسی بھی مذہب میں پائے جانے والے عیوب سے بڑھ کر ہیں ۔

[زانی کی گواہی اور دیگرمسائل]:

[اعتراض]:شیعہ کاکہنا ہے : اگر زانی گواہوں کو جھٹلا دے، تو اس پر حد لگائی جائیگی اور اگر ان کی تصدیق کر دے تو حد ساقط ہوجائے گی گویا مجرم کے اقرار جرم اور گواہوں کی گواہی کے باوجود اس پر حد نہیں لگائی جائے گی۔یہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو ختم کرنے کا ایک ذریعہ ہے کہ جس کسی پر بھی زنا کی گواہی دی جائے اور وہ گواہوں کو جھٹلادے تو گواہی ساقط ہوگی۔‘‘ 

[جواب]: یہ قول بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال میں سے ہے۔ جمہورعلماء جیسے : امام مالک ؛ امام شافعی ؛ احمد بن حنبل وغیرہم رحمہم اللہ نے اس مسئلہ میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مخالفت بھی کی ہے ۔ 

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ جب مجرم اقرار کرلے گا تو شہادت کا حکم ساقط ہوجائے گا بشرطیکہ وہ چار مرتبہ اقرار کر لے۔ بخلاف ازیں جمہور کہتے ہیں کہ:’’ مجرم کے اقرار سے شہادت میں مزید پختگی پیدا ہوجاتی ہے؛ شہادت باطل نہیں ہو گی ۔اس لیے کہ اس کا اقرار گواہی کے موافق ہے ؛ اس کے مخالف نہیں ہے؛ اگرچہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے گواہوں کی تعداد چار سے بڑھ جائے۔یاجیسے کوئی چار بار سے زیادہ اقرار کرلے ۔

خلاصہ کلام ! یہ جمہور اہل سنت و الجماعت کا قول ہے۔اگرپہلا قول حق ہے تو ان کا ہی قول ہے ۔اور اگر اس کے برعکس ہے تو پھر بھی قول حق و صواب ان کے پاس موجود ہے ۔ پھر اس شیعہ سے یہ بھی کہا جائے گا کہ : جمہور اہل سنت و الجماعت ان مسائل کا انکار کرتے ہیں ۔اور ان کے کہنے والوں پر ایسے دلائل اور حجتوں سے رد کرتے ہیں جنہیں امامیہ نہیں جانتے ۔

[اہل سنت پر کتے اور لونڈے بازی کی حلت کا الزام اور اس پررد: ]

[ اعتراض]:شیعہ مصنف کہتا ہے :[اہل سنت کے ہاں ]’’کتے کا گوشت کھانا مباح ہے؛غلام کیساتھ لواطت مباح ہے باجے گاجے اور ساز وغیرہ اسباب غفلت مباح ہیں ۔انکے علاوہ بھی ایسے مسائل ہیں جن کے بیان کا موقع یہ نہیں ہے ۔‘‘

[جواب]: تمام اہل سنت کی طرف منسوب کرکے یہ قول نقل کرنا؛ اورایسے ہی اس قول کو جمہور کی طرف منسوب کرنا بھی جھوٹ ہے۔بلکہ اس پیرائے میں بعض ایسے جملے موجود ہیں جو خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے ماننے والوں نے کہے ہیں ۔اور بعض ان پر جھوٹ اور بہتان ہیں ان میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کہے۔جو جملے بعض لوگوں نے کہے ہیں جمہور اہل سنت و الجماعت نے ان کا انکار کیا ہے ‘ [اور اس پر سختی سے رد کیا ہے ] اور وہ اس گمراہی پر یک زبان نہیں ہوئے[وللہ الحمد ]۔ 

پھر اس کے برعکس بہت سے برے اور شنیع اقوال شیعہ مذہب میں موجود ہیں جو کہ کتاب و سنت اور اجماع کے خلاف ہیں ؛ جو کسی بھی دوسرے مسلمان گروہ میں موجود اقوال سے بڑھ کر برے اور گندے ہیں ۔اہل سنت والجماعت کےکسی بھی گروہ میں کوئی ایسا ضعیف قول نہیں پایا جاتا جس سے بڑھ کر ضعیف اور شنیع قول شیعہ مذہب میں موجود نہ ہو۔

صفحہ 6 از 9