فصل: ....بعض فقہی مسائل پر شیعہ کی تشنیع - ردِ رافضیت |…

فصل: ....بعض فقہی مسائل پر شیعہ کی تشنیع

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 9

شیعہ مضمون نگار کی بوالعجبی ملاحظہ کیجئے کہ وہ کہتا ہے:’’ نشہ میں مشترک ہونے کے باوجود نبیذکو مباح کہتے ہیں ۔‘‘

ابھی تو وہ قیاس سے انکار کر رہا تھا؛ اور ابھی قیاس کی مدد سے نبیذ کے بارے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے خلاف حجت پیش کررہا ہے ،اگر قیاس حق ہے تو اس کا انکار باطل تھا ۔ اور اگر قیاس باطل تھا تو اس کی حجت باطل ہوگئی ۔ اس کے بجائے اگر حدیث : ’’ کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٍ وَکُلُّ خَمْرً حَرَامٌ ‘‘[صحیح مسلم کتاب الاشربۃ۔ باب بیان ان کل مسکر خمر، (ح:۷۵؍۲۰۰۳)۔]سے استدلال کیا ہوتا تو یہ زیادہ بہتر تھا۔

رہا نبیذ سے وضوء کا مسئلہ ؛تو جمہور علماء اس کا انکار کرتے ہیں ۔امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں ۔ اس بارے نے آپ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جو اس باب میں نقل کی گئی ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے: ’’ تمرۃ طیبۃ و ماء طہور ۔‘‘ 

’’کھجور پاکیزہ پھل ہے ‘ اور اس کا پانی پاک ہے ۔‘‘[فِی: سننِ أبِی داود:۱؍۵۴؛ ِکتاب الطہورِ، باب الوضوئِ بِالنبِیذِ، ونصہ عن عبدِ اللہِ بنِ مسعود أن النبِی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لہ لیلۃ الجن: (( ما فِی إِداوتِ؟ قال: نبِیذ۔ قال: تمرۃ طیِبۃ وما طہو۔ والحدِیث فِی سننِ التِرمِذِیِ:۱؍۵۹؛ کتاب الطہورِ، باب ما جا فِی الوضوئِ بِالنبِیذِ، وقال التِرمِذِی: وإِنما روِی ہذا الحدِیث عن أبِی زید عن عبدِ اللہِ عنِ النبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، وأبو زید رجل مجہول عِند أہلِ الحدِیثِ لا تعرف لہ رِوایۃ غیر ہذا الحدِیثِ، والحدِیث أیضاً فِی سننِ ابنِ ماجہ:۱؍۱۳۵؛ ِکتاب الطہارۃِ وسننِہا، باب الوضوئِ بِالنبِیذِ۔]

جمہور اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں : اگریہ حدیث صحیح بھی ہو تب بھی آیت ِ وضوء اور آیت ِ تحریم خمر سے منسوخ ہوچکی ہے۔حالانکہ اس بات کا احتمال ہے کہ ابھی وہ نبیذ نہ بنا ہو؛ بلکہ پانی ہی ہو۔اور یہ اس وقت ہوگا جبپانی اپنی اصلیت پر باقی ہو؛ اس میں تبدیلی نہ ہوئی ہو۔یا تھوڑی بہت یا زیادہ تبدیلی ہوئی ہو؛ مگروہ پھر بھی ان علماء کے مطابق پانی ہی شمار ہوتا ہو جو ملاووٹ شدہ پانی سے وضوکو جائز کہتے ہیں ۔

جیسے باگلہ کا پانی؛ اور چنے کا پانی اور اس طرح کے دیگر پانی۔ یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مسلک ہے؛ اور احمد احمد رحمہ اللہ سے بھی اکثر روایات میں یہی منقول ہے۔ یہ قول دوسرے کی نسبت حجت میں زیادہ قوی ہے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے:﴿ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآئً ﴾ (النِسائِ:۳۳) ’’اور تم پانی نہ پاؤ۔‘‘اس جملہ میں نفی کے سیاق میں لفظ ’’مائً‘‘نکرہ آیا ہے جو کہ ان تمام پانیوں کو شامل ہے جو ان میں پاکیزہ چیزیں ملنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔ جیسا کہ یہ ان پانیوں کو بھی شامل ہے جو اپنی اصل خلقت کے اعتبار سے بدلے ہوئے ہوں ۔ یا پھرجن پانیوں کی حفاظت ممکن نہ ہو؛ کیونکہ لفظ ان تمام پانیوں کو شامل ہے۔ جیسا کہ سمندر کے پانی سے وضوء کرنا جائز ہے۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں گے، کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ اس کا پانی بذات خود پاک اور دوسرے کو پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے۔‘‘

امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔[سنن الترمذی، الطھارۃ ۲۵ [۹۶]، سنن النسائی، الطھارۃ ۷۴ ، سنن ابن ماجہ، الطھارۃ ۸۳ ۶۸۳۔ موطا امام مالک ، الطھارۃ ۳ [۲۱]، مسند احمد :۲؍۷۳۲،سنن الدارمی, الطھار۳۵ [۵۵۷] صحیح۔]

پس سمندری پانی پاک ہے؛ حالانکہ وہ انتہائی درجہ کا نمکین ؛کڑوا اور کسیلا ہوتا ہے۔ پس جو پانی پاکیزہ چیزوں سے بدل جائے؛ اس کی حالت اس سے بہتر ہوتی ہے۔ لیکن یہ تبدیلی اصلی ہے؛ اور وہ لاحق ۔

کتے کا چمڑا اوردباغت کا مسئلہ :

رہا کتے کے چمڑے میں نماز کا مسئلہ ؛ توامام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اسے اس شرط کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں کہ چمڑے کو دباغت دی گئی ہو۔ علماء کی ایک جماعت کا یہی خیال ہے ۔آپ اس مسئلہ میں منفرد نہیں ہیں ۔ان کی دلیل یہ حدیث نبوی ہے :

((اَیُّمَا إِہَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَہُرَ)) [صحیح مسلم۔ کتاب الحیض۔ باب طہارۃ جلود المیتۃ بالدباغ(ح:۳۶۶) سنن ترمذی۔ کتاب اللباس ۔ باب ما جاء فی جلود المیتۃ اذا دبغت،(ح:۱۷۲۷) واللفظ لہ....] (جو چمڑا بھی رنگا جائے وہ پاک ہوجاتا ہے )۔[ عموم حدیث کے پیش نظر کتے کا چمڑا بھی دباغت سے پاک ہوجاتا ہے]

یہ مسئلہ اجتہادی ہے۔یہ ان شنیع مسائل میں سے نہیں ہے۔ اگر اس کے منکر [شیعہ] سے اس کی حرمت کی قطعی دلیل طلب کی جائے تو بتا نہ سکے گا۔بلکہ اگر اس سے کتے کے حرام ہونے پر دلیل طلب کی جائے ؛ تاکہ امام مالک رحمہ اللہ سے منقول ایک قول پر رد کیا جا سکے۔اس لیے کہ امام مالک اپنے ایک قول میں کتے کو مکروہ قراردیتے ہیں ؛ حرام نہیں کہتے۔ تواس کا رد کرنا رافضی کے بس کی بات نہ ہوگی۔حالانکہ صحیح بات جس پر جمہور علمائے کرام رحمہم اللہ کا مذہب یہی ہے کہ کتے اور باقی درندوں کا چمڑا دباغت دینے سے پاک نہیں ہوتا۔اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی ایک اسناد کے ساتھ منقول ہے کہ:

’’ آپ درندوں کے چمڑوں کو دباغت دینے سے منع فرمایا کرتے تھے۔‘‘[سننِ أبِی داود:۴؍۹۶؛ کتاب اللِباسِ،باب ما جاء فِی جلودِ النمورِ والسِباعِ، سننِ التِرمِذِیِ:۳؍۱۵۲؛ ِکتاب اللِباسِ، باب ما جاء فِی النہیِ عن جلودِ السِباع، سننِ النسائِیِ:۷؍۱۵۶؛ ِکتاب الفرعِ والعتِیرِۃ، باب النہیِ عنِ الِانتِفاعِ بِجلودِ السِباع ، المسندِ ط۔ سننِ النسائِیِ:۷؍۱۵۵؛ کتاب الفرعِ والعتِیرِ، باب الرخصِ فِی الِاستِمتاعِ بِجلودِ المیتِ إذا دبِغت۔ ]

رہ گیا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:

((اَیُّمَا إِہَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَہُرَ )) ’’جو چمڑا بھی رنگا جائے وہ پاک ہوجاتا ہے ۔‘‘

صفحہ 4 از 9